’ سرسید اینڈ کنٹمپوریری انڈیا‘کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد

0
270

علی گڑھ: سرسید اویرنس فورم کی جانب سے’ علی گڑھ مہوتسو‘ کے مکتا کاش منچ پر ۹ ویں قومی سیمینار بہ عنوان’ سرسید اینڈ کنٹمپوریری انڈیا‘ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں مقررین اور معززین نے دور حاضر میں سرسید کی معنویت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مہمان خصوصی ضلع کی مشہور ڈاکٹر اور مسلم یونیورسٹی وائس چانسلر کی اہلیہ ڈاکٹر حمیدہ طارق نے کہا کہ سرسید بہت دور کی سوچ رکھتے تھے اور وہ اپنے دور سے آگے کی چیزوں کو سوچتے تھے۔ سرسید کا ماننا تھا کہ ہمیں بڑے خواب دیکھنا چاہئے کہ تاکہ اس کی تعبیر بھی بڑی ہو، سرسید کا مقصد ایک ایسی دانش گاہ بنانا تھا جس کے دروازے بلا تفریق مذہب و ملت سبھی کے لئے کھلے ہوں۔ سرسید ہر طرح کے تشدد کے خلاف تھے اور وہ سلیقہ سے حکمت اور فراست سے کام کرنا جانتے تھے۔ ڈاکٹر حمیدہ طارق نے مزید کہا کہ سرسید کی معنویت آج بھی اتنی ہی ہے جتنی ۱۹ ویں صدی سے میں تھی۔ سرسید جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ اخیر میں انھوں نے سیمینار کے کوآرڈینیٹر پروفیسر صمدانی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نمائش کے میدان میں اس طرح کا پروگرام کروانا اپنے آپ میں ایک بڑا کام ہے اور ہمیں اس طرح کے کاموں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہئے۔
آر ایف کے کمانڈنٹ ہلال فروز نے کہا کہ سرسید کی شخصیت کو نکھار نے میں ان کی والدہ کا بڑا ہاتھ رہا۔ سرسید ہندو مسلم ایکتا کے طرفدار تھے وہ لوگوں کو برابری کا حق دینے کے حق میں تھے اور سرسید نے گاؤ کشی کے خلاف سخت رویہ اپنایا اور وہ گاؤ کشی کے خلاف تھے انھوں نے نصیحت کی تھی کہ لوگ گاؤ کشی سے باز آئیں۔ کمانڈنٹ صاحب نے سرسید کی مشن کو آگے بڑھانے کے لئے فورم کے صدر شکیل صمدانی کی بھرپور تعریف کی۔ انیس احمد انصاری، آئی پی ایس و کمانڈنٹ پی اے سی نے کہا کہ سرسید نے جس وقت دنیا میں قدم رکھا اس وقت کے حالات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے آگے چل کر انھوں نے قوم کی حالت کو سدھارنے کے لئے ایک لائحہ عمل تیار کیا اور اس کو کامیابی کے ساتھ پورا کیا۔ انصاری صاحب نے مزید کہا کہ سماج کی ترقی کے لئے تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی بہت ضروری ہے سرسید نے اسی کو آگے بڑھایا اور اسی پر کام کیا۔ اخیر میں انھوں نے کہا کہ ملک کے سامنے آج جو بھی چیلنجز ہیں وہ صحیح تعلیم سے دور کئے جاسکتے ہیں۔ ضلع اقلیتی بہبود آفیسر ڈاکٹر امرتاسنگھ نے کہا کہ مسلم یونیورسٹی مقناطیس کی طرح ہے جو لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے انھوں نے کہا کہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں جہالت بہت زیادہ ہے اور اسے سرسید کے دیئے ہوئے ہتھیار یعنی تعلیم سے دور کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ سرسید دھن کے پکے تھے اور غیر معمولی شخصیت تھے۔پروفیسر شافع قدوائی نے کہا کہ مسلم یونیورسٹی ایک تعلیمی ادارہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ کچھ ویلیوز (Values) بھی جڑی ہوئی ہیں۔ دور حاضر میں ویلیوز کو بہت خطرہ ہے اس لئے ہمیں سرسید کی شخصیت پر غور کرنے اور اس پر عمل کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ سرسید نے ادارہ کے علاوہ سائنٹیفک سوسائٹی، اخبار وغیرہ کے ذریعہ مجموعی حقوق دینے کی کوشش کی۔ سرسید کی تعلیمات میں ہمیں صحیح حب الوطنی کا سبق ملتا ہے۔ اخیر میں پروفیسر قدوائی نے کہا کہ ہمیں ایک ایسے ہندوستان کی ضرورت ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے خیالات اور جذبات کا احترام کریں اور یہ سبق بھی ہمیں سرسید سے ملتا ہے۔ 
پروگرام کواڈینٹراور فورم کے صدر پروفیسر شکیل احمد صمدانی نے کہا کہ نمائش کے میدان میں یہ پروگرام ۲۰۰۹ سے تسلسل کے ساتھ ہورہا ہے او راس میں ہر سال اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ آج کے دور میں جس طرح سے ملک میں تشدد، فرقہ پرستی، جہالت ، جھوٹ اور بے ایمانی کا دور دورہ ہے اس میں ہمیں سرسید کی تعلیمات پر عمل کر کے اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد سرسید کے افکار و خیالات عوام الناس تک پہنچانا ہے اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان محبت اور بھائی چارگی پیدا کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر سرسید کے خیالات کو ایمانداری سے لاگو کیا جائے تو ملک سے جہالت، قدورت، تنگ نظری، اور بے ایمانی اور جھوٹ کو دور کیا جا سکتا ہے۔ طلباء یونین کے صدر مشکور عثمانی نے کہا کہ سرسید کی تاحیات کوشش رہی کہ تعلیم کے ذریعہ قوم کو آگے بڑھایا جائے۔ سرسید کی سوچ کو پروفیسر صمدانی جس طرح آگے لے کر بڑھ رہے ہیں وہ قابل تعریف ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ فورم کو تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت پر بھی دھیان دینا چاہئے کیونکہ یہ ملک کی ترقی کے لئے انتہائی اہم ہے۔ صدر محترم نے مزید کہا کہ ہمیں مل جل کر ملک کی ترقی کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔اپنے صدارتی کلمات میں منگلایت یونیورسٹی کے وائس چانسلر بریگیڈیئرپی سی سواج نے کہا کہ جب تک سماج مہذب نہیں بنے گا جرائم پر قابو نہیں پا یا جاسکتا۔ بے روزگاری کو دور کرنے کے لئے ہمیں علم کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں تعلیم کو بڑھانے کے لئے اسی طرح آگے آنا ہوگا جس طرح سرسید میدان میں آئے تھے۔ اس سیمینار کو کیبنٹ ممبر متین اشرف، پارس گوڑ، اور سارہ صمدانی نے بھی خطاب کیا۔
اس موقع پر سماج کی مختلف شخصیات کو ان کے کارناموں کی وجہ سے اعزاز سے نوازا گیا۔ پروفیسر نواب علی خان، (بیسٹ مینج مینٹ) پروفیسر شافع قدوائی (لٹریچر)، پروفیسر نیر آصف (آرتھوپیڈکس)، ڈاکٹر ستیندر کمار جین (فیملی لٹریسی ) ، ڈاکٹر نجم الدین انصار (انیمل پروٹکشن )، کپیٹن اے کے سنگھ (نیشنل سروس)، نجم الدین عباسی (بیسٹ آفیسر)، ڈاکٹر پریت پال سنگھ (سوشل سروس) کو اوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ چاند بھائی، طارق حسین، ڈاکٹر خلیل چودھری اور ڈاکٹر پرنکا جین کو بھی اعزازات سے نوازا گیا۔ اس پروگرام کی خصوصیت یہ رہی کہ شری بارہ سینی انٹر کالج کی طرف سے کیپٹن اے کے سنگھ کی قیادت میں این سی سی کیڈٹس نے زبردست پروگرام پیش کیا اور مہمانان کو گارڈ آف آنر دیا۔ اس پروگرام میں طلبا یونین کے کیبنٹ فرحان زبیری، محمد ندیم، آصف ادریس، مس نبیلہ زہرہ اور کورڈ ممبر شاہ نواز خان کے علاوہ پروفیسر شکیل احمد، ڈاکٹر پرویزنذیر، ڈاکٹر وسیم علی، ڈاکٹر علی نواز زیدی، ڈاکٹر زیبا، ڈاکٹر تابش، ڈاکٹر مدثر علی، ڈاکٹر شفیع اللہ، ڈاکٹر احسان الحق، ڈاکٹر جین، اے آر خان، ڈاکٹر تبسم، ڈاکٹر عرفان، کنور نسیم شاہد، عبدالقادر، مشہور شاعرہ ریحانہ شاہین، شاعر اور کارپوریٹر مشرف محضر، یونیورسٹی کے سابق کپتان اعظم انصاری کے علاوہ سماج کے مختلف طبقات کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں کواڈنیٹر جاوید سعید، ایڈوکیٹ شعیب علی، ڈاکٹر حیدر علی، حسان، اننیا سنگھ، سدھارتھ، نجندر کمار، فوزیا، تلت انجم، عبداللہ صمدانی، انجم تسنیم، اتیندر کمار جین، جاوید اختر، وغیرہ کا خصوصی تعاون رہا۔پروگرام کی بہترین نظامت عائشہ صمدانی نے کی او رتلاوت سید حسان نے کیا۔ مہمانان کا شکریہ انجینئر جاوید سعید نے ادا کیا۔ سارہ صمدانی، پارس گوڑ، اور عائشہ صمدانی کی بہترین کار کردگی کی وجہ سے مہمانان نقد انعامات سے سرفراز کیا۔ 

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here