برباد حال روہنگیا پناہ گزینوں کی قابل رحم زندگی ایک افسوسناک منظر

 

سچ بول دوں۔۔۔۔میم ضاد فضلی
میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کی مشکلات اوران پر برما حکومت کی منظم ظالمانہ کاروائی کو دیکھتے ہوئے بھی اقوام متحدہ کیوں اندھا بناہوا ہے؟ اس کی زبان پر کس نے تالے ڈال رکھے ہیں ،جبکہ امریکہ نے بھی برما حکومت اور میانمار فوج کی دہشت گردی کی مذمت کی ہے ،ایسے میں اقوام متحدہ کو فوری کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ورنہ ہزاروں بوڑھے، خواتین اوربچے اوربے گناہ عوام کو وہاں کی فوج کو مار ڈالے گی۔یہ عجیب وغریب تماشہ اور ظلم کی ایک طویل داستان نویسی ہے جس پر ساری تما شائی بنی ہوئی ہے اور کوئی ہونٹ کھولنے کوراضی نہیں ہے۔ایک طرف میانمار کی ظالم فوج ان نہتے روہنگیا کو کھدیڑ رہی ہیتو دوسری جانب بنگلہ دیشی فوج یہاں اپنی جان بچانے کیلئے آنے ستم زدہ لوگو ں پر بندوق تان دیتی ہے ۔حکومت ہند بھی روہنگیا پناہ گزینوں کوواپس گھر بھیجنے کی ضد پر اڑی ہوئی ہے حتیٰ کہ اس نے اس معاملے عدالت عظمیٰ کے ساتھ بھی جارحیت کارخ اپنا لیا ہے۔ یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوسکتے ہیں۔جبکہ ایک بھی روہنگیا پناہ گزین کے خلاف کوئی بھی مجرمانہ ایف آئی آر کہیں بھی درج نہیں ہے،لہذا حکومت ہند کا یہ رویہ انتہائی افسوسناک اور غلط ہے۔سوال یہ ہے کہ جب انہیں بے دریغ قتل کیا جائے گاتو کیا وہ مزاحمت نہیں کریں گے؟ اسی وجہ سے اقوام متحدہ چاہتا ہے کہ ان پناہ گزینوں کے مسئلے کے حل تک انہیں ہندوستان میں پناہ لینے کی اجازت حاصل ہونی چاہئے۔اگرچہ اس مسئلے پر آنگ سان سوچی کی خاموشی بھی مجرمانہ اورظلم کی طرفدار معلوم پڑتی ہے۔دریں اثنا مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے حلفنامہ میں کہا ہے کہ میانمار کے روہنگیا پناہ گزین انڈیا کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور انہیں ملک بدر کرنے کا فیصلہ حکومت کے اوپر چھوڑ دیا جانا چاہیے۔حکومت نے یہ بیان روہنگیا پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے اپنے فیصلے کے دفاع میں دیا ہے۔
میانمار میں روہنگیا باشندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران انڈیا کی حکومت نے چند ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ ملک میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کو ملک بدر کر رہی ہے ،لیکن حکومت کے اس فیصلے کو دو پناہ گزینوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ رو ہنگیا پناہ گزیں خفیہ ایجنسیوں سے معلوم ہوا ہے کہ بعض روہنگیا پناہ گزین پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں اور وہاں کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے رابطے میں ہیں’جس کے سبب وہ ملک کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔‘حالا نکہ یہ حکومت ہند کا صرف دعویٰ ہے ،البتہ حکومت کے پاس اس بات کا ایک ثبوت نہیں ہے جس سے معلوم ہوتا ہوتا ہو کہ دنیا بھرکے ستائے ہوئے یہ روہنگیا پناہ گزین جن میں صرف مسلمان ہی نہیں ،بلکہ بنگالی بولنے والے ہندو بھی شامل ہیں وہ سب کے سب دہشت گردی کی جانب مائل ہوسکتے ہوں۔ابھی دوروز پہلے ہی بلبھ گڑھ کے ایک تھانہ کے ایس ایچ او نے ان پناہ گزینوں کے بارے میں میڈیا والوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لوگ تقریباً2012سے ہی یہاں رہ رہے ہیں ،مگر اب تک ان کے خلاف ایک بھی مجرمانہ معاملہ درج نہیں ہے اور کوئی معمولی واردات میں بھی یہ پولیس کو مطلوب ہیں۔خیال رہے کہ یہ ایک پولیس افسر کی شہادت ہے ،جس کے بعد یہ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ روہنگیا پناہ گزین جو صرف اپنی جان بچانے کیلئے ہندوستان آئے ہیں اور اپنے ملک کے حالات کے معمول پر آنے کے منتظر ہیں وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث بھی ہوسکتے ہیں ۔ساتھ آج حکومت ہند چما کے ایک لاکھ لوگوں کو برسوں سے پناہ گزیں کے طور پر رہ رہے تھے ،اب مرکزی حکومت انہیں شہریت دینے کی تیاری کررہی ہے ،حالانکہ اروناچل پردیش کی ریاستی حکومت اس کی مخالفت کررہی ہے۔علاوہ ازیں پاکستان سے آئے ہوئے ہزاروں پناہ گزینوں سے ملک کو کیسے خطرہ نہیں ہے،جبکہ کئی بار ان کی مشتبہ سرگرمیاں بھی سامنے آ چکی ہیں۔اسی طرح تبت کے ہزاروں بودھسٹوں کو حکومت ہند نے پناہ دے رکھی ہے ،ان کی ہمدردی ہمیشہ نیپالی ماونوازوں کے ساتھ رہتی ہے ،اس کے باوجود حکومت کی حمایت انہیں ملی ہوئی ہے۔
افسوس ناک بات یہ ہے کہ حکومت ہند نے جس لہجہ میں عدالت عظمیٰ سے بات کی ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ عدالت کا جبراً منہ بند کرنا چا ہتی ہے۔حکومت نے کہا ہے کہ یہ ملک کی سلامتی کا مسئلہ ہے،لہذا عدالت کو اس میں ٹانگ نہیں اڑانی چاہئے۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here