سوال پوچھنے والوں پر کفرکے فتوے کیوں؟  اگرخاموشی رہی تو مسلم پرسنل لا ء بورڈ بھی بے وزن ہوجائے گا!

0
131

حکیم نازش احتشام اعظمی 

ایک صحتمند معاشرہ کیلئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہاں بلاامتیاز عوام وخواص ،دولت مندو غریب اورامیر ومامور سبھی کواستفسار اور سوالات پوچھنے اور جواب طلب کرنے کا حق حاصل ہو۔مثالی معاشرہ کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہاں اختلاف رائے پر قبول یا عدم قبول کے معاملے میں پوری آزادی اور ضبط وتحمل کی قوت ہو۔ ایسا نہ ہوکہ اگر معاشرہ کاکوئی بڑا شخص ہے یا کسی اہم عہدہ پر فائز ہے تو اسے بالکل معصوم عن الخطا ء باور کرلیا جائے اور اس شخصیت سے سوال و جواب پوچھنے والوں کو امیر صاحبان کا بے لگام لشکر معطون ومعتوب کرنا شروع کردے ، بلکہ سوال کرنے والے کو کافر ،فاسق وفاجر اسلاف اور اکابرین کا گستاخ قرار یدیا جائے ۔ہم بھارتی مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے گروہ کے کسی بڑے عہدہ پر فائز یا تزکیہ و اصلاح کے سلسلے سے وابستہ اصحاب کی عقیدت میں غلو کی حدتک اندھے ہوجاتے ہیں اور پیر ومرشد کو ایسا سمجھ لیاجاتا ہے کہ گویا انہیں بطور خاص خلاق عالم نے انسانوں کی قیادت کیلئے آسمان سے اتارا ہے اور ان کی ذات ستودہ صفات سے کسی تسامح ،غلطی یا نسیان وخطا کا شائبہ بھی نہیں ہوسکتا۔تاریخ اسلامی کے تابندہ ماضی میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ کسی ادنیٰ شخص نے بھی اپنے امیر سے کسی مسئلے میں اختلاف کیا تو امیر نے اس اختلاف کو ناک کا مسئلہ نہیں بنایا ،نہ اختلاف کرنے والے کیخلاف اپنے معتقدین کیبے لگام فوج کو لشکر کشی کی اجازت دی ،اکابرین نے اختلاف کرنے والے کا خیر مقدم کیا اور بعض موقعوں پر شکریے بھی ادا کئے ہیں اور اختلاف کرنے والے کو اپنے گلے سے لگا یاہے۔
سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے جب خلافت کا خطبہ دیا تو فرمایاکہ’ اگر میں اللہ کے دین پر قائم رہوں تو درست، اور اگر اس میں کجی اختیار کروں تو تم مسلمانوں کا فرض ہے کہ اپنی تلواروں کے ساتھ مجھے سیدھا کردینا او راللہ کی شریعت پر مجھے چلانا کیونکہ اللہ کی شریعت پر چل کر ہی میرا یہ حق بنتا ہے کہ میں تمہیں اللہ کی شریعت کی بات کہوں‘۔ایسے ہی امیرالمؤ منین سیدنا عمربن خطاب کی سیرت میں ایک اہم واقعہ آتاہے۔آپؐ جب خلیفہ تھے تو کسی معاملے میں سیدنا اْبی بن کعبؓ کا اْن سے اختلاف ہوگیا۔ سیدنا عمرؓ بن خطاب اپنے بارے میں خود فیصلہ کرنے کی بجائے قاضی وقت زید بن ثابتؓ کے پاس پیش ہوئے۔ مدعی اْبی بن کعبؓ تھے اور مدعا علیہ امیر المؤمنین حضرت عمرؓ تھے۔ اْبی بن کعب نے جب دعویٰ کیا تو اپنے دعوے پر اْنہوں نے ایک دلیل پیش کی۔اور شرعی اْصول یہ ہے کہ جب کسی کے خلاف دعویٰ کیا جاتا ہے تو وہ دلیل سے تردید کرے، ورنہ اسے قسم کھانا پڑتی ہے۔ زید بن ثابتؓ نے امیرالمؤمنین کا احترام کرتے ہوئے اْن سے قسم کا مطالبہ نہ کیا، اور ان کے انکار کو ہی کافی جانا کہ خلیفہ نے چونکہ انکار کردیا ہے کہ میں نے یہ کام نہیں کیا ،بس یہی کافی ہے۔جب قاضی زید بن ثابتؓ نے اتنا معمولی سا امتیاز برتا تو حضرت عمرؓ قاضی سے ناراض ہوئے اور خود قسم اْٹھائی کہ مجھ پر مدعا علیہ ہونے کے ناطے یہ واجب تھاکہ میں قسم اْٹھاؤں اور کہا کہ اے زیدؓ! تم اس وقت تک منصبِ قضا کے لائق نہیں ہوسکتے جب تک تمہارے نزدیک ایک خلیفہ اور عام مسلمان دونوں برابر نہ ہوجائیں۔
مگر اس وقت ملک گیر سطح پر ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے۔سوال کرنے والوں پر اندھے اور

حکیم نازش احتشام اعظمی

نومولود لکھاریوں اورگم کردہ راہ گروہوں کی ٹیم گالی گلوج،سطحی طعنے بازیوں اور غیر مہذب بازاری لہجے میں سوال کرنے والوں پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ مسئلہ گزشتہ 15اپریل 2018کو ریاست بہار کی راجدھانی پٹنہ کے تار یخی گاندھی میدان میں ’’دین بچاؤ دیش بچاؤ‘‘ کے نام پر ریاست بھر سے جذباتی نعروں اور ایمان کی دہائی دے کر بلائی گئی مسلمانوں کی بھیڑکا ہے۔ یہ کانفرنس اپنی تحریک کے شروع دن سے ہی تبصرہ نگاروں کے درمیان موضوع بحث تھی اور ریلی کے دن ہی جبکہ ابھی اس عظیم الشان کانفرنس کے شامیانے اور ٹینٹ بھی نہیں اکھڑے تھے کہ کانفرنس کے سیاسی استعمال پر طوفان کھڑا ہوگیا اور تجزیہ نگاروں نے کچھ بجا اور کچھ بے اشکالات اچھالنے شروع کردیے۔بے جا بہ ایں معنی کہ امیر شریعت کی زبان میں کانفرنس کے روح رواں کو سرشام ہی نتیش کمار نے ایم ایل سی کا امیدوار اعلان کردیا ۔ اشکالات کرنے والوں نے الزام لگایا ہے کہ ایک عدد ایم ایل سی کی سیٹ کیلئے پوری ریاست سے جمع کئے گئے ساڑھے تین لاکھ مسلمانوں کی دین کے تئیں جاں نثاری اور پیر صاحب کیلئے اب کے قلوب میں موجود عقیدت کے بحرناپیداکنار کا سودا کرلیا گیا۔مگر یہ الزام درست نہیں معلوم ہوتا ،اس لئے محض ایک عدد ایم ایل سی کی سیٹ کیلئے اتنا بڑا اور بھاری بھر کم ریلا جمع کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔اس لئے کہ امارت شریعہ کے موجودہ ناظم عمومی مولانا انیس الرحمن قاسمی نتیش کمار کے ممنون اور مقربین میں سے ہیں ،لہذا امیر شریعت کے معمولی اشارے پر ہی وہ اس سیٹ کیلئے بآسانی سودا کراسکتے تھے۔ مولانا انیس الرحمان قاسمی پر نتیش کمارکی ’’کرپا‘‘ پہلے بھی رہی ہے اور حج کمیٹی کاچیئرمین رہتے ہوئے ان پر بارہ لاکھ روپے غبن کے انکشا فا ت بھی ہوئے تھے اس کے باوجود نتیش جی کا انیس جی سے موہ بھنگ نہیں ہوا تھا اور آج بھی مذکورہ دونوں شخصیات کے رشتے انتہائی مضبوط ہیں۔لہذا وہ امیر شریعت کے دست راست اور کانفرنس کے روح رواں کیلئے ایم ایل سی کی سیٹ کا جگاڑ آسانی سے کرا سکتے تھے۔
دوسرا عتراض جو صحیح معنی میں بہارکے مسلمانوں کو مایوس کئے ہو ا ہے وہ بڑی حدتک درست معلوم ہوتا ہے۔کانفرنس سے ایک روز پہلے تک یہ اعلان کرایا جاتا رہا کہ اس عظیم الشان تحریک کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہوگا ۔حالاں کہ خود صدر جلسہ ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں ، انہیں ایوان میں نمائندگی کرنے کا بائیس سالہ تجربہ بھی حاصل ہے اور خاندانی کانگریسی بھی ہیں۔ممکن ہے نومولود بھکتوں کو یہ بات شدید چوٹ پہنچائے ۔مگر یہ ایک حقیقت ہے اورجو لوگ1980سے90کے درمیان بہار کی سیاست کوجانتے ہیں وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ کانگریس کیلئے اس خاندان کی کیا قربانیاں رہی ہیں۔ جو لوگ اپنے امیر کو ’’معصوم عن الخطاء ‘‘ باور کرانے میں جٹے ہیں ان میں زیادہ تر تعداد ان نومولود فضلائے مدارس کی ہے جواس وقت پیدا بھی نہیں ہوئے رہے ہوں گے جب حضرت نے اپنے اندھ بھکت مریدوں اور مولویوں کی اسلحہ بردار فوج کو اسی امارت شریعہ پر قبضہ کرنے کیلئے چرھائی کا حکم دیدیاتھا۔اس کانفرنس کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ یہ کیا گیا کہ مذ کورہ اجلاس قطعی غیر سیاسی ہوگا ۔پھر عبیداللہ خان اعظمی کون تھے۔کیا بھکتوں کو معلوم نہیں ہے کہ خان صاحب بھی ایک منجھے ہوئے سیاسی مداری ہیں۔اگر جلسہ عین دینی تھا اور اس کا مقصد صرف دین اسلام اوروطن عزیز کا تحفظ تھا تو کسی دین دار آدمی سے ہی جلسہ کی نظامت کرانی چاہئے تھی ۔اس لئے کہ اسٹیج کے سامنے موجود جم غفیر صرف مورکھ اور گنواروں کی نہیں تھی ،اس میں کچھ پڑھے لکھے اور دینی و سیاسی سمجھ رکھنے والے بلکہ ناظم جلسہ سے کئی زیادہ قابل، تعلیم یافتہ ،باصلاحیت اور صالح لوگ بھی شامل تھے ۔کیا انہیں یہ تشویش نہیں ہورہی گی کہ اس تاریخی دینی اجلاس میں ایک بددین ،بے دین اور اسلامی شعار سے سرتاپا نابلد شخص کو نظامت کی ذمہ داری دینے کا مطلب سیاسی نہیں تو کیا ہے۔کیاجن لوگوں نے اس تاریخی کانفرنس کیلئے جانی مالی دونوں طرح قربانیاں دی ہیں انہیں یہ پوچھنے کا حق نہیں ہے کہ اس مجلس میں ایک پر ایک دین دار،پرہیز گار ،متقی اور بردبار علماء بھی موجود تھے جنہیں اللہ نے گفتارو کردار کی وافر دولت سے نوازاہے۔آخر ان دیندار علماء کو ٹھینگا دکھانے یا نیچاثابت کرنے کیلئے یہ سیاست کیوں چلی گئی تھی۔یہ سولات ہیں جس پر پردہ ڈالنے اور سوال پوچھنے والوں کو بازاری زبان میں مخاطب کرنے کے بجائے اس کا جواب دینے کی ضرورت ہے ،اس لئے کہ معاشرہ سے اگر سوال کرنے کے کلچر کو ختم کردیا گیا تو سارا سماج متعفن ہوجائے گا اور صورت حال یہی رہی تو اگلا نمبر مسلم پرسنل بورڈ کا ہے ،اس مؤقر اسٹیج کو بھی اس قسم کی سوچ بے حیثیت کردے گی اور سیاسی لوگوں کی اسی قسم کی شعبدہ بازیاں ایک دن بورڈ کو بھی لے ڈوبے گی جس کا سلسلہ لگ بھگ شروع بھی ہوچکا ہے۔سوال وجواب اور ڈائلاگ کو بہتے ہوئے پانی کی طرح دیکھئے۔بہتا ہوا پانی صاف ہوتاہے۔ اْسے ہم پیتے بھی ہیں۔ اْس سے وضو بھی کیا جا سکتا ہے۔جبکہ ٹھہرا ہوا پانی آخر کار تعفّن کا منبع بنتا ہے۔ اْس سے بیماریاں نکلتی ہیں۔ اس میں بیماریاں پھیلانے والے کیڑے پرورش پاتے ہیں۔ لوگ وہاں سے گزرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی حال سوالات کا ہے۔ جس معاشرے میں سوالات کرنے کی آزادی ہو اور سوالوں کے جواب دینے کا کلچر ہو، وہ بہتے ہوئے پانی کی طرح صاف ہوتا ہے۔ وہاں بدبو کا بسیرا ہوتا ہے نہ غلیظ کیڑے مکوڑے پرورش پا سکتے ہیں، لہذا مکالمہ جاری رہنا چاہئے۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here