جمعیۃ علماء ہند2017قدم بہ قدم ، منزل بہ منزل

0
312

جمعیۃ علماء ہند2017قدم بہ قدم ، منزل بہ منزل
محمد یاسین قاسمی جہازی
۲۰؍جنوری کو ٹیکنیکل تعلیم حاصل کرنے والے طلبا وطالبات کے لیے جمعیۃ علماء ہند نے تعلیمی وظائف 2016 -17کا اعلان کیا ، اور پروفیشنل تعلیم: ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، بی یو ایم ایس ، بی فارما ،انجینئرنگ، بی ٹیک(سول الیکٹریکل ، الیکٹرونک کمپیوٹر)، سی اے، بی ایڈ کے طلبا کو اسکالرشپ دیا گیا۔ ۴؍ فروری کو جمعےۃ چلڈرن ولیج انجار گجرات میں سہ روزہ اسکاؤٹ ٹریننگ کیمپ لگاکرسکاؤٹ ایکسپرٹ کے ذریعے بچوں کو صحت مند رہنے اور جسمانی فٹنس کے اصول سکھلائے گئے ۔ جمعےۃ علماء ہند کے ادارہ مباحث الفقہیہ کاتیرہواں فقہی اجتماع بتاریخ۸ تا ۱۰ فروری کو چنئی میں منعقد ہوا، اس میں دو موضوعات زیر بحث تھے،(۱) قبضہ کی حقیقت اور انٹرنیٹ کے ذریعہ عقود کی بعض مروجہ صورتیں (۲) زکوۃ میں ضم اموال کا حکم ۔۲۵؍ مارچ کو وڈاولی گاؤں ( ضلع پاٹن گجرات )میں اسکول کے بچوں کے درمیان معمولی تنازع کے بعد اکثریتی طبقے کے چار ہزار لوگوں کی ایک بھیڑنے مسلم محلہ پر حملہ کر کے سو مکانات جلاڈالے اور کھڑی فصلوں کو آگ لگا دی ۔جمعیۃ نے ان کے لیے فوری طور پر امدادی و راحت رسانی کا کام کیا۔۲۵؍ مارچ کو خواجہ کی نگری اجمیر شریف میں جمعےۃنے میڈیکل کیمپ لگایاکر عرس کے موقع پر زائرین کو طبی خدمات فراہم کرایا۔۶ اور ۷ ؍اپریل کو جمعےۃ علمائے اسلام پاکستان کے زیراہتمام نوشیرہ اضاخیل پاکستان میں صدسالہ اجتماع منعقد ہوا جس میں دعوت ملنے پر جمعےۃ علماء ہند کے نمائندے شریک ہوئے۔ ۱۴؍ اپریل کو گجرات کے وڈاؤلی گاؤں ضلع پاٹن میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات متاثرین کے لیے سو سے ز ائد مکانات کی تعمیر و مرمت کا کام کیا گیا۔ اور فسادیوں کے خلاف مقدمہ قائم کیا ۔بعد ازاں بتاریخ ۱۶؍مئی کوان کی بازآبادکاری کے تحت ایک سو انتیس مکانات کی چابی ان کے حوالے کی گئی۔سپریم کورٹ میں چل رہے طلاق ثلاثہ کے مقدمہ میں ۱۱؍مئی سے ۱۸؍مئی تک مسلسل چھ دنوں تک مختلف فریقوں کی درخواستوں پر سماعت ہوتی رہی۔ اس میراتھن سماعت کے دوران جمعےۃ علما ء ہند کے وکلاء نے شرکت کی اور اپنا موقف پیش کیا۔۱۰؍جون کو سونیا وہار میں مسجد منہدم کرنے کے سانحے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سرکار و انتظامیہ سے فسادیوں کے خلاف سخت کارروائی اور امن وامان کی بحالی کا مطالبہ کیا ۔ جولائی میں شمالی گجرات میں طوفانی بارش سے بناس کانٹھا اور پالن پور متاثر ہوا ۔ اس سیلاب میں اعداد و شمار کے مطابق۲۲۴؍افراد لقمہ اجل بن گئے اور بے شمار مکانات منہدم ہو ئے اورگھروں اور گلیوں میں کیچڑ لکا ڈھیر جمع ہوگیا تھا، جس کے لیے سات ہزار رضاکاروں نے ۱۶۸۰ مکانات ، ہسپتال، کچہری کورٹ، پولس اسٹیشن اور اسکولوں میں صفائی کی خدمت انجام دی ، اس کے علاوہ متعدد مساجد اور تقریبا ۲۲؍مندروں کی بھی صفائی کی گئی۔اس عمل کی ستائش ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے من کی بات میں بھی کی۔۱۰؍ جولائی کوجمعیۃ کے ایک وفد نے دہلی میں واقع تہاڑ جیل کے انسپکٹر جنرل برائے قیدی کے دفترمیں شعبہ این جی او کے سربراہ مسٹر جوسیف بکسلا سے ملاقات کی اور ان سے ان قیدیوں کی فہرست طلب کی جو جیل میں اپنی مدت توپوری کرچکے ہیں تاہم جرمانہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے قید ہیں تاکہ مالی تعاون کے ذریعے ان کی رہائی کو یقینی بنا یا جا سکے۔ ۱۱؍ جولائی کو جنوبی کشمیر کے اننت ناگ میں امرناتھ یاتریوں پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے وحشیانہ اور ظالمانہ عمل قرار دیا ۔۱۰؍ اگست کو اترپردیش میں آرٹی ای ایکٹ ۲۰۰۹ء کا حوالہ دے کر سرکاری محکمہ کی جانب سے دینی مدارس کو فوری طور سے بند کرنے کی نوٹس تھمائی گئی۔جس کے لیے جمعیۃ علماء ہند نے قانونی کار روائی کرنے کا اشارہ دیا۔۱۳؍اگست کی شام اچانک آئے قیامت خیز سیلاب نے بہار کے ۱۹؍اضلاع بالخصوص سیمانچل اور اس کے قرب وجوار کے علاقوں میں زبردست تباہی مچائی ۔اس سیلاب سے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ایک کروڑ اکہتر لاکھ افرا د متاثر ہوئے ، جن کے راحت آپریشن کے دوران جمعےۃ کے خدام نے تقریباً ۸۰۰؍ گاؤں کا دورہ کیا اور ۳۶۰۰۰؍ہزار خاندانوں تک فوڈ کٹس پہنچائے ۔ سردست ان کے مکانات کی تعمیر جاری ہے۔ مذہبی منافرت اور فرقہ پرستی کے خاتمے کے لیے ۱۳؍ اگست کو جمعےۃ کی مختلف یونٹوں کی جانب سے ملک گیر پیمانے پر آٹھ سو سے زائد شہروں میں’’ امن مارچ ‘‘منعقد ہوا ۔اسی دن مدارس کے ذمہ داروں اور جمعےۃ کی اکائیوں کے نام ایک سر کلر میں ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میںیہ مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنے اداروں میں پر جوش طریقے سے جشن یوم آزادی منائیں اور اپنے اکابر اورقومی ہیرو کی خدمات سے عوام کو روشناس کرائیں ۔۲۷؍اگست کی شام انتہا پسند بودھسٹ اور برمی آرمی نے مشترکہ طورپر برمی مسلمانوں کی بستیوں کو جلانااور انھیں قتل کرنا شروع کردیا ۔ اس خوفناک منظر سے ہراساں ہو کر صرف دو ماہ میں آٹھ لاکھ سے زائد افراد دوسرے ملک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے، جن کے لیے جمعیۃ مسلسل ہندستان اور بنگلہ دیش میں پناہ گزین برمیوں کے لیے مسلسل پیہم مصروف خدمت ہے۔ اور تا دم تحریر بنگلہ دیش میں ایک ہزار کے قریب مکانات تعمیر کراچکی ہے، بنگلہ دیش میں یہ کام جمعیۃ علماء بنگلہ دیش اصلاح المسلمین پریشد کے ساتھ اشتراک و تعاون سے کیا جارہا ہے۔۲؍ستمبرکو بہار سیلاب متاثرین کو عید کی خوشی میں شامل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر قربانی کا اہتمام کیا۔۲؍ستمبر ۲۰۱۵ء کو دادری میں اخلاق کے قتل سے لے کر عید کے موقع پر جنید ، پہلو خاں ، بلند شہر کے غلام محمد، بیر بھوم کلکتہ کے اظہر شیخ،آسام ناگاؤں کے حنیف سمیت اس طرح کے درجنوں واقعات ہوئے ہیں ۔ جمعیۃ نے جہاں ان تما متاثرین کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کا فریضہ انجام دیا، وہیں سیاجی ، سماجی اور آئینی سطح پر ایسی سوچ اور طاقتوں کو کنارہ لگانے کی ہر ممکن کوشش کی ۔۲۱؍ستمبر کو میانمار میں روہنگیا اقلیتوں کے خلاف جاری نسل کشی اور قتل عام کے خلاف جنتر منتر نئی دہلی میں منعقد ایک مظاہرے میں تقریبا دس ہزار افراد نے شرکت کی۔ ۱۶؍اکتوبرجمعیۃ کے ایک وفد نے فرید آباد میں نام نہاد گؤرکشکوں کے ذریعہ ایک آٹو ڈرائیور اور اس کے اہل خانہ کو درندگی کے ساتھ زدوکوب کیے جانے کے خلاف کمشنر حنیف قریشی اور ڈی سی پی آستھا مودی گپتا سے ملاقات کی اور ظالمو ں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ۔ ۱۸؍نومبرکو ہندستان کی اہم ملی و سماجی جماعتوں نے متفقہ طور سے اسرائیل کو دہشت گرد ملک بتاتے ہوئے اس کے صدر ریولن کی ہندستان آمد کی سخت مذمت کی او ر حکومت ہند کو متنبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے سلسلے میں دوہرے معیار سے بازآئے۔آسام میں حق شہریت کا مسئلہ پر جمعےۃ علماء ہند کی آئینی جد وجہد تا حال جاری ہے۔ ۱۳؍مئی کو مولانا ازہر نائب صدر جمعےۃ علماء ہند ورکن شوری دارالعلوم دیوبند ، ۲۰؍ مئی کونائب صدر جمعیۃ علماء ہندمولانا ریاست علی بجنوری صاحب کے انتقال پر۲۵؍ مئی کو جمعےۃ علماء ہند کے دفتر نئی دہلی میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہو ا۔ اسی طرح شیخ الحدیث مظاہر علوم سہارن پور مولانا محمد یونس جونپوری ،صدر جمہوریہ ہند کے معالج ،شہرت یافتہ حکیم محمد انوار، جناب ای احمد ،مفتی میاں ثمر دہلوی ، سید شہاب الدین، مولانا امجد بیمات اور سعید سہروردی صاحبان کے انتقال پر ملال پر اظہار تعزیت کیا گیا۔
جمعےۃ علماء ہند کی خدمات 2017سے متعلق جو کچھ یہاں پیش کیا گیا وہ صرف یادداشت پر مبنی ہے، ورنہ پچھلے ایک سال میں جمعےۃ علماء ہند اور اس کی شاخوں نے ملک کے گوشے گوشے میں بڑی خدمات انجام دی ہیں اور جن کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اپنا خاص فضل فرمائے اور خصوصی نصرت سے نوازے ۔ آمین۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here