گؤ رکشکو ں کے حملے میں شہید عمر خاں کا مقدمہ لڑے گی جمعیۃ علماء ہند

0
633
عمر خان کے گاؤں پہنچا جمعیۃ علما ئےہند کا وفد
عمر خان کے گاؤں پہنچا جمعیۃ علما ئےہند کا وفد

مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے عمر کے اہل خانہ سے ملاقات کی ، مولانا مدنی نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ مذہبی جنو ن پر قد غن لگانے کے لیے سپریم  کورٹ کی ہدایت کے مطابق عملی اقدامات کرے۔ : مولانا سید محمود مدنی

نئی دہلی:۲۳؍ نومبر (نیا سویرا لائیو ڈاٹ کام) ملک کی اہم تنظیم جمعیۃ علماء ہند نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ضلع بھرت پورراجستھان میں گؤ رکشکوں کے حملے کے شکار مرحوم عمر خاں کا مقدمہ پوری طاقت سے لڑے گی ۔ آج  مولانا محمود مدنی جنرل سکریٹری علماء ہند کی ہدایت پر تنظیم کے اعلیٰ سطحی وفد نے گھاٹ میکا گاؤں پہنچ کر عمر خاں کے اہل خانہ بالخصوص غم زدہ والدین، بیوہ اور بچوں سے ملاقات کی اور ان کی بیوہ کی طرف سے موصول درخواست کی روشنی میں فیصلہ کیا کہ جمعیۃ علماء ہند اس مقدمہ کو عدالت اور عدالت سے باہر ہر سطح پر لڑے گی۔واضح ہو کہ ۱۰؍نومبر کو الور اور بھرت پور کے سرحد پر وین لے جاتے وقت گؤ رکشگوں نے محمد عمر اور اس کے ساتھیوں پر قاتلانہ حملہ کیا تھا جس میں عمر کی موت ہوگئی تھی ، عمر کی لاش دو دن بعد ایک ریلوے پٹری پر پائی گئی تھی ۔ اس سال میوات کے علاقے میں گائے کے نام پر ہونے والا یہ چوتھا حملہ ہے،اس سے قبل جنید اور پہلو خاں کو الگ الگ واقعات میں بے رحمی سے قتل کیا گیا تھا۔ جمعیۃ علماء ہند ہی وہ تنظیم ہے جو جنید خاں کا ہائی پروفائل کیس لڑرہی ہے ۔ محمد عمر کے معاملے میں بھی مقامی جمعیۃ بالخصوص مولانا محمدحنیف الور نائب صدر جمعیۃ علماء راجستھان شروع سے لگے ہوئے ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کے وفد سے ملاقات کے وقت عمر کی بیو ہ نے مولانا محمود مدنی صاحب کے نام ایک درد بھرا خط لکھا ہے ، جس میں اپنی غریبی اور9 یتیم بچوں ، سال خوردہ ضعیف والدین کے نہ رکنے والے آنسو کا ذکر کرتے ہوئے انصا ف کے لئے جمعیۃ سے قانونی مدد طلب کی ہے ۔وفد نے پایا کہ محمد عمر کا خاندان کافی غریب ہے اور اس حالت میں نہیں ہے کہ انصاف کے لیے لڑائی لڑ سکے ،اس کے والدین۸۰ سال کی عمر کو پار کرچکے ہیں جب کہ عمر کی بیوہ اپنے نو بچوں کے ساتھ مظلومیت اور بے بسی کی مجسمہ بنی ہوئی ہے ، عمر کی بیوہ نے حادثہ کے بعد ایک بچہ جنم دیا ہے۔ وفد نے ان کو تسلی دلائی اور صبر اور نماز کے ذریعہ اللہ سے دعاء مانگنے کی تلقین کی ۔جمعیۃ علما ء ہند کے وفد نے حملے میں دیگر زخمی ہوئے افراد محمد طاہراور جاوید کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کرکے مزاج پرسی کی ۔ جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے اس بات پر افسو س ظاہر کیا کہ اب تک نامزد ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے ۔ جمعیۃ علماء ہند نے اس بات کو ناپسند کیا کہ شہید محمد عمر سے متعلق پرانے کیسیز کو اٹھا کر پولس اور انتظامیہ اس سانحہ کو ہلکا کر نے کی کوشش کررہی ہے، جب کہ ان کیسیز میں اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے، پھربھی حوالہ دینے کے پس پشت کیا مقصد ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ جمعیۃ علماء ہند کے جنر ل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے عمر کے وحشیانہ قتل اور ملک میں مذہبی جنون کی وجہ سے پیش آرہے دیگر واقعات کے تناظر میں مرکزی وریاستی سرکاروں کو متوجہ کیا ہے کہ وہ خاموشی کو توڑ کر عملی اقدامات کو یقینی بنائیں ، خاص طور سے سپریم کورٹ کی ا س ہدایت کی پابندی کی جائے جس میں قاتل بن رہے گؤ رکشکو ں پر قد غن لگانے کے لیے الگ سے نوڈل افسران مقرر کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ بھرت پور جانے و الے جمعیۃ کے وفد کی سربراہی مولانا محمد یحیے کریمی صدر جمعیۃ علماء ہریانہ ،پنجاب و ہماچل نے کی ، جب کہ مرکز سے مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء ہنداور محمد نوراللہ ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ،میوات سے مولانا حنیف الور، مولانا شاہ عبدالمجید ، مولانا عبدالرحمن ، مولانا قاری محمد علی، مولانا محمد ارشد، قاری ناظر الحق وغیرہ شریک تھے ۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here