مہاتما گاندھی، مولانا آزاد اور ڈاکٹر امبیڈکر 

0
365

جیسے لوگوں یا ان کے سچے پیروؤں کی ملک کو ضرورت ہے

عبدالعزیز

 
آج جبکہ ملک میں ہر طرف اور ہر چیز پر خطرہ اور حملہ دکھائی دے رہا ہے۔ جان کا خطرہ، دستور پر خطرہ، حق و صداقت پر حملہ، انسانی قدروں پر حملہ الغرض کوئی بھی چیز محفوظ نہیں ہے ۔ جو انسان دشمنوں بلکہ آج کے درندہ صفت انسانوں سے خطرہ نہ محسوس کر رہے ہوں وہ کسی بھی شعبۂ زندگی سے تعلق رکھتے ہوں۔ ضرورت ہے کہ وہ متحد اور منظم ہوکر اس خطرہ کامقابلہ کریں۔ جب ہی یہ خطرہ ٹل سکتا ہے یا ختم ہوسکتا ہے۔ 
ہندستان میں ماضی قریب میں تین بڑی اہم شخصیتیں گزری ہیں۔ تینوں کی ایسی قربانی اور جانفشانی ہے کہ ملک کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ 
گاندھی جی: موہن داس کرم چند گاندھی جنوبی افریقہ سے لے کر ہندستان تک امتیازات، ناانصافیوں اور غلامی کے دشمنوں اور زیادتیوں کو برداشت کیا اور صبر و تحمل کے ساتھ ان کا تسلسل کے ساتھ مقابلہ کیا۔ ملک میں غلامی، امتیازات اور نا انصافیوں کے خلاف دلیری سے لڑتے رہے۔ جیل کی صعوبتوں کو برداشت کیا پھر بھی جنگ جاری رکھی۔ بالآخر آزادی کی کی لڑائی میں کامیابی ملی مگر جو لوگ یا جو طبقہ یا گروہ ان کے انسانی اور آفاقی نقطہ نظر کو اپنی گروہی عصبیت، دقیانوسیت، فرقہ واریت، ذات پات کے خلاف بھی سمجھتا رہا۔ آزادی کے فوراً بعد انھیں اپنی راہ سے ہٹانے کی کوشش کی۔ یقیناًاس گروہ نے گاندھی جیسے بڑے انسان کو قتل کر دیا مگر ایسا گروہ بھول گیا کہ انسان کو تو قتل کیا جاسکتا ہے ، اس کے افکار و نظریات پر چھری نہیں چلائی جاسکتی۔ وہ نظریات و خیالات جس سے انسانیت اور انصاف کی تعمیر ہوتی ہے وہ نظریات ہمیشہ زندہ و جاوید رہتے ہیں۔ گاندھی جی آج بھی اپنے افکار و نظریات کی وجہ سے زندہ ہیں۔ ناتھو رام گوڈسے اور ان کے پیروکار بظاہر کامیاب ہیں مگر ان کی ظاہراً کامیابی وقتی اور عارضی ہے۔ 
مولانا ابوالکلام آزادؒ : مولانا ابوالکلام آزاد نے اسلام کی حقانیت کو اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ جب ملک کی غلامی کی زنجیروں کو کاٹ گرانے کی بات آئی تو مولانا آزاد، گاندھی جی کے ساتھ ہوگئے۔ غلامی کے خاتمہ کے ساتھ مولانا آزاد نے ملک میں قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ہر حال میں باقی رکھنے کی بھر پور کوشش کی۔ ان کی یہ بات آج بھی مشہور ہے کہ’’ اگر آسمان سے فرشتہ اتر کر کہے کہ آج تمہیں آزادی مل جائے گی مگر ہندو و مسلمان تقسیم ہوجائیں گے ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی باقی نہیں رہے گی تو ہم اسے کسی قیمت پر قبول نہیں کریں گے۔ پھر وہی فرشتہ یہ کہے کہ تمہیں سو سال بعد سوراج یا آزادی حاصل ہوجائے گی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر بھی کوئی آنچ نہیں آئے گی تو ہم اسے خوشنودی دل کے ساتھ قبول کریں گے‘‘۔ 
مولانا نے اپنوں کے بھی ستم سہے مگر اف نہ کیا۔ انھیں تقسیم ہند کی خرابیاں اور نقصانات سمجھاتے رہے۔ گالیاں کھاتے رہے پھر بھی نیک اور بد کو سمجھانے سے باز نہیں آئے، یہاں تک کہ جب ملک دو حصوں میں تقسیم ہوگیا تو مولانا آزاد اور مہاتما گاندھی دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے برادرانہ تعلق رکھنے پر زور دیا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رکھنے اور اسے فروغ دینے کی کوشش میں کوئی کمی نہیں کی۔ اگر دیکھا جائے تو دونوں مذہبی شخصیتیں تھیں، اپنے اپنے مذہب پر عامل تھیں اور اپنا ایمان و عقیدہ چھوڑنے پر راضی نہ تھیں۔ مولانا اسلامی وراثت کی ایک چیز بھی چھوڑنے پر راضی نہ تھے۔ اسی طرح گاندھی جی بھی اپنے دین و ایمان پر کوئی سودا نہیں کرنا چاہتے تھے اور نہ ہندو مسلمان کے اتحاد اور بھائی چارہ پر کسی قیمت پر حملہ برداشت کرنے کیلئے تیار نہ تھے۔ آج ملک کو ان دو جیسی اہم شخصیتوں کی ضرورت ہے۔ ایسی شخصیتیں روز روز نہیں پیدا ہوتی ہیں مگرجو لوگ ان کے سچے پیرو کار اور فدائی ہیں ان کو سامنے آنے کی ضرورت ہے اور آج کے ہٹلر اور مسولینی کے خلاف ہر میدان میں مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کے اندر اورباہر سے جو خطرات درپیش ہیں وہ ان کا پامردی سے مقابلہ کیا جاسکے۔ 
ڈاکٹر امبیڈکر: ڈاکٹرامبیڈکر بابا صاحب کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کا ایک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ ملک میں جو دستور نافذ العمل ہے اس کو نہایت حکمت اور دانش سے ڈرافٹ کیا ہے۔ تمام طبقہ اور گروہ کے بنیادی حقوق کا اس میں خیال رکھا گیا ہے۔ ہر ایک کی جان و مال، عزت و آبرو کا تحفظ رہے اس کا پاس و لحاظ ہے۔ قانون کی نظر میں سب انسان برابر ہوں خواہ کسی بھی مذہب و ملت سے تعلق رکھتے ہوں۔ مذہب، ذات اور جنس یا کسی اور بنیاد پر امتیاز نہ روا رکھا جائے، اس کا دستور میں بندوبست کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر دلت تھے، دلتوں کو دستور میں ریزرویشن دینے کی بات درج ہے۔ دلتوں کو اوپر اٹھانے اور ان پر صدیوں سے ہوتا آیا ظلم و ستم ختم کرنے کا قانون درج ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے ایسے مذہب سے بغاوت کرکے ایک مثال بھی اپنی زندگی سے دی جو ایک خاص طبقہ کو نیچ سمجھتا ہے اور انصاف دلانے سے قاصر ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے بھی اپنی زندگی سے نہ صرف دلتوں کیلئے ایک مثال چھوڑ رکھی ہے بلکہ غیروں کیلئے بھی وہ ایک مثالی شخصیت تھے۔ 
آج جبکہ قحط الرجال ہے متذکرہ شخصیتوں کے جو پیروکار ہیں ضرورت ہے کہ ان کے افکار و نظریات کو بچانے کیلئے سامنے آئیں اور باطل پرستوں، ملک و قوم کے دشمنوں سے ہر میدان میں نبرد آزما ہوں۔ جب ہی حق و انصاف کے دشمنوں کو کمزور کیا جاسکتا ہے۔ اور ان کو راندۂ درگاہ بنانا ممکن ہوسکتا ہے۔ 

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here