شام کا بحران!!!  جواصل غم ہے وہی غم کوئی نہیں کرتا

0
478

شام کا بحران انسانی تاریخ کے بدترین بحران میں تبدیل ہوچکا ہے،لاکھوں شہری مارے جاچکے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ۱۱ملین سے زیادہ عرب و یورپی ممالک میں زیرآسمان نکبت زدہ پناہ گزیں ہونے پر مجبور ہوئے ہیں،بشار الاسد حکومت کی بربریت،جنگجوؤں یا باغیوں کی مزاحمت،داعش کی ابلیسیت،اور بیرونی طاقتوںکی بربنائے معاونت خباثت وخصومت کی ساری شکلیں مبہم اور معدوم ہوچکی ہیں،عام انسانوں کے لئے یہ سمجھنا سخت مشکل ہے کہ کون درست ہے اور کون غلط لیکن اگران کی فہم وفراست اور بصیرت نے ساتھ چھوڑ دیا ہے تو کیاوہ بصارت سے بھی محروم ہوگئے ہیں؟ اگر وہ یہ نہیں سمجھ سکتے تو کم ازکم اتنا تو دیکھ ہی سکتے ہیں کہ مرنے والے مسلمان ہیں،مارنے والے مسلمان ہیں،ظالم و مظلوم،قاتل و مقتول،جابرو مجبور، غالب و مفتوح دونوں مسلمان ہیں،جن کے گھر تباہ ہورہے ہیں وہ بھی مسلمان ہیں اور جو تباہ کررہے ہیں وہ بھی مسلمان ہیں،بس فرق یہ ہے کہ انسانیت کی اس تباہ کاری کے سامان فراہم کرنے والے مسلمان نہیں ہیں ۔ جو اسلحے،گولہ بارود اور کیمیکل استعمال کئے جارہے ہیں وہ نہ مسلمان ہیں اور نہ ہی مسلمانوں نے بنائے اور نہ ہی مسلمان اسے فروخت کررہے ہیں۔اگر عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ قاتل و مقتول کون ہیں ،ایک ظالم اور دوسرا مظلوم کیوں ہے؟ریموٹ کنٹرول کس کے ہاتھ میں ہے،خانہ جنگی کا سودوزیاں کیا ہے،معصوم بچوں کی موت اور بے بس و بے کس شہریوں کی فلاکت و نکبت کا مکافات کیا ہے تو کیا حکمراں بھی یہ نہیں سمجھتے کہ اس خونریز خانہ جنگی سے ،معصوم بچوں کی موت سے،مفلوک الحال شہریوں کی ارزانی سے،درودیوار کی ویرانی سے ،گھروں کی بے سروسامانی سےکس کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے۔یہ سمجھنا مشکل کیوں ہے کہ بالاآخر ساری تباہیوں کا سامان ہتھیاروںکی خریدو فروخت میں مضمر ہے،ہتھیارجو ہم نے نہیں بنائے لیکن ہم استعمال کررہے ہیں اور استعمال ہورہے ہیں۔ یہ ہتھیار اونے پونے دام بھی نہیں ملتے،فی الحال رافیل جنگی طیاروں کی قیمت پر نظرڈال کر اپنی تشفی کرسکتے ہیں کہ ہتھیاروں کی خریداری میں کتنے پیسے برباد ہورہے ہیں۔یہ سمجھنا مشکل کیوں ہے کہ مسلمان ایک تماشا بن گیا ہے اور اس تماشے میںخونِ رائگاں کے فرش پر رقص اجل پیش کرنے کے لئےایران ،روس،سعودی عرب،ترکی ،عراق،لبنان شام ،امریکہ ،فرانس اور جرمنی سب نے اپنے اپنے مداری چھوڑ رکھے ہیں، پوری دنیا یہ تماشا دیکھ رہی ہے اورانجوائے کررہی ہے،رہبرایران بھی معصوم بچوں کی لاشیں دیکھ رہا ہے اور عجیب نفسانی تلذذ حاصل کررہاہے کہ ایک اور باغی خس کم جہاں پاک ہوا ،سعودی عرب اور ترکی بھی اذیت رسیدوں کے چیتھڑے دیکھ رہے ہیں اور شکرانے کی نماز اداکررہے ہیں۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے،کتاب میں ہوتا ہوگایہاں نہیں ہے،مومن شیشہ پلائی ہوئی دیوار ہے،ہوتا ہوگا یہاں نہیں ہے،یہاں کوئی اسلام نہیں ہے،کوئی مسلمان نہیں ہے ۔یہاں ہم ایرانی ہیں، عراقی ہیں، حجازی اور شامی ہیں،ہم ملت واحدہ نہیں ہیں.یہاں آخر میں ہم شیعہ ہیں، سنی ہیں، وہابی اور دیوبندی ہیں،یہاں ہم مسلمان نہیں ہیں،مسلمان ایسے نہیں ہوتے،غیر مہذب وحشی جاہل اور جنگلی اس سے بہتر ہوتے ہیں ،سو ہم شام میں معصوموں کی ہلاکت کی مذمت کیوں کررہے ہیں؟جب مارنے والے ہم خود ہیں اور مر نے والے بھی ہم ہی ہیںتو پھرخون کے آنسو کیوں رورہے ہیں؟ہمارے عمل نےاسلام کے نام پر،ملک و وطنیت اورملت و قومیت کےنام پر ایک دوسرے کو مسترد کردیا ہے۔تو پھر ہمیں افسوس کیوں ہورہا ہے،ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ ہم بھی اس جرم میں شریک ہیں۔ کیا انسانیت کے نام پر ہم شام میں انسانی جانوں کے اتلاف کی مذمت کررہے ہیں؟انسانیت کسے ہتے ہیں اور یہ اب تک کہاں تھی،انسان کے مرنے پر ہی انسانیت کیوں زندہ ہوتی ہے؟انسانیت کے نام پر بھی اتنے ہی خون بہائے گئے ہیں جتنے مذہب اورجمہوریت کے نام پربہائے گئے ہیںسو یہ  مذمتیں، یہ خلش ،یہ لاحاصل پشیمانیاں ہمارے اندر کے منافق ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش ہیں۔اسی شام کے بحران کے حوالے سے ایران کے کردار کا ذکر کروں گا توسیکڑوں شیعہ ایران کے کردار کا دفع کرنے آجائیں گے اور جب مقدس حجازیوں کے ظلم کی بات کروں گاتو بھی اتنے ہی لوگ بنام دفاع جنگ پر آمادہ ہو جائیں گے۔پس ثابت یہ ہواکہ ظلم اپنی جگہ پر موجود ہے،بحران اپنی جگہ پر قائم ہےسو مذمت کس بات کی؟ظلم و عدوان کی مذمت کے معاملےمیں ہم “Selective” ہیں اور یہی سلیکٹو ہونا بحران کی اصل جڑ ہےاس لئے کوئی مذمت وذمت نہیں، جو مررہا ہے اسے مرنے دو، اللہ کو خوب معلوم ہے کہ لوگ کیوں مررہے ہیں.نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ ایک وقت آئے گا جب قاتل کو یہ نہیں معلوم ہوگا کہ وہ قتل کیوں کررہا ہے اور مقتول کو یہ نہیں معلوم ہوگا کہ اسے قتل کیوں کیا گیا۔ہم فی الحال اسی عہدگومگو میں زیست کررہے ہیں۔ہماری تدبیروں،تقدیروں اور دعاؤں کا کہیں کچھ اثر نظرنہیں آرہا ہے۔اورنگ آباد میں تبلیغی جماعت کا اجتماع ہوا،لاکھوں لوگ جمع ہوئے،دعائیں مانگی گئیں لیکن اس میں ملک شام کے مسلمانوں کے خون کی راےگانی کا کہیں کوئی ذکر نہیں تھا،چلیںدرگزرکرتے ہیں کہ دعا دعا ہوتی ہے، لاکھوں لوگ میدان عرفات میں بھی جمع ہوتے ہیں اور “کروڑوں لوگ” اربعین کے موقعے پر کربلا و نواح میں جمع ہوتے ہیں، ہرجگہ دعائیں مانگی جاتی ہیں، پوری دنیا میںتقریباً 2 ارب مسلمان ہیں اور سب اپنے اپنے طور پر دعائیں مانگتے رہتے ہیں.یہ دعائیں جاتی کہاں ہیں؟غورکیجئے کہ تدبیر وتقدیردونوں متصادم کیوں ہیں؟غور کریں کہ اللہ رب العزت نے کہا ہے  وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۔۔۔

جواصل غم ہے وہی غم کوئی نہیں کرتا

ہماری عقل کا ماتم کوئی نہیں کرتا

رشید کوثرفاروقی

 

 

 

 

 

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here