القدس پر امریکی  فیصلہ عدل وانصاف کے منافی:جمعیۃ علمائے ہند 

0
211
مولانا سید محمود اسعد مدنی
مولانا سید محمود اسعد مدنی

امریکی صدر کے ذریعہ القدس کو اسرائیلی دارالحکومت قراردینےاور وہاں ایمبیسی منتقل کرنے کا حالیہ فیصلہ عدل وانصاف کے منافی ہے -اس کا مقصد اسرائیل کے ناجائز طریقے سے القدس پر قائم تسلط کو جواز فراہم کرنا ہے۔اس فیصلے سے مشرق وسطی سمیت پوری دنیا میں عالمی امن کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

دنیا یہ بخوبی جانتی ہے کہ  القدس میں مسلمانوں کا قبلہ اول ” مسجد اقصی “‘ موجود ہے جوپوری امت مسلمہ  کے لیے جان و ما ل سے زیادہ عزیز ہے- یہ وہ مسجد ہےجہاں شب معراج میں جنا ب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاء کرام کی امامت فرمائی تھی، القدس وہ شہر ہے جو بیشتر انبیاء کرام کا وطن اور دین ہدایت کا مرکز  رہا ہے- اس لیے امریکہ کے اس فیصلے سےمسلمانوں کاہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کا دل دکھا ہے-

اس کے علاوہ امریکہ نے  اپنے فیصلے سے ظالمانہ طور سے القدس ( یروشلم ) پر اسرائیل کےناجائزقبضے  کو درست ٹھہرانے کی کوشش کی ہے- اسرائیل جس نے تمام بین الاقوامی قراردادوں کو پیروں تلے روندتے ہوئےشہر القدس اور مسجد اقصی پر قبضہ کر رکھا ہے،اتنا ہی نہیں اس نے فلسطین کیلئے مختص 60 فیصدرقبے  پرغیر قانونی تسلط جما کر سات لاکھ سے زائد مقامی فلسطینی باشندوں کو اپنے آبائی گھروں سے نکال دیا جو آج بھی در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں،اس کے علاوہ اس نے گزشتہ پچا س برسوں میں مسجد اقصی کو نیست ونابود کرنے کی کوئی سازش   نہیں چھوڑی- اسرائیل نے موقع بموقع مسجد اقصی کے پرامن نمازیوں ، بچوں ، عورتوں پر گولیاں برسائیں ،  ائمہ کرام کو مارا پیٹا- اسرائیل کی ظالم فوج مسجد اقصی میں جوتوں سمیت گھس کر اس کے منبر ومحراب یہاں تک قرآن پاک کو قدموں تلے روندتی رہی اور اس سلسلے میں اس نے کسی کی بھی پرو ا نہیں کی- آج  امریکہ نےاس شہر القدس کو اسی ظالم اور دہشت گرد ملک اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرکے ان ہزاروں زخموں کوہراکردیا ہے-

القدس  میں انسانیت کے قاتل کو امریکہ نے یک طرفہ طور سے جائز ہونے کا سرٹیفیکٹ دے کر نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ پورے عالم کو حیران وپریشان کردیا ہے  یہاں تک کہ وہ ممالک جو امریکہ کے حلیف مانے جاتے ہیں وہ بھی انگشت

یروشلم (شہر القدس) کا فضائی منظر۔۔۔
یروشلم (شہر القدس) کا فضائی منظر۔۔۔

بدنداں ہیں اور امریکہ کے اس فیصلے کی کھل کر مخالفت کررہےہیں– 19دسمبر 2017 کوتو حد ہو گئی جب امریکہ نے پوری دنیا بالخصوص پوری  امت کی مخالفتوں کی پرو اکیے بغیر یواین کی سلامتی کونسل میں فیصلہ واپس لینے کی تجویز کوویٹو( خارج ) کردیا – حالاں کہ امریکہ کے ساتھی ممالک یہاں تک کہ فرانس ، انگلینڈ سمیت تمام ممالک نے اس تجویز کی حمایت کی –جان لیجئے یہ وہ ممالک ہیں جنھوں نے اسرائیل کو وہاں بسایا تھا –انھوں نے ہی ظالمانہ طور سے فلسطینیوں سے ان کا حق چھین کر صیہونیوں کو جگہ دی تھی مگر آج وہ بھی اس ظلم کے خلاف کھڑے ہوگئے ہیں –  اس ظلم کے خلاف یہودی رہنماوں نے بھی سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا ہے- مشرق ومغرب میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں پر بلاتفریق مذہب لوگ کھڑے نہ ہوئے ہوں- چوں کہ یہ فیصلہ نہ صرف مسجد اقصی کو نیست و نابود کرنے کی راہ آسان کرے گا بلکہ فلسطیینوں کی سرزمین پر ایک ظالم کے قبضے پر ابدی مہر لگ جائے گا- انھیں احساسات کے ساتھ جمعیۃ علماء ہند یوم جمعہ ( 22دسمبر )  ملک گیر سطح پر’’ یوم دعاء وپرامن احتجاج ‘‘منعقد کررہی ہے ۔  جمعیۃ نے پوری امت اسلامیہ ہند سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے شہراور قصبہ کی مساجد میں خصوصی دعاوں کا ا ہتمام کریں اور بعد نماز جمعہ مناسب جگہ پر ‘پرامن احتجاج ‘منعقد کریں-ہندستان کے  صرف مسلمان ہی  نہیں بلکہ برادران وطن بھی فلسطینیوں کے درد کو سمجھتے ہیں- ہمارے ملک کے رہنماوں نے ہمیشہ اسرائیل کے ظالمانہ عمل کی مخالفت کی ہے – اس لیے ہم متفقہ طور سے یہاں مطالبہ کرتے ہیں کہ : 1-   امریکہ بین الاقوامی برادری کے متفقہ احتجاج و مخالفت کے مدنظر اپنا فیصلہ فوری طور سے  واپس لے –..2-   امریکہ یہ بہتر طریقے سے سمجھ لے کہ القدس سے مسلمانوں کا رشتہ مذہبی ، دینی اور اخوت پر مبنی ہے – اس کے فیصلے سے ان کے جذبات متاثر ہوئے ہیں-3-   اسرائیل اقوام متحدہ کی قرارداد 1980 کے مطابق یروشلم سے اپنا قبضہ ختم کرےاور اس مسئلے کے پائیدار حل کے لیے اقوام عالم کی کوششوں میں  ہر ممکن تعاون پیش  کرے –.4-   اقوام متحدہ اور دیگر عالمی برادری ایک خودمختار آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مداخلت کریں ، تا کہ پناہ گزیں فلسطینی عوام کی بازآبادکاری اور وطن واپسی کی راہ ہموار کی جائے، نیز اسرائیل کو مجبور کیا جائے کہ وہ عرب مقبوضہ علاقوں کو خالی کردے اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم سے بازآئے ۔5-    غازہ کی ناکہ بندی فوری طور سے ختم کرائی جائے ۔اگر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی قراردادو ں کی اسرائیل پروا نہیں کرتا اورتمام تر مطالبات کے باوجود ناکہ بندی کرکے لاکھوں انسانوں کو قید کی زندگی گزارنے پر مجبور کررہا ہے ،تو بلا تاخیراسرائیل پرمعاشی پابندیاں عائد کی جائیں ۔6-   مسلمانان ہند سے اپیل ہے کہ ایسے نازک وقت میں اللہ کی طرف رجوع کرکے قبلہ اول کے تحفظ و دفاع کے لیے خصوصی دعاء کریں اور پرامن طور پر حتجاج میں شریک ہوں  اور میڈیا وغیرہ کے ذریعہ اپنی آواز بالخصوص امریکہ اور عالمی طاقتوں تک پہنچائیں اور اپنے مظلوم ومقہور فلسطینی بھائیوں کے ساتھ یک جہتی کا مظاہرہ کریں ۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here