انسان کی انسانیت کے تئیں ذہنیت

0
197

ضرورت ہے کہ انسان اپنی انسانیت کا سبق قرآنی کواکے کردار سے سیکھے
محمد یاسین جہازی، جمعیۃ علماء ہند

9871552408
منطقی اصلاح کے مطابق انسان بھی حیوان کی ہی ایک قسم ہے؛ البتہ حیوان اور انسان میں فرق یہ ہے کہ انسان حیوان ناطق ہے اور حیوان حیوان غیر ناطق۔ اس فرق کے علاوہ ایک اورفرق بھی ہے ، جس کی وجہ سے اسے انسان کہا جاتا ہے۔سماجی ماہرین کا ماننا ہے کہ انسان کی انسانیت کا مظاہرہ اجتماعی زندگی میں ہوتاہے،اور اجتماعیت سماج کی تشکیل کرتی ہے، جس کے باعث حضرت انسان سماجی حیوان بھی کہے جاتے ہیں۔ یہ تینوں(ناطقیت، انسانیت اور سماجیت) خصوصیات انسان کو دوسری تمام مخلوقات پر تفرق و برتری عطا کرتی ہیں ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ناطقی صلاحیت کی وجہ سے اپنے ہم جنس اور غیر جنس کے مافی الضمیر کو دیگر کسی بھی مخلوقات کے مقابلے میں زیادہ اچھے طریقے سے ادا بھی کرسکتا ہے اور سمجھ بھی سکتاہے۔ انسانیت کی صفت اسے اپنے بھائیوں اوردوسری مخلوقات کے ساتھ ہمدردی ، غم گساری اور دکھ درد کو برابر سمجھنے اور شریک ہونے پر مجبور کرتی ہے۔ اور سماجیت اسے دعوت دیتی ہے کہ اجتماعی زندگی میں ایک دوسرے کے شریک کار اور معاون بن کر زندگی گذاریں، کیوں کہ اس کے بغیر انسانیت اور ناطقیت کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی ہے۔
لیکن جب ہم اپنے آپ کو ان تینوں خصوصیات سے متصف سمجھتے ہوئے اپنی عملی زندگی اورمائنڈ سیٹ کا جائزہ لیتے ہیں، تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم صرف ظاہری شکل و صورت کے اعتبار سے انسان کہے جاتے ہیں، ورنہ انسان پکارے جانے کے لیے کوئی بھی وصف ہمارے اندر باقی نہیں بچا ہے۔ ہمارے اندر کی ناطقیت، انسانیت اور سماجیت سب مرچکی ہے۔ اور ہم اس کوے کے اخلاق سے بھی زیادہ گرچکے ہیں، جس نے تینوں صفتوں سے محروم ہونے کے باوجود ایسی انسانیت اور اعلیٰ کردار کو پیش کیا کہ خوز زبانی ربانی اس کی مدح و توصیف میں رطب اللسان ہوئی اور قرآن میں اس کا ذکر فرماکر ہمیشہ ہمیش کے لیے ہمارے لیے نمونہ بنادیا۔
الدر المنثور میں سورہ مائد کی آیت نمبر ۳۱ کی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ کا قول نقل کیا گیا ہے کہ شادی کے معاملہ کو لے کر قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا۔ روئے زمین پر چوں کہ پہلا قتل اور پہلی میت تھی، اس لیے قابیل کو سمجھ میں نہیں آیاکہ اس کے ساتھ کیا کریں۔ چنانچہ بہت پریشان ہوا۔ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے یہ منظر دکھایا کہ ایک کوا ایک دوسرے مردہ کوے کو لے کر آیا،اوراپنے پیر سے زمین کھود کر اس میں چھپا دیا، تاکہ اسے دوسرے چیر پھاڑ کرنے والے پرندے درندے اس کی بے حرمتی نہ کریں۔ اس منظر کو دیکھ کر قابیل بہت شرمندہ ہوا کہ اور کہا کہ
یا ویلتا اعجزت ان اکون مثل ھذا الغراب فاواری سوء ۃ اخی۔
ہائے افسوس! مجھ سے اتنا نہ ہوسکا کہ میں اس کوے کے برابر ہوسکوں کہ میں اپنے بھائی کی نعش چھپاؤں۔
المختصر، اس کوے کی کہانی ہمارے انسان ، انسانیت اور مائنڈ سیٹ کے لیے بہت سبق افروز ہے کہ وہ جانور ہوکر بھی اپنے ہم جنس کے لیے مرنے کے بعد بھی عزت و احترام اور تعاون کا عملی کردار پیش کر رہا ہے، جب کہ ہمارا طرز عمل اس کے بالکل برخلاف ہے۔جانوروں اور پرندوں کو چھوڑ دیجیے،ہم اپنے ہی جنس اور بھائیوں کے ساتھ ایسا وحشیانہ اور ظالمانہ سلوک کرتے ہیں کہ بے شعور مخلوق بھی ہماری اس حرکت پر پشیماں پشیماں ہوجاتی ہے۔ ا ور حیرت و استعجاب میں اس کی زبان حال گویا ہوتی ہے کہ ’’کیا یہ انسان ہے؟!‘‘۔ چند مثالیں پیش خدمت ہیں:
(۱) برق رفتار لائف کی وجہ سے حادثات زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہم اپنی جلدی کے شوق کو پورا کرنے کے لیے کسی دوسرے کی زندگی کی بھی پرواہ نہیں کرتے اور اسے ٹکر مارتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہماری اتنی سی بھی انسانیت نہیں جاگتی ہے کہ اگر اتفاقی طور پر حادثہ ہوگیا ہے تو چلو، کم از کم اسے ہاسپٹل پہنچا دیں اور اس کی زندگی بچانے کی کوشش کریں۔ متاثرہ شخص کی زندگی سے زیادہ اپنے تحفظات سامنے آجاتے ہیں اور ہم اسے تڑپتا چھوڑ کر آگے بھاگ جاتے ہیں۔
چلو مان لیتے ہیں کہ حادثہ چوں کہ خود سے ہوا تھا، اس لیے ہندستانی سماجی رد عمل اور طول طویل قانونی پروسیس کے خوف سے بھاگنا ہماری مجبوری ہے؛ لیکن ہم اس جذبہ کو کیا نام دیں گے ، جب پیچھے سے آنے والا کوئی دوسرا شخص یہ منظر دیکھ رہا ہوتا ہے اور وہ بھی کوئی پرواہ کیے بغیر تیزی سے آگے بھاگ جاتا ہے۔وہ کتنا پتھر دل ہوجاتا ہے کہ زخموں سے چور چوربدن کو دیکھ کر بھی انسانیت نہیں پھڑکتی اور بھاگنے کو ہی عقل مندی سمجھتا ہے!۔
چلو اسے بھی مان لیتے ہیں کہ وہ اپنی گاڑی سے جارہا ہے، اسے جانے کی جلدی ہے، اس کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ کسی دوسرے کی نگہہ داشت کرسکے، لیکن پھر اس جذبہ کو کیا کہیں گے کہ درجنوں پیدل چلنے والے افراد آس پاس ہوتے ہیں؛ لیکن یہ بھی دست تعاون دراز نہیں کرتے ۔ منظر دیکھ کر ذرا سا رکتے ہیں، گاڑی والوں کو چند کلموں سے نوازتے ہیں، پھر آگے بڑھ جاتے ہیں، حالاں کہ زخمی شخص زبان حال سے کہہ رہا ہوتا ہے کہ بھائیو! میری مدد کرو، بھائیو! میری مدد کرو۔ لیکن اس کی آواز انسانیت کی جنگل میں فنا ہوجاتی ہے اور کوئی بھی نہیں سنتا۔
چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ یہ غریب آدمی قانون کے پروسیس سے گھبرا کر قریب نہیں جاتا، حالاں کہ اس کا دل چاہتا ہے کہ اس کی مدد کرے؛ لیکن پھر اس جذبہ کا کیا مطلب ہوگا کہ راہ گیروں کا جم غفیر تڑپتا منظر کو دیکھ کر لطف اندوز تو ہوتا ہے، اس کی ویڈیو تو بناتا ہے، لیکن یہ کوشش نہیں کرتا کہ اسے جلد از جلد ہاسپیٹل پہنچادیں، تاکہ اس کی زندگی بچ سکے۔
چلو اسے بھی مان لیتے ہیں کہ ویڈیو گرافی بھی انسانیت نوازی کا ایک حصہ ہے کہ اس خونی منظر کو بعد میں بار بار دیکھیں گے اور اپنی سوئی ہوئی انسانیت کو جگائیں گے، پھر جب انسانیت جاگ جائے گی تو اگلے حادثہ پر پوری انسانیت کا مظاہرہ کریں گے۔ لیکن پہلی بات یہ کہ ہمارا یہ مقصد بالکل نہیں ہوتا؛ بالفرض مان لیتے ہیں کہ ہم انسانیت جگانے کے لیے ہی ویڈیو گرافی کر رہے ہوتے ہیں، تو پھر اس حرکت کی کیا تاویل کریں گے کہ اسے فورا سوشل میڈیا پر شئر کرتے ہیں اور اس میں یہ پیغام دیتے ہیں کہ’’ بھائی یہاں حادثہ ہوگیا ہے، اسے زیادہ زیادہ سے شئر کرو۔‘‘ کوئی بھی یہ نہیں کہتا ہے کہ بھائی اس کی مدد کرو، اس کو جلد از جلد ہاسپیٹل پہنچاؤ۔
زیادہ تر حاثات کی رپورٹ کہتی ہے کہ اگر وقت پر اسے فرسٹ ایڈ مل جائے ، اور اسے فورا کسی قریبی ہاسپٹیل میں پہنچا دیا جائے تو شاید زندگی بچ سکتی ہے ۔ لیکن ہماری انسانیت اور مائنڈ سیٹ کوے کے اخلاق و کردار کو بھی شرمندہ کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتی ہے اور زندگی کا روز مرہ کا حادثہ سمجھ کر بھلا دیتے ہیں۔ کوے نے تو اپنے مردہ بھائی کے ساتھ عزت و تکریم کا معاملہ کیا اور ہم انسان ہوکر بھی مردہ تو دور؛ زندہ کی تڑپتی زندگی کو بچانے اور سہارا دینے کے لیے آگے نہیں آتے ؛ اس سے زیادہ ہماری انسانیت کے لیے چیلنج کی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔
مثالیں اور بھی ہیں: مساجد و مدارس ، مکاتب اور دیگر اداروں میں ملازمین کو ’’ تن خواہ ‘‘ دی جاتی ہے۔ ہم نے کبھی سوچا کہ ’’تن خواہ‘‘ کا کیا مطلب ہوتا ہے اور ہم انھیں کیا دیتے ہیں!۔ ہمارا کردار تو یہ بتاتا ہے کہ جن ملازمین کے خون پسینے کی محنت و مشقت کی بدولت ہمارا کاروبار حیات قائم و دائم ہے، ہم کہیں اسے ’’تن خواہ‘‘ کے بجائے ’’سیلری‘‘ تو نہیں دے رہے ہیں ۔ اور پھر کیا سیلری دینا ہماری انسانیت کے ثبوت کے لیے کافی ہے؟؟!!!
شادی کے موقع پر لڑکی والوں سے جہیز کے مطالبات،کسی بھائی سے بھاری رقم قرض لے کر ادائیگی سے بے اعتنائی، حج و عمرہ جیسے مقدس عبادتوں کے نام پر لوٹ کھسوٹ، ملازمت میں بوس کا منظور نظر بننے کے لیے دوسرے اسٹاف کا شکوہ، شکایت،ایک دوسرے کے اعتماد اور رشتے کو خراب کرنے کے لیے چغل خوری، لگائی بجھائی،ذاتی مفاد کے پیش نظر دھوکہ دہی و جعل سازی اور اس طرح کے سیکڑوں ایسے معاملات ہیں، جہاں ہم انسانیت اور اخلاق سے اتنے نیچے گرجاتے ہیں کہ جانور بھی ہماری ان حرکتوں کو دیکھ کر انگشت بدنداں اور حیرت و استعجاب کا مجسمہ بن جائے گا۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اگرہم انسان سے نہیں؛ توکم از کم جانور اور بالخصوص قرآنی کوے کے اعلیٰ کردار سے ہی سبق حاصل کرتے ہوئے یہ عہد کریں کہ ایسا کوئی کام نہیں کریں گے ، جو ہماری انسانیت کے لیے چیلنج اور اس نام کے لیے دھبہ ہو۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر انسانیت کا جذبہ بیدار کرے، آمین۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here