’’اپوزیشن پارٹیاں سانپ، بچھو، نیولا اور کتا، بلی کی طرح ہیں‘‘  امیت شاہ کی بدگوئی اور بدزبانی 

0
230

عبدالعزیز 

جب انسان بدزبان اور بدگو ہوتا ہے تو اپنے اور غیروں سب کیلئے ضرر رساں ہوتا ہے۔ کسی پارٹی یا جماعت میں سب کے سب بدقماش یا بدمعاش ہوتے ہیں تو اس پارٹی کا سربراہ یا لیڈر بدمعاشوں اور بدقماشوں کا سربراہ اور لیڈر ہوتا ہے۔ ایسے لیڈر اور سربراہ بے لگام ہوتے ہیں۔ جس سے ان کو خطرہ ہوتا ہے یا نقصان پہنچنے کا ڈر ہوتا ہے اس کے خلاف وہ گالی گلوج پر اتر آتے ہیں اور اپنی طاقت اور اختیار کا بھی اس کے خلاف اندھا دھند استعمال کرتے ہیں۔ اس وقت بھاجپا اور ان کے لیڈر آپے سے باہر ہوگئے ہیں۔ پہلے تو انھوں نے مسلمانوں کو ’حرام زادہ، کتے کے پلے وغیرہ جیسے برے القابات و خطابات سے نوازا پھر دلتوں کو ہر طرح کی گالیاں دے کر اپنے پیٹ بھرے۔ 
اب بھاجپا والے ساری اپوزیشن جماعتوں کو برا بھلا کہنے میں کوئی کسر باقی نہیں اٹھا رہے ہیں۔ ان کے صدر امیت شاہ کی زبان و بیان کا حال یہ ہے کہ وہ فرما رہے ہیں کہ مودی کے سیلاب کی وجہ سے اپوزیشن پارٹیاں متحد ہورہی ہیں۔ جیسے جب سیلاب یا طوفان آتا ہے تو سانپ، بچھو، نیولا اور کتا،بلی سب اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ امیت شاہ یا ان کے صاحب کو کرسی تو مل گئی ہے مگر ان دونوں کے پاس اور ان کے دیگر رفقاء کے پاس تہذیب اور شائستگی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ دونوں گجرات سے دہلی آئے ہیں حکمرانی کرنے۔ ان کا گجرات میں بھی ریکارڈ بہت برا ہے۔ اپنی پارٹی کے اندر سے جب ان کی مخالفت ہونے لگتی ہے تو اسے بھی یہ نہیں بخشتے۔ شنکر سنگھ واگھیلا بی جے پی میں تھے۔ جب وہ بھاجپا کا باغی ہوکر کئی ایم ایل اے کو لے کر پارٹی سے نکل گیا تو بھاجپا والوں نے اس کے سارے کپڑے اتار کر ننگا کردیا۔ کئی ایک نے جو بغاوت کی تو ان کی زندگی کے دشمن بن گئے اور ان کا جینا حرام کردیا۔ کئی ایک کو تو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ 
نریندر مودی سے جب 2002ء کے فسادات کے بارے میں پوچھا گیا کہ مسلمانوں کا قتل عام ہوا تو مودی نے کہاکہ تکلیف تو ہوتی ہے اگر کوئی کتیا کا پِلّا بھی گاڑی کے پہیّے کے نیچے آجاتا ہے۔مسلمانوں کو مودی کو کتیا کا پلا کہنے میں کوئی شرم نہیں آئی ؂ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔ کرناٹک کے ایک بڑے سنگھی لیڈر نے معروف صحافیہ گوری لنکیش کے قتل پر بیان دیا تھا کہ کتیا بہت بھونکتی تھی، اچھا ہوا ماری گئی۔ 
اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ گالی گلوج دینا، بدگوئی اور بدزبانی نہ صرف سنگھی لیڈروں کی عادت اور فطرت ہے بلکہ یہ سنگھی کلچر ہے۔ اسی کلچر میں یہ پلے بڑھے ہیں۔ ان کو اپنی تاریخ بھی یاد نہیں رہتی۔ 1976-77ء میں کانگریس کے خلاف اپوزیشن کی ساری جماعتیں متحد ہوگئی تھیں بلکہ سب نے مل کر ایک سیاسی جماعت ’جنتا پارٹی‘ کے نام سے بنالی تھی ۔ اس میں جن سنگھ بھی شامل ہوگئی تھی۔ یہ بات امیت شاہ کو یاد ہونی چاہئے کہ مختلف نظریات اور آئیڈولوجی کی حامل پارٹیوں نے کانگریس یا اندرا کو ہرانے کیلئے ایک اتحاد میں ہی نہیں ایک جماعت میں ضم ہوگئی تھیں۔ یہ جمہوریت کا خاصہ ہے جب کوئی فرد یا پارٹی ڈکٹیٹر شپ کرنے لگتی ہے تو تمام پارٹیوں کو متحد اور منظم ہوکر اس کے خلاف لڑنا پڑتا ہے۔ 
چند ہی ماہ ہوئے شمال مشرق کی چھوٹی ریاستوں میں بی جے پی نے کئی چھوٹی پارٹیوں سے جن کے خیالات اور نظریات بی جے پی سے بالکل مختلف ہیں، اتحاد (alliance) کرکے الیکشن میں لڑائی کی اور آج وہ سب مخلوط حکومت کا حصہ ہیں، جس کی سربراہی امیت شاہ کی پارٹی کررہی ہے۔ جموں و کشمیر میں بی جے پی یا آر ایس ایس محبوبہ مفتی کی پارٹی (پی ڈی پی) کے ساتھ ہے۔ حکومت میں شامل ہے جبکہ محبوبہ مفتی کی پارٹی کے خیالات اور منشور بی جے پی سے بالکل مختلف ہیں۔ 
مختلف سیاسی پارٹیوں کے اکٹھا ہونے پر مودی۔شاہ کیوں چیں بہ جبیں ہیں، یہ بات سمجھ میں آتی ہے کیونکہ ان کے اتحاد میں تو شگاف پیدا ہورہا ہے۔ ٹی ڈی پی ہو یا شیو سینا این ڈی اے سے ناراض ہوگئی ہیں اور پر زور مخالفت کر رہی ہیں۔ دلت ایم پی بھی بی جے پی میں ہونے کے باوجود مخالفت پر اتر آئے ہیں۔ دوسری طرف کانگریس کی سربراہی میں اپوزیشن پارٹیاں متحد ہورہی ہیں۔ یوگی ادتیہ ناتھ نے سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے اتحاد کو سانپ اور نیولا کا اتحاد بتایا تھا مگر سانپ اور نیولا نے جب انھیں یا ان کی پارٹی کو ہرا دیا تو یوگی نے کہاکہ ان کی پارٹی کو Over Confidance (ضرورت سے زیادہ اعتماد) کی وجہ سے ہار گئی۔ یوگی کی طرح شاہ کو بھی یہی خطرہ دکھائی دے رہا ہے جس کی وجہ سے وہ اول فول بکنے لگے ہیں مگر اس سے امیت شاہ اور ان کی پارٹی کی گھبراہٹ ظاہر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی کہہ رہے ہیں کہ مودی جی بنارس کی سیٹ بھی اب بچانے کے لائق نہیں ہیں۔ اتر پردیش میں بی جے پی کو اتحاد کی وجہ سے دو سیٹیں بھی مشکل سے ملیں گی۔ 
بی جے پی گالیاں دے کر تو اتحاد کو مضبوط سے مضبوط تر بنادے گی لیکن سازش سے اتحاد کو کمزور کرسکتی ہے۔ جیسے اپوزیشن کے کچھ لیڈر ’فیڈرل فرنٹ‘ (وفاقی محاذ) کی تشکیل کی بات کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت میں اپوزیشن کو کمزور کرنے کی تدبیر اور سازش ہے کیونکہ کانگریس کے بغیر بھاجپا کو ہرانا مشکل ہے، لہٰذا کوئی اتحاد جو کانگریس کے بغیر وجود میں آئے گا وہ بھاجپا کیلئے نفع بخش ہوگا۔ اپوزیشن پارٹیوں کو اس سازش کو اچھی طرح سے سمجھنا ہوگا۔ دوسرا، تیسرا محاذ کرنے کے بجائے ایک محاذ کے تحت سب کو متحد ہوکر لڑنا ہوگا جب ہی بھاجپا کو شکست فاش ہوسکتی ہے۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here