0
276
مقالات جہازی

 

حضرت مولانا محمد سالم جامعی صاحب حفظہ اللہ
ایڈیٹر ہفت روزہ الجمعیۃ نئی دہلی

قلم اور زبان پروردگار عالم کی دو بڑی نعمتیں ہیں۔ قلم آلہ علم ہے اور زبان اس علم کی ترجمان ہے۔ جس کسی کو یہ دونوں نعمتیں میسر آجائیں ، اسے خیر کثیر کا حامل کہاجاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتیں اس لیے عطا فرمائیں تاکہ ہم ان کا حامل ان کا صحیح استعمال کرے۔ 

بلاشبہ اسلام دین فطرت ہے اور زندگی کے تمام پہلووں پر محیط ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے واسطے سے پوری انسانیت کو عطا فرمایا۔ اس دین نے دنیائے انسانیت کو امن دیا، انصاف دیا اور سعادت سے نوازا اور اخلاق عالیہ کے حسین زیور سے آراستہ کیا۔ پھر شروع سے ہی اس دین کو ایسے حاملین ملتے رہے، جو دین و شریعت کے ماہر اور دشمنان اسلام کی دسیسہ کاریوں کا ادراک رکھتے تھے۔ انھوں نے اسلام کے آفاقی پیغام اور اس کی علمی ، فکری اور انسانی تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اور اپنی علمی و دینی تصنیفات و تالیفات اور تخلیقات کے ذریعہ دنیا کے سامنے یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح کردی کہ اسلام کسی انسانی ذہن و دماغ کی تخلیق نہیں؛ بلکہ صرف اور صرف اللہ کا نازل کردہ دین ہے ۔ یہ بھی ایک امر مسلمہ ہے کہ چوں کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ آخری نبی ہیں، اس لیے آپ کی امت بھی آخری امت ہے ، جسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور اسلام کی دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ 
اس وقت امت میں دعوت اور اشاعت اسلام کے متعدد طریقے پائے جاتے ہیں ، جن میں تصنیف و تالیف، تقریر و خطابت اور تعلیم و تذکیر وغیرہ شامل ہیں۔ الحمد للہ اس وقت دعوت و اشاعت اسلام کا کام ان تمام جہات سے ہورہا ہے ۔ اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ تمام طریقے اسلام کی تعلیمات مزاج نبوت اور امت محمدیہ کی اجتماعی فکر کے عین مطابق ہے ؛ تاہم یہ ضروری ہے کہ دعوت اور طریق دعوت طریق نبوت کے مطابق ہو، خالص اسلام اور عمل صالح کی دعوت دی جائے اور طریق دعوت وہی اختیار کیا جائے جو داعی اسلام ﷺ نے اختیار فرمایا تھا۔ اس لیے کہ جس حد تک دعوت اور طریق دعوت میں عہد مبارک کے ساتھ قربت و مناسبت ہوگی، اتنی ہی اس میں برکت و تاثیر اور کشش ہوگی۔ گذشتہ چودہ سو سالوں کے دوران جن بزرگوں اور اسلاف کے اصلاحی و تحریری کارناموں کو امت نے سند قبولیت سے نوازا ہے، وہ بھی اسی اصول کی شہادت دے رہے ہیں ۔ 
بر صغیر ہندو پاک میں مسلمانوں کے دینی و سماجی لحاظ سے بحیثیت مسلمان زندگی گذارنے کی جو دینی و فکری راہ اختیار کی، اس کے نتیجہ میں ایک بڑی تعداد میں ایسی ممتاز شخصیتیں وجود میں آئیں، جنھوں نے اپنے علم و فضل اور دینی و علمی رہنمائی سے نہ صرف ملت کو فیض بخشا؛ بلکہ علمی و دینی میدان میں وہ امتیاز بھی حاصل کیا، جس کے ذریعہ وہ اس بر صغیر میں علم و دین کے اثرات اور مفید کار گذاری کے حامل ثابت ہوئے۔ 
مقالہ نگاری کا فن ایک مشکل ترین فن سمجھا جاتا ہے ، اس لیے کہ اس میں مقالہ نگار کو اپنی پسند ، ناپسند سے بالاتر ہوکر انسانی احتیاط کے ساتھ سوچ سمجھ کر قلم اٹھانا اور افراط و تفریط کا شکار ہوئے بغیر واقعی حقائق و واقعات کو خوب صورت الفاظ میں بیان کرنا ہوتا ہے، جس کے لیے وسعت نظر، گہرا مطالعہ، ذکاوت و ذہانت، الفاظ کا انتخاب اور موضوع سے مکمل واقفیت جیسے بنیادی و موثر عناصر درکار ہوتے ہیں۔ 
ہمارے محترم فاضل و عالم، علم و اخلاق، اور مئے خانہ قاسمی سے بھرپور فیض یافتہ مولانا محمد یاسین صاحب قاسمی جہازی گڈاوی کو پروردگار عالم نے اپنی خصوصی رحمت کے سایہ میں مذکورہ بالا اوصاف وکمالات سے حصہ وافر عطا فرمایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں علمی تحقیق و تدقیق کے ساتھ زبان و قلم کی شہ سواری سے بھی نوازا ہے ۔ وہ اپنے دور طالب علمی سے ہی تصنیف و تالیف اور مقالہ نگاری کے ذوق کے حامل رہے ہیں ۔ ان کی متعدد مطبوعہ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ تصنیف و تالیف ، قلم و کتاب کے حوالے سے ایک بے حد پسندیدہ اور دل چسپ موضوع ہے ، جس کا خصوصی ذوق پروردگار عالم نے مولانا موصوف کو خوب خوب عطا کیا ہے ۔ زیر نظر ’’مقالات جہازی‘‘ اس کا ایک اعلیٰ اور خوب صورت نمونہ ہے۔ 
مولانا محمد یاسین قاسمی دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور علمی و ادبی ذوق کے حامل عالم دین ہیں۔ تا دم تحریروہ جمعیۃ علماء ہند کے ’’مرکز دعوت اسلام‘‘ سے وابستہ اور دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی دفتر میں مقیم ہیں ۔ ان کا وطن جھارکھنڈ کے ضلع گڈا کا ایک معروف قریہ ’’جہاز قطعہ‘‘ ہے۔ 
مولانا موصوف کے مقالہ جات کا یہ مجموعہ سر دست ویب سائٹ کی زینت بن رہا ہے ، جو دینی تعلیم و تبلیغ اور اشاعت اسلام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک اچھی مثال ہے۔ راقم الحروف کے سامنے اس وقت مضامین و مقالات کے عنوانات کی تقریبا ستر موضوعات پر مشتمل ایک فہرست ہے ، جس سے مولانا قاسمی کے ذہنی و فکری اور علمی رجحان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو قائم رکھے اور اسے مزید وسعت دینے کی توفیق ارزانی فرمائے اور اس سے امت کو استفادہ کا موقع عطا فرمائے ، آمین۔ 

(مولانا) محمد سالم جامعی ( صاحب حفظہ اللہ) 
ایڈیٹر ہفت روزہ الجمعیۃ نئی دہلی
۱۳؍ اگست ۲۰۱۸ء 
پیر

دل کی بات
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
دارالعلوم دیوبند کے طالب علمی کے زمانہ میں لاشعوری طور پر قلم پکڑنے کی کوشش کی۔ یہی کوشش لگن اور شوق میں تبدیل ہوگئی ۔ اور شوق کا یہ سفر تا ہنوز جاری و ساری ہے۔ اس سفر شوق و طلب میں جن راہوں سے گذارا ، انھیں غبار راہ کو اس میں یکجا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ امید ہے کہ یہ کوشش نو وارد اہل قلم کے حوصلوں کو مہمیز کرنے کا فریضہ انجام دے گی اور پھر وہ بھی اپنی پرواز کو جاری و ساری رکھیں گے۔
اس میں کچھ مقالات وہ ہیں جو زمانہ طالب علمی کی لاشعوری کوششیں ہیں، انھیں’’ کاوشیں زمانہ طالب علمی کی‘‘ کے عنوان سے پیش کیا جارہا ہے۔ اور جو مقالات دارالعلوم سے فراغت کے بعد کے ہیں، انھیں اس کے بعد شامل کتاب کیا جارہا ہے۔ امید ہے کہ مطالعہ میں زمانہ کے امتیاز کا خیال رکھتے ہوئے مقالہ سے استفادہ و افادہ کی کوشش کی جائے گی۔
دوسرے دور کے مقالات وہ ہیں، جو کسی ویب پورٹل ، اخبار یا کسی موقع کی طلب پر لکھے گئے ہیں اور اکثر مقالات مختلف ویب سائٹوں، روزنامہ، سہ روزہ اور ہفت روزہ اخبارات و رسائل میں اشاعت پذیر ہوچکے ہیں۔ امید ہے کہ یہ مقالات قارئین کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔ دعوات صالحات میں فراموش نہ کریں، جزاک اللہ خیرا و احسن الجزاء۔

محمد یاسین قاسمی 
جمعیۃ علماء ہند۴؍ اگست ۲۰۱۸ء

اس کتاب کو آن لائن پڑھنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں

https://drive.google.com/file/d/15Y7nYsu8BpCOrXBY15_5nGJFeCn9kJrw/view

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here