✴ … وہ شـــامل ہے ظلـــم میــں✴

0
389

ان دنوں برقی ذرائع ابلاغ پر استاذ محترم حضرت مولاناسید سلمان حسینی ندوی(رفعه الله إلى المعالي ودفع عنه الشروروالغوالي) کے حالیہ دورۂ عمان کے خطاب کو لے کرایک کہرام سابپاہے، ایسالگتاہے کہ مولانا کے اس خطاب سے ایک طبقے کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں، اسے کسی پل قرار نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس خطاب کے نشرہوتے ہی بدزبانی و دریدہ دہنی، سفاہت ورذالت اور دناءت وخساست کاوہ غیرانسانی اور طویل سلسلہ شروع ہواکہ شرافت کاوجود ہی جیسے ڈکشنری سے غائب ہوگیا:

وإذاأتتك مذمتي من ناقص
فهي الشهادة لي بأني كامل

اس میں کوئی شک نہیں کہ استاذ محترم کے اس دعوتی دورے سے خرمن باطل پر بجلیاں گری ہیں، اوریہ خطاب اسلام بیزاروں کے لیے غازی کی تلوار اور مجاھد کی للکارسے کم ثابت نہیں ہوا، یہ خطاب جہاں غافل وظالم حکم رانوں اور ان کے چشم ابرو کے اشاروں پر جینے والوں کے لیے تازیانہ ثابت ہوا، وہیں استاذ محترم کے حق میں دعوت وعزیمت، جرأت وبے باکی اور کلمۃ حق عندسلطان جائر کاناقابل فراموش ورق بھی تاریخ نے محفوط کرلیا، سچ ہے :

آئین جواں مرداں حق گوئی وبے باکی
اللہ کے شیــــروں کوآتی نہیں روباہی

عالمی منظرنامے پر جن کی نگاہ ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج پوری کافرانہ برادری امت مسلمہ کے خلاف اپنے تمام تراختلافات کو پس پشت ڈال کرمتحد ہوچکی ہے، اور متحدہ محاذ بناکر امت کی نسل کشی میں مصروف ہے، اور حیف صدحیف کہ اپنی شاطرانہ چالوں سےاپنےاس مجرمانہ اور ظالمانہ کام کی تکمیل میں قوم مسلم کی نمائندگی کرنے والے ظالم وجابر اور مفادپرست حکمرانوں کو اپنے ساتھ ملارکھا ہے، تف ہے ایسے نادان، بے غیرت وبے حس بلکہ اسلام دشمن اور فکرمغرب کے اسیر حکم رانوں پر !! جنھیں قول خدااورقول رسول کاتوپاس نہیں؛ البتہ اپنے مغربی آقاؤں کو خوش کرنے اور خوش رکھنے کی بڑی فکرہے ـ کیاایسے نامعقول حکمرانوں کااحتساب کرنا اور ان کو بیدارکرنا، ان کی غیرت وحمیت کوللکارنا امت کے علماکافرض نہیں؟ اگر ہےاور یقیناہےتواستاذم​حترم نے اپنافریضہ اگراداکیا ہےتویہ واویلاکیوں؟ اگرآئینہ دکھایاتو براماننے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ـ
بہت سے لوگوں کو خطاب سے نہیں اسلوب خطابت سےشکایت ہے، ان کاکہنا ہے کہ اس خطاب میں نصح وخیرخواہی سے زیادہ شدت وجذباتیت اور عناد وتعصب کارنگ غالب ہے ـــــــــ اولاتو یہ خیال ہی غلط ہے، جن لوگوں نے مولانا کامفصل بیان سنا ہے یقینا وہ اس خیال کی تردید کریں گے ــــــ ثانیا اگر ہم مان بھی لیں توبھی اسے تسلیم کیے بغیرچارہ نہیں کہ دواہمیشہ مرض کے مطابق اور مناسب ہی دی جاتی ہے، اگر مرض ایسا ہے جس میں کڑوی دواہی نافع اور صحت بخش ہوسکتی ہوتو کڑوی دوادینا یہ طبیب ومعالج کانہ صرف فرض ہے، بلکہ مریض کے ساتھ ہمدردی اور انصاف بھی …… ابھی جو عالمی صورت حال ہے اس میں میٹھی دوادینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ ابھی کام سوتوں کو صرف جگانے کانہیں، انھیں میدان عمل میں اتارنے کا ہے، ایسے میں ان سے میٹھی میٹھی باتیں کرنا اور انھیں خواب آورگولی دینا مصلحت کے بھی خلاف ہے، ساتھ ہی ایک داعی اور فرض شناس عالم کے منصب سے بھی میل نہیں کھاتا:

ظالم کو جو نہ روکے وہ شامل ہے ظلم میں
قاتل کــو جو نہ ٹوکے وہ قاتل کے ساتھ ہے

میں سمجھتاہوں استاذ محترم پوری دنیامیں اس وقت ان چند خوش نصیب افراد میں سے ہیں جنھوں نے احقاق حق اور ابطال باطل کو اپنامشن بنارکھا ہے، جو صلہ وستائش کی تمناسے بے نیاز ہوکر اور کسی ملامت گر کی ملامت کی پروا کیے بغیر اپنے فریضے کی ادائیگی میں مشغول ہیں، بلکہ اپنی جان کی بازی لگاکر اپنے اور بیگانے کی کے نشانے پر ہیں، آخر کیوں؟

کچھ سمجھ کرہی ہواہوں موج دریاکاحریف
ورنہ میں بھی جانتاہوں عافیت ساحل میں ہے

ہواکی زد میں چراغ جلائے رکھنا حوصلہ مندوں اور اپنے متعینہ نصب العین پر جینے اور مرنے والے کاہی جگر ہوسکتا ہے:

ہواہے گوتندوتیز لیکن چــــراغ اپناجلارہاہے
وہ مرددرویش حق نےجس کو دیے ہیں اندازخسروانہ

میں ایک شاگرد ہونے کی حیثیت سے نہیں؛ بلکہ امت مسلمہ کے ایک فرد ہونےکی حیثیت سے مولانا کے اس جرأتمندانہ اور برمحل خطاب کی تائید کرتا ہوں، ساتھ ہی صحت وعافیت اور فیض رسانی کے ساتھ ان کے حق میں درازی عمر کی دعاکرتاہوں ـ

والسلام مع الاکرام
محمدخالدضیا صدیقی ندوی
براہ علی گڑھ

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here