ہندی اردو ہندوستان کی مشترکہ وراثت کا آئینہ :سلمان خورشید

0
224

انڈیا انٹر نیشنل سینٹر میں شاعر شیام سندر سنگھ کی بیک وقت ہندی اور اردو شاعری کی دو کتابوں کا رسم اجراء

نئی دہلی 20ستمبر(پریس ریلیز)انڈیا انٹر نیشنل سینٹر میں شاعر شیام سندر سنگھ کی بیک وقت ہندی اور اردو شاعری کی دو کتابوں کا رسم اجراء عمل میں آیا۔اردو شاعری کی کتاب ’احساس ِ نہاںخرد و روایت کا اجراء سابق وزیر اور سنئیر کانگریس لیڈر سلمان خورشید نے کیا تو ہندی کی شاعری ’سنگ راہ دین و دنیا ‘کا مشہور سنیئرصحافی وید پرتاپ ویدک نے کیا ۔
اس موقع پر وید پرتاپ ویدک نے کہا کہ جو باتیں ہم اپنے تقاریر میں یا مضمون میں لکھنا چاہتے ہیں ،وہ بہت چھوٹے میں ،مختصراًشیام سندر نے اپنی شاعری میں کہہ دی ہیں۔انہوں نے ہندی اور اردو کی مشترکہ تہذیب و روایت کی زندہ مثال ہندی اور اردو دونوں میں ایک ساتھ لکھ کر پیش کیا ہے ۔
سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے کہا کہ شیام سندر کی یہ کوشش ہندوستان کی مشترکہ وراثت کا آئینہ ہے۔جسے آج ہم سب اسی مشترکہ وراثت کو سنبھالنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
اس موقع پر نواب کاظم علی خاں نے کہاکہ شیام سندر کی تخلیق گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے ۔ان کی کاویشوں نے ایک بار پھر ہندی اردو کو ایک ساتھ پیش کرکے ہندوستانی قوم ہونے کا ثبوت فراہم کیاہے۔آج ایسے شاعروں اور مصنفوں کی شدید ضرورت ہے جو سماج کے مٹھاس کو سمجھتے ہوئے دونوں زبانوں کی تحفظ کو یقینی بنائے ۔یہی ہندی اردو کی جوڑی نے دنیا میں امن و محبت کے پیغام کو عام کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ملک میں آپسی بھائی چارے کے ماحول کو پروان چڑھانے کے لئے اس طرح کی کوشش خوش آئنداور قابل تعریف ہے ۔
مشہور و معروف فکشن نگار مشرف عالم ذوقی نے شیام سندر کی شاعری بدلتے وقت کی اور وقت کو بدل دینے والی شاعری کہا ۔پروفیسر دیویندر چوبے جواہر لال نہرویونیورسٹی نے کہا کہ شیام سندر کی شاعری ایک بہت بڑے فلک پہ سوالوں کو اٹھاتی ہے ۔
پروفیسر منندر ناتھ ٹھاکر نے کہا کہ شیام سندر کے پاس جو سیاست ،فلسفے اور سماج کی گہری سمجھ ہے ،وہ دوسرے شاعروں میں نہیں ملتی ۔یہ انہیں عام سوشل سائنٹسٹوں سے الگ کرتی ہے۔
اس موقع پر جے این یو کے پروفیسر اخلاق آہن ،دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر خالد علوی ،ستیہ پال گروور،کشل کشور ،اطہر حسین انصاری ،محمد عالم،آل انڈیا ریڈیو اردو نیشنل چینل کے افتخارالزماں ،فلاح الدین فلاحی ،کامران خان ،محمد فرید خان سمیت سینکڑوں لوگ موجود تھے۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here