سمیع اللّٰہ خان 

جنرل سکریٹری: کاروانِ امن و انصاف 

 خبریں آرہی ہیں کہ، آندھراپردیش میں بھی سنگھی بھیڑیوں کی زبان پر مسلم خون چڑھ رہاہے، اور اس دفعہ ان سنگھیوں نے مسجد کے امام و مؤذن کو مارڈالا ہے، اور بدترین و بہیمانہ قتل کیا ہے، نیز قرآن اور مسجد کی بے حرمتی کی ہے ۔

 گذشتہ دنوں سے مسلسل المناک سانحات کی گویا برسات ہورہی ہے، منصوبہ بند قوانین اور سازشی انصاف نے تو، بالکل مایوس ہی کردیاہے، ملک کی سالمیت کا جنازہ مسلم لاشوں کی صورت میں ناچ رہاہے، 

*کہیں ہائے ہے، تو کہیں واویلا، کہیں ماتم ہے تو کہیں مرثیہ، مسلمان اپنے وجود کی منشا سے بےخبر مطلوبِ وجود چاہتاہے، دل و دماغ کے کعبہ کو بدمست کر نصرت چاہتا ہے، دین و یقین کو محصور کر آزادی چاہتے، بھلا یہ کیونکر ممکن ہے؟*

اس وقت ملک میں، تیزی سے اکڑتے ہوئے ہندوتوائی تانڈو میں ہمارا، بسکٹ اور چائے تقسیمی رول، درحقیقت حصارِ جبر میں اپنے ہاتھوں سے اپنی نسلوں کو  نذرآتش کرناہے، اس پر اب حلفیہ کہا جاسکتا ہے کہ، اگر یہی صورتحال رہی تو ذلّت آمیز زندگی سے موت کو ترس جائیں گے، کیونکہ، نفرت کے پجاریوں کے مکروہ عزائم ابھی شروعاتی مرحلے میں ہیں، اور ہمارا شعور بدترین رسوائیوں کی گہرائیوں میں ہے ۔

 آج  ایک اور خون کچلا گیا ہے ، کاندھے جنازے کے لیے تیار ہیں، وہی  کاندھے جو کہ تیر و کمان اور نیزہ و برچھیوں سے ظلم کی ڈھال ہوا کرتے تھے،  وہ اب لاشیں ڈھونے کے لیے تیار ہیں،اس وقت ہم بدترین تباہی کی طرف دوڑ لگا رہےہیں،یہ صورتحال جو قوم کی ہوتی جارہی ہے، جس کا زمین پر ہم چل پھر کر مشاہدہ کررہے ہیں وہ ہے، “وہن” یعنی کہ، اسوقت مجموعی طور پر امت خوفزدہ ہے، ہر فرد قوم موت کے ڈر میں ہے، اپنے تشخّصات مٹائے جارہے ہیں کہ، مبادا مذہبی شناخت جان لیوا نا ثابت ہوجائے، یہ اور ایسے بدترین رسوا کن حقائق کھلے عام نظر آرہے ہیں، ان کا اور کھلے طور پر نظارہ ہوگا چند سالوں میں، اور اگر ابھی ان کا نظارہ چاہتےہیں تو، اپنی اپنی کٹیا سے باہر نکلیں، محدود بھاگ دوڑ اور محصور حلقے سے نکل کر، عام آدمی کی صورت میں زمین پر اتریے، اور عام قومی کے حالات کو ٹٹولیے، ہجرت کے ارادے بھی نہیں کرپائیں گے، البتہ مجذوب کی اس بڑ کو ضرور سمجھ جائیں گے ۔

مؤذن کا لہو ابھی بہہ رہاہے، ساتھ ہی اپنی قوم پر برس رہاہے، انہیں جھنجھوڑ رہاہے، میدان عمل کی دعوت دے رہاہے، اب بھی وقت ہے اجتماعی ایکشن پلان کے ساتھ میدان میں آئیں، یہ وقت احتساب کرتے ہوئے انقلابی اقدامات کا ہے، یہ اقدامات کیسے ہوں گے؟ کون کرے گا؟ یہ انقلابی اقدامات باضمیر اور باشعور نوجوانوں کی طرف سے ہوں گے، جو ماتمی اور مرثیہ خوانی کی بجائے ان پر روک لگانے کی سمت سوچتےہیں، ہر اولوالعزم اور باہمت نوجوان اس کا، کارکن ہوگا، انتظار نہیں کرناہے، پیشقدمی کرناہے، خود قدم بڑھانے ہیں، کہ، ایویں انقلابی ٹیم تشکیل پاتی ہے، کسی بھی بیک گراؤنڈ اور امدادی کشف کے انتظار میں نا، رہيں قدم بڑھائیں قیام امن کی طرف، آپ فرد ملت ہیں بس یہی کافی ہے، بقیہ لوازمات قدم بقدم ساتھ ہوتی جائیں گی، 

مؤذن کا لہو، پکارتا ہے کہ: ان اڑیل سنگھی ظالموں کے علاج کے لیے، 

*اسوقت ضرورت ہے شرحبیلی گروہ کی جس سے قوم نے آنکھیں موند رکھی ہیں، عموماً ہمارے دانشوران بھی کلفت سے بچنے کیلئے صلح حدیبیہ کی نظیر پیش کرتے ہیں، لیکن افسوس کہ وہ شرحبیل کے عظیم گروہ سے آنکھیں، موند لیتے ہیں،  قریش نے جن کی زندگی دشوار کی،  انہوں نے قریش کی زندگی اور تجارت کا ناطقہ بند کردیا تھا، میں آقاﷺ کی سیاسی حکمت عملی کے صدقے جاواں, کہ، کبھی بھی ان جوانمردوں کو امن و آشتی سکھانے کی سعی نہیں کی،  اور صلح حدیبیہ کی مکمل پاسداری بھی فرمائی۔*

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here