*کویت کے ممتاز عالم دین روحانی پیشوا شیخ یوسف رفاعی کا انتقال*

0
208

سرائے میر ۳۱ مارچ : کویت کے ممتاز عالم دین روحانی پیشوا’ تزکیہ و تصوف کے رہبر’ شیخ یوسف ھاشم الرفاعی کا انتقال آج ان کے آبائ وطن کویت میں طویل علالت کے بعد ہوگیا ۔ان کا انتقال عالم اسلام کے دینی ‘علمی ‘تربیتی’اصلاحی اور تزکیہ و تصوف کے حلقہ کا بڑا نقصان ہے۔ ان خیالات کا اظہار مفتی ارشد فاروقی چیئر مین فتوی آن موبائل سروس نے اخباری بیان کے ذریعہ کیا انہوں نے کہا کہ شیخ رفاعی 1932 میں کویت میں پیدا ہوئے اور وہاں کے علماءو  مشائخ سے کسب فیض کیا ۔وہ فطری اعتبار سے انتہائ سنجیدہ’ با وقار ‘با حمیت اور فیاض طبیعت  کے مالک تھے ان کے اندر جہاں عربوں کی عمدہ خصوصیات پائ جاتی تھیں اس سے زیادہ وہ شریعت و طریقت کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے ۔ اور تربیت و اصلاح میں اونچا مقام رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ جب کویت میں جمیعة الاصلاح قائم ہوئ تو وہ اس کے بانیوں میں  تھے اور ان کا تعلق کویت کے نمایاں علماء اور شخصیات سے ہی نہیں بلکہ عالم  اسلام کے چیدہ علماءاور  بالغ نظر مشائخ سے تھا ۔  وہ ہندوستان کے علماء اصحاب تدریس و تالیف سے نہ یہ کہ بخوبی واقف تھے بلکہ بعض سے عقیدت مندانہ تعلق رکھتے تھے ۔وہ حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب سابق مہتمم دار العلوم دیوبند اور مفکر اسلام ابو الحسن علی ندوی کے دعوتی اور اصلاحی کاموں کے بڑے قدرداں تھے ۔فاروقی نے کہا کہ شیخ یوسف رفاعی کا تعلق صرف دینی حلقوں اور ان کی خدمات صرف دینیی میدانوں تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ کویت  کی حکومت اور ارباب اقتدار کے ساتھ اقتدار و حکمرانی میں بھی شریک تھے اسی لئے وہ مختلف اوقات میں مختلف وزارتوں کی وزیر کی حیثیت سے رہے وہ وزیر مواصلات ‘بجلی ‘ فون اور ڈاک کے وزیر بھی رہے کویت میں ان کا شمار ایک اچھے عالم’ روحانی پیشوا مصلح و مربی ملکی نظام میں دخیل ‘ خیر خواہ اور انسان دوست کی حیثیت سے ہوتا تھا فاروقی نے بتایا کہ ہر ہفتہ جمعرات کو ان کے دیوان میں حلقہ لگتا جس میں علماء’ فضلاء اور ہر طبقہ کے لوگ شریک ہوتے اور ان کا حلقہ ارادت بڑا وسیع تھااور اس مجلس دعوت و ارشاد اصلاح و تربیت میں ان کے حلقہ کے اوراد و  وظائف  کا ورد ہوتا اور مشہور علماء کی تقاریر ہوتیں درود و سلام کی مجلس کا خصوصی اہتمام ہوتا ۔فاروقی نے کہا ان کی  اس مجلس میں ان کے دیوان میں کئ مرتبہ  ان کی دعوت پر خطاب کا موقع بندے کو میسر ہوا وہ بڑی شفقت اور محبت کا اظہار کرتے اور اپنے سلسہ کی اجازت سے نوازتے ۔انہوں نے کہا ان کے دیوان میں دنیا بھر کے لوگ جمع رہتے وہ سب کے ساتھ ان کے ملکوں کے اور عالم اسلام کے احوال پر مذاکرہ کرتے اور انسانیت کو در پیش مسائل حل کرنے کے اقدامات کرتے وہ بڑے ملنسار’ متقی و پرہیزگار’ امین و دیانت دار ‘سخی و فیاض’ کشادہ دست اور خدائے وحدہ  لا شریک کے بڑے عبادت گزار اور شب بیدار زہد و تقوی کے اعلی مقام پر فائز تھے اللہ ان کی مغفرت فرمائے ان کی خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرفائے اور امت کو ان کا بدل عطا فرمائے۔۔۔۔

 

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here