سازش ہے؟

0
206

محمد یاسین جہازی، جمعیۃ علماء ہند
رابطہ: 9871552408

فرمان الٰہی کے مطابق نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی اقدس سارے جہاں کے لیے رحمت بناکر بھیجی گئی ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جو کام بھی رحمۃ اللعالمین کے طریقے اور ہدایت کے خلاف ہوگا، وہ سراسر زحمت اور پرمشقت ہوگا۔آج دنیا سماجی، سیاسی، اقتصادی اور دیگر تمام شعبہ ہائے حیات میں کسمپرسی اور شکست و ریخت کی شکار ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے کہ وہ نبی رحمت کے اسوہ اعلیٰ و بالا سے روشنی حاصل نہیں کررہی ہے ۔ یہ دنیا اور اہل دنیا کا عجیب نظریہ ہے کہ زندگی کے کسی مسئلہ کا حل تلاش کرتے وقت اگر فارمولہ نبوی ﷺ کو پیش کردیا جائے، تو تعصب اور تنگ نظری میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور جان بوجھ کر اس سے پہلو تہی کرتے ہیں، جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ وہ صحیح حل تلاشنے میں ناکام رہتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اس ذات گرامی اطہر و مقدس سے اپنی نسبت جوڑنا ہی متاع دین و دنیا سمجھتے ہیں، ان کے عمل اور طرز عمل کا جائزہ لیں، تو اس سے کہیں زیادہ تعجب و حیرانی ہوگی ۔ کیوں کہ ان کے قول و عمل میں زمین و آسمان کا فرق ملے گا۔ اہل نبی رحمت اس دعویٰ سے کبھی دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہوسکتے کہ اسلام اور دامن رسول ﷺ سے وابستگی میں ہی کائنات کی بھلائی و کامرانی ہے؛ لیکن عمل کا جائزہ بتلاتا ہے کہ یہ محض ان کا زبانی دعویٰ ہے، عملی زندگی کا نمونہ اس سے کوسوں دور ہے۔
اگر معاملہ صرف یہی تک رہتا تو بھی قدرے غنیمت ہوتی، لیکن تعجب بالائے تعجب تو یہ ہے کہ اس حوالے سے عملی رکاوٹ پر یہ کہتے نظر آئیں گے کہ ’’یہ یہود کی سازش ہے‘‘۔ ’’یہ کفر کا فریب ہے‘‘۔ ’’یہ نصاریٰ کا فتنہ ہے‘‘۔ ’’یہ اسلام کو بدنام کرنے کے لیے کیا جارہا ہے‘‘۔ وغیرہ وغیرہ۔
داڑھی پر پابندی کی بات کہی جائے، تو کفر کی سازش نظر آتی ہے، لیکن یہ تلقین کی جائے کہ نبی اکرم ﷺ کا چہرہ ریش مبارک سے منور تھا، تو عمل کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔ مائک سے اذان پر حدبندی کی جائے ، تو غیروں کا تعصب جھلکتا ہے؛ لیکن صدائے حی علیٰ الفلاح سے ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ عوامی مقام پر نماز کی پابندی کا فرمان جاری کیا جائے، تو یہ مذہبی پابندی کا اعلان عام ہے؛ لیکن اپنی مسجد میں جمعہ کے علاوہ حاضری کو باعث عار سمجھنا ہمارا شیوہ ہے۔ امریکہ اسرائیل کے لیے رحم دلی دکھائے، تو یہود و نصاریٰ اسلام کی بیخ کنی کے درپے ہیں، لیکن ہم اپنے عمل و فکر سے ہر لمحہ اسلام کی ہدایات کی دھجیاں اڑائیں اور نبی اکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ کا منھ چڑائیں، تو کوئی بات نہیں!!!!!! ایں چہ بو العجبی است۔۔۔؟!!!!۔
اوپر جتنے بھی حوالے آئے ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ راقم السطور ان چیزوں کا حامی ہے؛ راقم صرف آپ کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتا ہے کہ آج اسلام اور صاحب شرع دین متین نبی عربی و امی ﷺ سے ہمارا تعلق محض جذباتی رہ گیا ہے۔ ہماری عملی زندگی اسلام اور شارع اسلام سے بالکل خالی ہوچکی ہے۔ جب جذباتیت کا کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو ہمارا مبلغ فکر فورا پکار اٹھتا ہے کہ یہ ’’یہود، نصاریٰ اور کفر کی سازش ہے‘‘۔ اس کی سچائی پر ہم سوال نہیں اٹھاتے، لیکن اس سوال سے بھی توپہلی تہی نہیں کیا جاسکتا کہ ہماری زندگی اسوہ رسول اکرم ﷺ سے مختلف کیوں ہے؟ اس میں کس کی سازش ہے۔۔۔؟!!!!!!!!!۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here