بے قصوروں کے بجائے اصل مجرموں کو پکڑے حکومت: جمعیۃ علماء اتر پردیش

0
172


کاس گنج ،پرتاپگڑھ ، الٰہ آبادوغیرہ کے حالات کو لے کر گورنر سے ملاقات
لکھنو،۵؍ مارچ ۲۰۱۸
جمعیۃ علماء اتر پردیش کا ایک اعلیٰ سطحی وفد صدر جمعیۃ علماء اتر پردیش مولانا محمد متین الحق اسامہ صاحب قاسمی کی قیادمت میں کاس گنج میں۲۶؍ جنوری ۲۰۱۸ ء ، کوترنگا یاترا پر حملے کی جھوٹی افواہ پھیلا کر ترنگا جھنڈا ہی لہرارہے مسلمانوں پر حملہ کرنے، جبکہ اس معاملے میں جس شخص کو گولی لگی اس پرکس نے گولی چلائی کہاں سے گولی چلی اوراس کو کیسے گولی لگی یہ بات اب تک صاف نہیں ہو سکی ہے اس کے باوجود بے قصور مسلم نوجوانوں کو بغیر ثبوت کے جیلوں میں بند کرنے، پرتاپ گڑھ میں اکیلی عورت کو وحشیانہ طریقے سے ماردینے اور چندن اور الٰہ آباد یونی ورسٹی کے ایک بے قصور طالب علم کو قتل کردینے جیسے مسائل کو لے کر یوپی کے گورنر شری رام نایک سے راج بھون لکھنو میں ملاقات کی ۔ وفد نے محترم گورنر کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہاکہ اترپردیش کے مختلف حصوں میں تشدد پر آمادہ جتھا اور بے قابو بھیڑ نے نہ جانے کتنے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بناچکا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ سر عام قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے اور خو ف و دہشت کا ماحول پیدا کرنے والوں کے خلاف فوری سخت ایکشن نہ لیے جانے کی وجہ سے ایسے بے لگام عناصر کے حوصلوں کو بڑھاوا مل رہا ہے۔ابھی حال ہی میں ہوئے کاس گنج فساد کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا اسامہ، مولانا حکیم الدین قاسمی وارکان وفد نے کہا کہ اقلیتی طبقہ کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور متعدد دکانوں و گاڑیوں کو جلا دیا گیا ،مساجد میں آگ لگائی گئی لیکن اصل فسادیوں کو قانونی گرفت میں لینے کے بجائے متاثر مسلم اقلیتی طبقہ کو ہی ہراساں اور گرفتار کیا گیا ، یہاں تک کہ ان لوگوں کو بھی جیل میں ڈال دیا گیا ، جن کا اس فساد سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ وفد نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ کاس گنج میں جس شخص کو گولی کا نشانہ بنایا گیا تھا، اس کے مارنے کی جگہ اور وقت کا تعین کیے بغیر اس قتل کو مسلمانوں کے سر تھوپ دیا گیا اور ان کے ساتھ وہ سب کچھ کیا گیا ، گویا وہی اصل مجرم ہو۔بات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسی طرح پرتاپ گڑھ میں تین لوگوں نے مل کر اکیلی عورت رابعہ خاتون کو ہوس کا نشانہ بنایا اور انسانیت سوز درنگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا قتل بھی کردیا، لیکن اس بہادر عورت نے اپنی عزت کی حفاظت کے لیے مرتے دم تک ان کا مقابلہ کیا ۔اس واقعہ پر سرکاری اہل کاروں کی سرد مہری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی جاں باز عورت کو نہ کوئی معاوضہ دیا گیا اور نہ ہی اس کی موت پر کوئی بڑا اہل کار پہنچا، جب کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں بیٹیوں کو پڑھانے اور آگے بڑھانے اور عورتوں کے حقوق اور ان کو طاقت ور بنانے کی بات کرتی ہیں۔ وفد میں شریک مولانا شبیر مظاہری نے اس عورت کے قتل کی دردناک تصویر بھی دکھائی، جسے دیکھ کر گونرر نے بڑے دکھ کا اظہار کیا۔
وفد نے کاس گنج کے فساد میں مقتول چندن اور الٰہ آباد یونی ورسٹی کے ایک بے قصور طالب دلیپ سروج کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جلد از جلد ان کے اصل قاتلوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے ۔اور اس عورت کو مناسب معاوضہ دلواکرانصاف کے تقاضے کو پورا کیا جائے۔
گونرر شری رام نایک نے وفد کی باتوں کو بغور سنا اور یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی سطح سے آپ کی باتوں کو وزیر اعلیٰ کو روشناس کرائیں گے ، انہوں نے کہا کہ بے قصوروں کو ان کا حق دلانے کی مکمل کوشش کی جائے گی۔گورنر محترم نے کہا کہ آپ کی ان باتوں کووزیر اعلیٰ تک پہنچایا جائے گا۔اس وفدمیں جمعیۃ علماء اتر پردیش کے صدر مولانا متین الحق اسامہ قاسمی ، مولانا سید محمد مدنی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء اتر پردیش، مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند، جناب سید محمد وزین ، لکھنو،مولانا شبیر احمد مظاہری پرتاپ گڑھ،مولانا کلیم اللہ قاسمی امبیڈ کر نگر،مولانا عبدالمعید قاسمی فتح پور،مولانا احمد عبداللہ قاسمی لکھیم پور،قاری عبدالمعید چودھری کانپوراورجناب شمیم جاوید کاس گنج شریک وفد رہے۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here