ملزمین کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل،جمعیۃ علمانے کیا اطمینان کا اظہار،سپریم کورٹ جائے گی جمعیۃ : مولا محمودنی مدنی

مولانا سید محمود اسعد مدنی
مولانا سید محمود اسعد مدنی

دہلی ۹؍ اکتوبر(نیا سویرا لائیو ڈاٹ کام) جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سیکریٹری مولانا محمود مدنی نے گودھرا ٹرین حادثہ میں۱۱؍ گیارہ لوگوں کی پھانسی کی سزا کو عمرقید سے تبدیل کرنے پر قدرے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یقیناًیہ فیصلہ جمعیۃ علماء ہند کی اس سلسلے میں کی گئی مسلسل کوششوں کے سبب کامیابی کی طرف بڑھتا ہوا ایک قدم ہے ۔چونکہ جمعیۃ علماء ہند شروع سے مانتی ہے کہ جس سازش تھیوری کی بنیاد پرسابرمتی ٹرین نذر آتش میں گودھرا کے لوگوں کو قید کیا خصوصا مولانا محمد حسین عمر جی جنہیں ماسٹرمائنڈ بنایاگیا تھا وہ پہلے ہی اس کیس سے باعزت بری ہوچکے ہیں اور باعزت رہائی کے بعد ان کا انتقال بھی ہو گیا ہے ۔اس لئے جس سازش تھیوری کی بنیاد پر اس کیس کو ڈیولپ کیا گیاوہ سرے سے ہی کئی طرح کے سوالات کے گھیروں میں رہااس لئے جمعیۃ علماء ہند مسلسل اس کیس میں اول دن سے فریق رہی ہے اور وہ افراد جو بلا وجہ اور محض شبہ کی بنیاد پر گرفتار کئے گئے تھے ان کے لئے یہ مقدمہ لڑرہی تھی۔آج گجرات ہائی کورٹ کی جانب سے آئے اس فیصلے سے جمعیۃ علماء ہند قدرے مطمئن ہے تاہم جمعیۃ علماء ہند یہ مانتی ہے کہ جو۱۱؍ بیس لوگ جنہیں نچلی عدالت میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی انہیں ہائی کورٹ نے حالیہ فیصلے میں عمر قید کی سزا سے تبدیل کردیا یہ ایک بہتر اور انصاف کی طرف بڑھنے والا قدم ہے۔جمعیۃ علماء ہند اسمیں مزید انصاف کے لئے سپریم کورٹ جائیگی اور جمعےۃ امید کرتی ہے کہ سپریم کورٹ میں ان حضرات کو بری کردیا جائیگا ۔ مولانامحمود مدنی نے کہا کہ چونکہ جس شازش تھیوری کی بنیاد پر یہ مقدمہ چلا یاگیا تھا وہ تھیوری ہی سرے سے خارج کردی گئی ہے جس طریقے سے مولانا حسین عمر جی کو ماسٹر مائنڈ بنا یا گیا اور وہ پہلے ہی باعزت بری ہوچکے ہیں۔نیزجمعیۃ علماء ہند قدرے اطمینان کے اظہار کے ساتھ ہی یہ بات بھی صاف کرتی ہے کہ جمعیۃ علما ء ہند ہر صورت میں مظلومین کی مدد کرتی رہے گی۔گجرات کے اس مقدمے میں جمعیۃ علماء ہند کی بڑی قربانی رہی ہے جہاں ایک طرف گجرات فساد کے بعد فسادات میں مار ے گئے اور تباہ حال لوگوں کے لئے جمعےۃ اول دن سے مقدمہ لڑرہی ہے وہیں جمعیۃ کی یہ کوشش ہے کہ فساد کے کسی بھی گوشے میں ایسے لوگ گرفتار نہ ہو ں جنکا ان فسادا ت سے کوئی تعلق نہیں۔جمعےۃ علماء ہند کے سیکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی جو اول روز سے اس کیس کی نگرانی میں مصروف رہے بتایا کہ آج ۹؍ اکتوبر کو گجرات ہائی کور ٹ نے ۲۷؍فر و ری ۲۰۰۲ء ؁ کے سابرمتی ٹرین نذر آتش کے الزام میں مسلم نوجوانوں کو ملزم بنا کر کے ایک عالم دین کو ماسٹر مائینڈ کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ ٹرائل کورٹ میں ۶۳؍ افراد بشمول مولانا محمد حسین عمر جی پہلے ہی باعزت بری ہوئے ،بیس لوگوں کو عمر قید کی سزا اور گیارہ لوگوں کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی اس کے خلاف جمعےۃ علماء ہند نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کیا تو حکومت گجرات نے ان ۶۳؍ باعزت بری ہونے والے افراد کے خلاف سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی سزا کو رد کر نے کا مطالبہ کیا تھا آج ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کر دیا کہ جتنے لوگ پہلے باعزت بری کئے جاچکے ہیں وہ بری ہی رہیں گے۔جمعےۃ علماء ہند کی جانب سے اس کیس کی مکمل بھرپور پیروی کرنے والی قانون دانوں کی ٹیم میں سینئرایڈوکیٹ اے ڈی شاہ، ایڈوکیٹ اقبال احمدسید،ایڈوکیٹ سومناتھ وٹس، ایڈوکیٹ عبدالرزا ق حسن سرفہرست ہیں جبکہ جمعےۃ علماء گجرات کے ذمہ داران باالخصوص ڈاکٹرپروفیسر نثار احمد انصاری (صوبائی ناظم اعلٰی) اس کیس کے لئے ہر طرح سے متوجہ رہ کر عدالت میں پیشی کی تاریخو ں پر پہنچتے رہے۔مولانا قاسمی نے سابرمتی ٹرین حادثے میں پھانسی کے سزا یافتہ ملزمین کی سزا عمر قید میں تبدیل ہونے جبکہ عمر قید والوں کی عمر قید برقراررہنے اور باعزت رہا ہوچکے افراد کے باعزت رہائی کی برقراری کے اس فیصلہ کوجمعیۃ علماء ہند کی بڑی کامیابی تصور کیا ہے۔واضح ہو کہ27 فروری 2002 کو گودھرا گجرات میں سابرمتی ایکسپریس ٹرین کے ایس ۶؍ کوچ کو نذرآتش کردیا گیا تھا جس کے الزام میں مسلم نوجوانوں کو منظم سازش کے تحت پھنسایا گیا اسکے فوری بعد جانشین شیخ الاسلام، امیر الہند فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحب نوراللہ مرقدہ (سابق صدر جمعیۃ علماء ہند) کے حکم اور حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی مدظلہ(ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند) کی بھر پورجدوجہد سے جیل کی سلاخوں میں ڈال دئیے گئے بے قصورملزمین کے مقدمات کی پیروی کے لیے پوری کوشش کی گئی الحمدللہ پہلے مرحلہ میں۶۳؍لوگوں کی باعز ت رہائی ہوئی تھی اسی کے سا تھ ٹرائل کورٹ نے 11؍ کو پھانسی اور 20؍ کو عمر قیدسنایا جس کے خلاف ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کی گئی تھی اس پٹیشن پر بحث کے بعد معزز ججوں نے ڈھائی سال پہلے ہی فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ آج 9 ؍اکتوبر 2017 بروز پیر معزز ججوں نے فیصلہ سناتے ہوئے پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے جبکہ عمر قید والوں کی عمر قید برقرار رکھا ہے ۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here