تباہ حال سیلاب زدگان کے لیے بہار سرکاربنیادی او ر ضروری قدم اٹھائے: مولانا محمود مدنی 

0
638
ریاست بہار کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں سیع پیمانے پر عالمی شہرت کی حامل مسلم رفاہی تنظیم جمعیۃ علمائ ہند کے جنرل سکریٹری متاثرین کے درمیان ریلیف تقسیم کرتے ہوئے ۔خیال رہے گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصہ سے سیلاب متاثرہ علاقے جمعیۃ علما کے سیکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی کی سربراہی میں مقامی اور مرکزی جمعیۃ کے ذمہ داران اور رضا کار امدادی کاموں میں مجاہدانہ کردار ادا کر رہے ہیں ۔۔۔۔فوٹو میم ضاد فضلی
مولانا محمود مدنی کی قیادت میں جمعےۃ کے ایک وفد نے سیلاب متاثرہ علاقہ کا دورہ کیا ، ایک بیوہ خاتوں کو تعمیرہ کردہ مکان کی چابی سونپی ، ایک یتیم کے لیے مکان کی بنیاد رکھی ، تمام اضلاع میں دس دن کے اندر سروے مکمل کرنے کے لیے پچیس ٹیم
تشکیل دی گئی ۔ 
کشن گنج؍نئی دہلی:۲۴؍ ستمبر: بہارسیلاب متاثرین کے لیے روز اول سے کام کرنے والی تنظیم جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی قیادت میں ایک وفد نے آج سیمانچل اور شمالی دینا ج پورکے سیلاب زدہ علاقے کا دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کر کے دکھ درد بانٹنے کی کوشش کی ۔ اس موقع پر مولانا مدنی نے جمعےۃ کی جانب سے اب تک مختلف اضلاع میں بنائے گئے 74؍مکانات کا جائزہ لیا اور لہریا پھلواری کشن گنج میں ایک بیوہ خاتون کو گھر کی چابی دے کر اِن مکانات کا افتتاح کیا ۔مولانا مدنی نے لہریا میں ہی ایک یتیم بچے کے لیے پختہ مکان کا سنگ بنیاد بھی رکھا اور بچے کے سر پر ہاتھ کر اعلان کیا کہ جمعےۃ اس یتیم کی مکمل کفالت کرے گی ، واضح ہو کہ اس بچے کی ماں گزشتہ سال سیلاب کی زد میں آکرگزرچکی ہے، اس سال کے سیلاب نے اس معصوم سے اس کا بچا ہوا ایک آشیانہ بھی چھین لیا ۔ تاہم مولانا مدنی نے جمعےۃ علماء بہار ریلیف کمیٹی کو اس بات کی ہدایت دی کہ گھر کے ساتھ ٹوائلٹ بھی بنایا جائے ۔انھوں نے کہا کہ کوئی گھر اور معاشرہ ٹوائلٹ کے بغیر ادھورا اور غیر شائستہ ہے ۔ مولانا مدنی نے آج صبح کشن گنج کے کمار مونی گاؤں کا بھی دورہ کیا ، جہاں پورا گاؤں تالاب میں بدل گیا ہے ۔اس گاؤں میں 63؍خاندان رہتے ہیں ۔یہاں “جمعےۃ نگر” کے نام سے کالونی بنائی جائے گی ، مولانا مدنی نے دیناج پور کے ڈائٹن گاؤں کا بھی دورہ کیا ۔
ازیں قبل مولانا محمود مدنی سنیچر کی شام دہلی سے کشن گنج پہنچے، ان کے ہمراہ جمعےۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی بھی تھے۔ مولانا مدنی نے فوری طور سے سیمانچل کے چاروں اضلاع اور شمالی دیناج پور کے ذمہ داروں سے ایک اہم میٹنگ کی جس میں ایک ماہ سے چل رہے ریلیف آپریشن کا جائزہ لیا اور جمعےۃ علماء بہار ریلیف کمیٹی کو ہدایت کی کہ دس دن کے اندر متاثرین کاایک جامع سروے مکمل کیا جائے ، اس کے لیے سبھی اضلاع میں پانچ پانچ ٹیم بنانے کی بھی ہدایت دی ، سروے میں خاص طور سے یتیم ، بیوہ اور معذور افراد کی نشاندہی کی جائے۔مولانا مدنی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سروے کے مطابق روڈمیپ تیار کرکے جمعےۃ علماء ہند حتی الوسع اپنی جانب سے بازآبادکاری کرے گی اورسرکاری سطح پر بھی ان کو معاوضہ دلانے کی بھی کوشش کی جائے گی۔
حالاں کہ مولانا مدنی نے سرکار کی جانب سے جاری راحت آپریشن کی سست روی پر سوال اٹھا یا کہ سیمانچل کی ایک چوتھائی آ بادی نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے ، ایسی صورت میں محض پانچ سو کروڑ کی امداد اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے ۔انھوں نے بہار سرکار کو متوجہ کیا کہ وہ شترمرغ کی طرح ریت میں سر چھیا کر نہ بیٹھے بلکہ لوگوں کو گھر اور روزگار فراہم کرنے کے لیے ضروری اور بنیادی قدم اٹھائے۔
مولانا مدنی نے جمعےۃ علماء کھرگون ( مدھیہ پردیش ) اور جمعےۃ علماء احمد آباد کی رکھیال یونٹ کے تعاون سے بالترتیب پچاس اور چودہ مکانات کی تعمیر اور متاثرین کی حوالگی پر اطمینان ظاہر کیا ۔ اس موقع پر مولانا مفتی جاوید اقبال قاسمی کنوینر جمعےۃ علماء بہار ریلیف کمیٹی نے مولانا مدنی کو ایک رپورٹ پیش کی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمار مونی گاؤں میں جمعےۃ علماء ہند کی کوششوں سے ضلع انتظامیہ نے زمین بھرنے کام شروع کردیا ہے ۔
جمعےۃ ریلیف کمیٹی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ارریہ میں مزید آٹھ مکانات کی تعمیر جاری ہے ۔ راحت رسانی کے عنوان سے جمعےۃ علماء ہند نے سیمانچل اور شمالی دیناج پورکے589؍گاؤں میں ریلیف کا کام کیا ہے ، جن میں اب تک2 36,43کٹس تقسیم کیے گئے ہیں ۔ان کے علاوہ جمعےۃ علماء بنار س ،مؤاوراعظم گڑھ سے 20 ہزار نئی ساڑیاں، مختلف مقامات سے در آمد 20 ہزار جوڑے ، جمعیۃ علماء رکھیال احمد آباد کی طرف سے 100؍ کچن سیٹ ،68؍ چینی مٹی کے پلیٹ ، گجرات کے مختلف مقامات سے ضلع پورنیہ میں 35 بنڈل پرانے کپڑے، جمعےۃ علماء سلطان پور کی جانب سے 180 کوئنٹل غلہ وغیرہ بھی تقسیم کیے گئے ۔
جمعےۃ علماء ہند کے وفدمیں مذکورہ شخصیات کے علاوہ مولانا محمد ناظم جنرل سکریٹری جمعےۃ علماء بہار، مولانا غیاث الدین قاسمی،مفتی محمد مناظر نعمانی،مفتی عبدالحنان قاسمی ، مولانا خالد انور، ارریہ سے الحاج بذل الرحمن، مفتی اطہر قاسمی،ڈاکٹر عابد،مولانا حدیث اللہ،پورنیہ سے مولانا امتیاز،مولانا ابوصالح،کٹیہار سے مفتی نجم الہدی،مولانا بدرالدجی،اتردیناج پور سے مولانا معروف،قاری عبداللہ،مولانا نوید وغیرہ شریک تھے ۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here