مذہبی تشدد کے خاتمے کے لیے بین المذاہب بورڈ کا قیام 

0
173

’فلاح انسانیت بورڈ ‘ مسلم پرسنل لاء بورڈ کا مقابل نہیں ہے :سلمان ندوی مولانا ندوی کے اس بورڈ میں ہندو طبقہ پوری طرح ان کے ساتھ ہے: منکا میشور مندر کی مہنت دیویہ گری

لکھنو : آج لکھنو حضرت گنج کے جیمنی کونٹی نینٹل میں مولانا سلمان حسینی ندوی نےایک پریس کانفرنس او ربین المذاہب میٹنگ کے ذریعے ’فلاح انسانیت بورڈ ‘ کے قیام کا اعلان کیا۔ جس میں لکھنو اور کانپور کی قدآور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔ مولانا سلمان ندوی نے آج کی میٹنگ میں یہ اعلان کیا کہ ہمارا یہ ’فلاح انسانیت بورڈ ‘ مسلم پرسنل لا بورڈ سے بالکل الگ ہے۔ اس کا پرسنل لا بورڈ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ اس کے مقابل بنایا گیا ہے، جس طرح کی چہ میگوئیاں کی جارہی ہیں۔ اس بورڈ کا مقصد بین المذاہب کشیدگی کو کم کرنا اور ختم کرنا ہے اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں اسلام کا صحیح تعارف پیش کرنا ہے۔ ہم اس بورڈ کے ذریعے امن وامان اور صلح وآشتی کا پیغام تمام مذاہب کے درمیان دیناچاہتے ہیں۔ اور اس بورڈ کےصدر جو بھی ہوں گے ملک کے سابق چیف جسٹس ہوں گے جن کی عوام میں مقبولیت ہوگی اور منصفانہ شہرت کے حامل ہوں گے۔ مولانا ندوی نے کہا کہ ہم اس بورڈ کے ذریعے غریبوں کے لیے دوائیوں،  بچوں کے لیے تعلیم،  بے سہاروں کے لیے سہاروں اور مظلوم کے لیے انصاف کی آواز اٹھائیں گے اور انسانوں کا مسئلہ تمام مذاہب کے افراد مل کر حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم ملک میں بھائی چارے کا ایسا ماحول چاہتے ہیں کہ اگر مسلمان کو کوئی تکلیف ہوتو ہندو اس کے ساتھ کھڑا ہو ، ہندو کو کوئی تکلیف ہوتو مسلمان اس کے ساتھ کھڑا ہو اور غم بانٹے اور ایک دوسرے کے مسائل حل کرنے کے لیے سکھ، عیسائی، دلت اور تمام پسماندہ طبقے ایک ساتھ مل جل کر بیٹھیں۔ اسی طرح مولانا ندوی نے کہا کہ جن لوگوں نے نفرت کی فضا پھیلا رکھی ہے اس ملک میں،  اور جنہوں نے ملک میں مذہبی تشدد کو ہوا دی ہے اور جو لوگ مذہبی تشدد پھیلا کر سیاسی روٹیاں سینک رہے ہیں ہم ان تمام کی کوششوں کو اپنے اس بورڈ کی جدوجہد کے ذریعے ناکام کریں گے۔ ان شاء اللہ۔اس میٹنگ  میں لکھنو منکا میشور مندر مٹھ کی مہنت شری دیویہ گری جی نے شرکت کی اور اسی طرح سکھوں کے قدر آور رہنما گیانی سنگھ دیویندر جی، بدھشٹوں کے رہنما وشواجیت بھنتے جی، اسی طرح کانپور کے چرچ سے بشپ صاحب نے شرکت ۔ اس میٹنگ میں منکا میشور مندر کی مہنت دیویہ گری نے کہا کہ مولانا سلمان کے اس بورڈ میں ہندو طبقہ پوری طرح سے ان کے ساتھ ہے۔ اس طرح کی کوششوں کا میں استقبال کرتی ہوں اور جہاں بھی امن وامان اور بھائی چارے کے لیے ضرورت ہوگی میں مولانا ندوی کے ساتھ رہوں گی۔ اسی طرح سکھوں کے معروف رہنما گیانی دیویندر سنگھ نے کہا کہ سکھ دھرم امن وامان اور آپسی محبت کی تعلیم دیتا ہے اور محمد صاحب (ﷺ)کی تعلیمات امن وآشتی، پیارومحبت اخوت وبھائی چارگی کی تھی  ابھی ابھی مولانا سلمان ندوی صاحب نے جو باتیں فلاح انسانیت بورڈ کے بارے میں کہی ہیں مجھے اس سے بے حد خوشی ہوئی ہے اور میں پوری سکھ کمیونٹی کے ساتھ آپ کے ساتھ کھڑا ہوں اور جہاں ضرورت ہوگی ہم پورا تعاون کریں گے کیوں کہ اس طرح کی کوششوں کا ہمیں عرصے سے انتظار تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئی نسل اس نفرت کے ماحول سے پریشان ہے اور وہ محبت کی متلاشی ہے۔ اور وہ اس فرقہ واریت کے زہر سے دور بھاگتی ہے ہمیں ضرورت ہے کہ ہم آگے بڑھیں اور ان کو اس طرح کی کوششوں میں شریک کرکے ملک سے نفرت کا خاتمہ کرائیں۔  اس موقع پر مشہور داعی مولانا کلیم صدیقی پھلت کے نمائندے حاجی شکیل موجود تھے اور انہو ںنے مولانا کلیم صدیقی کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور مولانا کی کوششوں کو سراہا۔ اسی کے ساتھ معروف داعی اسلام علامہ شمس نوید عثمانی کے جانشین ڈاکٹر سید عبداللہ طارق صاحب بھی موجود تھے۔ مولانا کے اس  اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر حمایت ومخالفت کا سلسلہ جاری ہے البتہ وہاں موجود حاضرین سے جب رابطہ کیا گیا تو ان لوگوں نے مولانا کی کوششوں، مقررین کی تجویزوں اور عزائم سے اتفاق کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ بہت اچھی پہل ہے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کوشش کو ملک کی مین اسٹریم میڈیا نے پوری طرح سے نشر کیا اور مثبت اندازمیں عوام تک اسے پہنچایا۔

 

 

 

 

 

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here