ماحولیات کے تحفظ کے لیے اسلامی فارمولے

0
202

آسماں ہے دھنواں دھنواں اور زمیں مسموم ہے
محمد یاسین جہازی
9871552408
تہوار خوشی منانے، خوشی بانٹنے اور خوشی پھیلانے کے لیے منایا جاتا ہے، لیکن اگر وہ صحت خراب کرنے، سانس اٹکانے اور آگ لگانے کا ذریعہ بن جائے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم تہوار نہیں؛ بلکہ موت کا جشن منا رہے ہیں۔
ہر سال کے تجربے کے مد نظر گائڈ لائن جاری کرتے ہوئے ۲۳؍ اکتوبر ۲۰۱۸ء کو سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ دیوالی صرف آٹھ بجے رات سے دس بجے رات تک ہی منائی جائے؛ لیکن کل رات کے منظر نامے نے بتلایا دیا کہ ہم نے سپریم کورٹ کی حکم کی کیا دھجیاں اڑائی ہیں۔ ہم رات بھر کیمکل اور جاں لیوا بارود سے بنے پٹاخے پھوڑتے رہے ، جس کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے ۔معمول کے مطابق ساڑھے پانچ بجے صبح اٹھ کر کمرے سے باہر آیا ، توآنکھوں میں چبھن محسوس ہوئی، نظر اٹھا کر دیکھا تو چاروں طرف دھنواں کی موٹی پرت چھائی ہوئی تھی، صبح کی صاف شفاف فضا دھندلی اور بارودی بدبو سے متعفن تھی، سانس لینا بھی مشکل اور آنکھ کھولنا بھی تکلیف کا باعث تھا۔موسم اور حالات کی خبروں پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ (P.M.2.5) جس کی نارمل سطح سے ایک سو ایک سے صرف دو سو تک ہے، وہ نوسو نناوے تک پہنچ گیا ہے، جو مشین کے ناپنے کی آخری کیپی سیٹی ہے۔جگہ جگہ آگ اور جلنے کی خبروں سے اسکرین سے شعلہ برس رہے تھے۔ صرف دہلی کی بات کریں تو محکمہ فائر بریگیڈ کو دو سے زائد مقامات پر آگ لگنے کی شکایات موصول ہوئیں ۔ پورے بھارت میں تقریبا ایک ہزار سے زائدجگہوں پر آگ لگی ، جس میں کروڑوں املاک اور درجنوں جانیں ہلاک اورگاڑیاں تباہہوگئیں، گویا یہ تہوار دیپ جلاکر تاریکی مٹانے کے بجائے تاریکی پھیلانے کا سبب بن گیا۔
اسلام ایک دین فطرت ہے، اس کے پاس فطرت کے خلاف ہر بغاوت کا علاج موجود ہے۔ آب وہوا کے تحفظ کے لیے اسلام نے ایک ایسی صدی میں واضح پیغامات دے دیے تھے، جس وقت کہ پولیشن کے نام سے بھی دنیا واقف نہیں تھی۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ ہدایا ت کیا ہیں۔
ماحولیات کے ماہرین کے مطابق پولیوشن کی چھ قسمیں ہیں۔
(۱) فضائی آلودگیاں۔ (۲) آبی آلودگیاں۔ (۳) صوتی آلودگیاں۔ (۴) زمینی آلودگیاں۔ (۵) شعاعی آلودگیاں۔(۶) روشنی کی آلودگیاں۔
(1) فضائی آلودگیوں سے تحفظ پر اسلامی ہدایت
تہوار کے موقع پر آتش بازی کے علاوہ بڑی بڑی کمپنیوں سے خارج ہونے والے گرین ہاوس گیس، کثیر مقدار میں فضا میں جلے ہوئے ٹھوس اور سیال اجزا جیسے دھول، دھنویں اور اسپرے کی آمیزش بہت ہی خطرناک طریقے سے فضا کی کثافت میں اضافہ کررہی ہے۔جس سے سانس، کینسر، وضع حمل اور سقوط حمل جیسی مہلک بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔اس سے بچنے کے لیے اسلامی ہدایات درج ذیل ہیں۔
(1) اسلام انسانوں کو یہ ہدایت دیتا ہے کہ اگر کوئی انسان مرجائے، تو اسے پہلے غسل دو، پھر کفن بھی دو اور بعد ازاں قبر میں رکھ دو۔ ارشاد خداوندی ہے کہ
ثُمَّ أَماتہُ فَأَقْبَرہُ (سورہ عبس، آیت 21، پارہ 30)۔
(پھر اسے موت دی اور قبر میں پہنچا دیا۔) انعام و اکرام والی آیتوں کے ضمن میں یہ آیت وارد ہوئی ہے،لہذااس کا جہاں ایک مقصد یہ ہے کہ انسانوں کی تکریم ہو، اور اس کی لاشوں کو درندے اور پرندے نہ نوچ کھائیں، وہیں ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مردہ جسموں سے پیدا ہونے والے تعفن سے فضا مسموم نہ ہو۔
بین ٹلی یونیورسٹی کے پروفیسرسوسن ڈوب سچا کا کہنا ہے کہ جلتی لاش کے دھنویں سے کاربن مونو آکسائیڈ، کالک، سلفر ڈی آکسائیڈ اور خطرناک بدبو ہوا میں تحلیل ہوتی ہے، جس سے فضا مکدر ہوجاتی ہے، اسی طرح اس کی راکھ کو پانی میں ڈالنے سے یہ سب زہریلی اثرات پانی کو متاثر کرتے ہیں اور آبی آلودگی کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے بالمقابل اگر لاش کو زمین میں دفن کردیا جائے، تو زمین لاش کو خود میں جذب کرکے مٹی بنالیتی ہے اور اس سے نیوٹرینٹ حاصل کرتی ہے۔ جس سے اس کی قوت افزائش میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
(2) ہرے بھرے پیڑ پودے اور سرسبز شادابی نہ صرف منظر کو حسین بناتے ہیں؛ بلکہ اس سے فضائی آلودگیاں بھی ختم ہوتی ہیں۔ سائنسی تحقیق کے مطابق انسان جب سانس باہر نکالتا ہے، تو مضر کاربن ڈائی آکسائڈ چھوڑتا ہے اور سانس لیتے وقت آکسیجن کھینچتا ہے، پیڑ پودے اپنے عمل تنفس میں کاربن ڈائی آکسائڈ کو جذب کرتے ہیں اور آکسیجن چھوڑتے ہیں، اس اعتبار سے پیڑے پودے انسانوں کو فریش اور تازہ ہوا مہیا کراتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسے مضر کاربن کو ہضم کرکے ہوا میں توازن پیدا کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں درخت لگانے کی خصوصی ہدایت دی گئی ہے۔
اسلام میں شجر کاری کی اہمیت
اسلام نے شجر کاری کی خصوصی ہدایات دی ہیں اور اسے ثواب اور صدقہ جاریہ کا ذریعہ بتایا ہے۔ اور بلاضرورت درخت کاٹنے سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ:
قَالَ رَسُولُ اللَّہِﷺ : مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ یَزْرَعُ زَرْعًا فَیَأْکُلُ مِنْہُ طَیرٌ أَوْ إِنْسَانٌ أَوْ بَھِیمَۃٌ إِلَّا کَانَ لَہُ بِہِ صَدَقَۃٌ (صحیح البخاری، کتاب المزارعۃ، بَاب فَضْلِ الزَّرْعِ وَالْغَرْسِ إِذَا أکِلَ مِنْہُ)
مسلمان جو بھی میوہ دار درخت لگاتا ہے یا کھیتی کرتا ہے اور اس سے پرندے، آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں اس کا ثواب اس کو ملتا ہے۔
درخت لگانے کے ساتھ ساتھ اسلام نے یہ بھی تعلیم دی ہے کہ جو کارآمد درخت ہے اسے نہ کاٹا جائے، چنانچہ ارشاد گرامی ہے کہ
قَالَ ﷺ: مَنْ قَطَعَ سِدْرَۃً صَوَّبَ اللَّہُ رَأْسَہُ فِي النَّارِ۔ (سنن ابی داود، کتاب الادب، باب قطع السدر)
جو شخص بیری کا درخت کاٹے گا، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں ڈال دیں گے۔
اسلام کی تعلیم یہ بھی ہے کہ اگر کوئی زمین بے آب وگیاہ پڑی ہے، اور صاحب زمین خود سے کچھ نہیں کرپاتا، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کو دیدے تاکہ وہ اسے قابل کاشت اور قابل استعمال بنائے۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ: مَنْ کَانَتْ لَہُ أَرْضٌ فَلْیزْرَعْھَا، فَإِنْ لَمْ یَزْرَعْھَا، فَلْیُزْرِعْھَا أَخَاہُ۔ ( مسلم، کتاب البیوع، بَابُ کِرَاءِ الْأَرْضِ)
حوالے اور بھی ہیں، جنھیں اختصار کے پیش نظر ترک کیا جاتا ہے، ان تمام تعلیمات و ارشادات سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام نے نہ صرف شجرکاری کو فروغ دینے کے احکامات جاری کیے ہیں؛ بلکہ اسے صدقہ جاریہ کا ایک بہترین ذریعہ قرار دیا ہے، جس کا فائدہ صرف اس دنیاوی زندگی تک محدود نہیں رہ جاتا؛ بلکہ آخروی زندگی کے لیے بھی مفید تر قرار پاتا ہے۔ اور اسلامی تعلیمات کی یہی معنویت اسے آفاقی، دائمی اور فطری ہونے کا امتیاز بخشتی ہے۔
فضائی کثافت سے بچنے کے لیے اسلام کی یہ خوبصورت تجاویزہیں اگر ان پر عمل کرلیا جائے، تو ایک حد تک فضائی آلودگی سے نجات مل سکتی ہے۔
(2) آبی آلودگیوں کا اسلامی تحفظ
نامیاتی اور غیر نامیاتی صنعتی فضلات، فیکٹریوں سے نکلنے والی ردیوں اور گرم پانی، پلاسٹک، ربر، کیمیکل سے بنی چیزیں اورنالیوں کے گندی پانی کو دریاوں اور بڑے بڑے آبی ذخائر میں ڈالنے سے آبی آلودگیاں پیدا ہورہی ہیں۔جن سے نہ صرف انسان؛ بلکہ چرند، پرند؛ حتیٰ کہ نباتات اور سمندری مخلوقات بھی بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔
اسلامی نظریہ کے مطابق پانی ہر چیز کی روح حیات ہے، اس لیے اسے گندہ کرنے سے ممانعت وارد ہوئی ہے۔ اور اس کے تحفظ کے لیے کئی اہم طریقے بتلائے گئے ہیں، جو درج ذیل ہیں:
(1) اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَۃَ: الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ، وَقَارِعَۃِ الطَّرِیقِ، وَالظِّلِّ (سنن ابی داود، کِتَاب الطَّھَارَۃِ، بَابُ الْمَوَاضِعِ الَّتِي نَھیَ النَّبِيُّ ﷺَ عَنِ الْبَوْلِ فِیھَا)
’’تین لعنت کا سبب بننے والی جگہوں سے بچو: (۱) پانی کے گھاٹ پر پاخانہ کرنے سے (۲) راستہ میں پاخانہ کرنے سے (۳) سایہ دارجگہوں میں پاخانہ کرنے سے۔
ظاہر سی بات ہے کہ اگر کوئی شخص نہر، نالہ، یا تالاب وغیرہ کے کنارے بول وبراز کرے گا، تو وہ گندگی پانی میں پہنچ جائے گی اور پانی کو آلودہ و ناقابل استعمال بنا دے گی۔
(2) لاَ یَبُولَنَّ أَحَدُکُمْ فِي المَاءِ الدَّاءِمِ الَّذِي لاَ یَجْرِي، ثُمَّ یَغْتَسِلُ فِیہِ۔ (صحیح البخاری،کتاب الوضوء، بَابُ البَوْلِ فِي المَاءِ الدَّاءِمِ)
تم میں سے کوئی اس پانی میں پیشاب نہ کرے جو ٹھہرا ہوا ہو، پھر اس میں غسل کرے۔
آبی آلودگی کے تحفظ کے لیے ہر اس طریقہ پر اسلام نے قدغن لگایا ہے، جس سے نہ صرف یہ کہ پانی آلودہ ہوتا ہے؛ بلکہ ناپاک، حتی کہ طبیعت پر اس کے استعمال سے تنفر بھی پیدا ہوتا ہے، چنانچہ بڑے برتن میں منھ لگاکر پانی پینا، پانی کے برتن میں سانس لینا، یا اس میں پھونک مارنا، برتن کو ڈھک کر نہ رکھنا اور حالت جنابت میں ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل کرنا شامل ہے۔اختصار کے پیش نظر ان کے حوالوں کو ترک کیا جارہا ہے۔
(3) صوتی آلودگی پر کنٹرول کی اسلامی تدابیر
صوتی آلودگی کے بڑے اسباب میں سے صنعتی و تعمیراتی سرگرمیاں، ہمہ وقت چلنے والی مشینیں، جنریٹر، گاڑی اور گانے بجانے کے آلات ہیں، جوفلک شگاف شورو ہنگامہ کا تسلسل پیدا کرتے رہتے ہیں۔ 38 ڈسیمل سے زائد شور ہونے پر چڑچڑاپن، غصہ، ذہنی تناو، حرکت قلب، بلڈ پریشراور بہرے پن کی بیماریاں عام ہوتی جارہی ہیں۔
اسلامی عبادات اور تعلیمات میں صوتی آلودگی کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ اسلا م نقطہ نظر یہ ہے کہ آواز نہ تو بہت زیادہ بلند ہو کہ اس سے دوسروں کو تکلیف پہنچے اور نہ ہی اتنی پست ہو کہ جس مقصد کے لیے آواز نکالی جارہی ہے، وہ مقصد بھی پورا نہ ہو۔ اس تعلق سے چند حوالے ملاحظہ فرمائیں:
(۱) وَلَا تَجْھَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِھَا وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا ( الاسراء، ۱۱۰)
اور آپ اپنی نماز نہ زیادہ بلند آوازسے پڑھیے، نہ بالکل پست آواز سے، بلکہ ان کے درمیان اوسط درجہ کا لہجہ اختیار کیجیے۔
(۲) أَنَّ أَبَا مُوسَی الْأَشْعَرِيَّ، قَالَ: کُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِینَۃِ کَبَّرَ النَّاسُ، وَرَفَعُوا أَصْوَاتَھُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : یَا أَیُّھَا النَّاسُ، إِنَّھُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ، وَلَا غَاءِبًا۔ (سنن ابی داود، باب تفاریع ابواب الوتر، باب الاستغفار)
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ: ہم رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، جب مدینہ سے قریب ہوئے تو لوگوں نے بلند آواز میں اللہ ہو اکبر کا نعرہ لگایا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے کہا (اپنی آواز دھیمی رکھو) تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو۔
ان کے علاوہ بھی حوالے موجود ہیں، جن میں صوتی آلودگی کو ناپسند کیا گیا ہے۔ اگر اسلامی تعلیمات کے مطابق موقع و محل کی مناسبت سے بقدر ضرورت آواز استعمال کرکے انسان اپنے مقصد کو پورا کرے، تو صوتی آلودگی کی روک تھام کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
(4) زمینی آلودگی سے حفاظت کے لیے اسلام کا فارمولہ
پٹرول کی ریفائنری، صابن سازی کے فضلاتی مادے، نمک، تیزاب، نقصان دہ کمیکل اور صنعتی کوڑا کرکٹ زمینی آلودگیوں کے بڑے اسباب ہیں۔ جب بارش ہوتی ہے، تو آسمان کا صاف شفاف پانی بھی زمینی آلودگیوں کی کثافت کو دھونے میں ناکام رہتا ہے۔ جس سے زمین بڑی تیزی سے ناقابل استعمال ہوتی جارہی ہے۔
انسان و حیوانات کے ساتھ ساتھ نباتات کی بقا کا دارو مدار اچھی زمین پر ہے، اسی لیے اسلام نے اس کے برباد کرنے کو سختی سے ناپسند کیا ہے، چنانچہ ارشاد خداوندی ہے کہ
وَإِذَا تَوَلَّی سَعَی فِي الْأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیھَا وَیُھْلِکَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ (البقرۃ،۲۰۵)
اور جب وہ آپ کے پاس سے واپس جاتے ہیں تو ان کی ساری بھاگ دوڑ اس لیے ہوتی ہے کہ زمین میں فساد مچائیں اور کھیتی اور نسل کو تباہ کریں اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔
اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ زمین کی صلاح و فلاح اوراس کی صلاحیت کو غارت کرنا مذموم حرکت ہے، اس لیے وہ تمام کام، جن سے زمین کی فطری صلاحیت متاثر ہوتی ہے، اسلام ان سے باز رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس ہدایت کے پیش نظر اگر قدرتی وسائل کو اعتدال کے ساتھ استعمال کیا جائے، اور اس کو نقصان پہنچنے والے عوامل کو نظر انداز نہ کیا جائے، تو زمینی کثافت رفتہ رفتہ ختم ہوجائے گی۔
(5) شعاعی آلودگی کی روک تھام کے لیے اسلامی اشارات
ذرائع مواصلات: ریڈیو، ٹی وی اور موبائل نیٹ ورکنگ سسٹم میں استعمال ہونے والی برقی لہریں بڑی مقدار میں ریڈیشین خارج کر رہی ہیں، جو حرکت قلب اور سمعی قوتوں کو کمزور کرتی رہتی ہیں۔
اسلامی ہدایات میں یہ کہا گیا ہے کہ انسان ایسی جگہ نہ بیٹھے کہ آدھا جسم تو سایہ میں ہو اور آدھے حصے پر دھوپ پڑ رہی ہو۔ اسی طرح براہ راست سورج کی تپش سے گرم ہونے والے پانی سے بھی وضو اور غسل کرنے کو استحباب کے خلاف سمجھا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک ارشاد ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ
لا تَغْتَسِلُوا بِالْمَاءِ الْمُشَمَّسِ فَإِنَّہُ یُورِثُ الْبَرَصَ۔ (سنن الدار قطنی،کتاب الطھارۃ، باب الماء المسخن)
دھوپ سے گرم ہونے والے پانی سے وضو نہ کرو، کیوں کہ اس سے برص کی بیماری ہوتی ہے۔ یہ ارشاد ہماری رہ نمائی کرتا ہے کہ شعاعیں نقصان دہ ہیں اور ان سے تحفظ کا طریقہ اختیار کرنا ایک انسانی ضرورت ہے، اس لیے جدید سائنسی ایجادات کے نتیجے میں جو نئی نئی شعاعیں اور ریڈیشن وجود میں آئے ہیں، ان کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے حل ڈھونڈھنا اسلامی مزاج کے منافی نہیں، بلکہ اس کی ہمنوائی ہے۔
(۶) روشنی کی آلودگی پر کنٹرول کرنے کے لیے نبوی ارشادات
ضرورت سے زائد روشنیوں سے جہاں انسان کی آنکھیں چندھیاتی اور پرسکون نیند غارت ہوتی ہے، وہیں تاریکی میں پرورش پانے والے چرند پرند اور پیڑ پودے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس پر کنٹرول کرنے کے لیے اسلامی ہدایت یہ ہے کہ ضرورت سے زائد بالکل بھی اجالہ نہ کیا جائے ، کیوں کہ اس سے فائدہ کے بجائے نقصان ہی ہوگا۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ
خَمِّرُوا الآنِیۃَ، وَأَجِیفُوا الأَبْوَابَ، وَأَطْفِءُوا المَصَابِیحَ، فَإِنَّ الفُویْسِقَۃَ رُبَّمَا جَرَّتِ الفَتِیلَۃَ فَأَحْرَقَتْ أَھْلَ البَیْتِ۔ (صحیح البخاری،کِتَابُ الِاسْتِءْذَانِ ، بَابٌ: لاَ تُتْرَکُ النَّارُ فِي البَیتِ عِنْدَ النَّوْمِ۔
ترجمہ: برتنوں کو ڈھک دو، دروازے کو بند کردو اور چراغ بجھا دو، کیوں کہ کبھی کبھار چوہے فتیلہ لے کر بھاگتا ہے ، جس سے گھر والے جل جاتے ہیں۔
یہ حدیث سوتے وقت کی ہدایت پر مشتمل ہے۔ سونے کے بعد چوں کہ روشنی کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اس لیے ہدایت دی جارہی ہے کہ چراغ بھجادو۔ بجھانے کا فائدہ تو یہ ہے کہ بلاضرورت کوئی چیز استعمال نہیں ہوگی، لیکن جلائے رکھنے کا نقصان یہ ہوسکتا ہے کہ چوہا کہیں چراغ گرادے تو گھر میں آگ لگ جائے گی۔ آج کل گرچہ فتیلہ والے چراغ کے بجائے بلب جلائے جاتے ہیں، جس میں چوہے کی شرارت کی گنجائش نہیں ہے، اس کے باوجود شورٹ سرکٹ سے آگ لگنے کی خبریں آتی رہتی ہیں اور شہروں میں بھیپر کی تیز پیلی روشنی سے نچرل لائف والے پرندے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ اس لیے روشنی کے پولیشن سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ غیر ضروری روشنی نہ جلائی جائے۔
بہر کیف شجری کاری اور درج بالا اسلامی تعلیمات پر عمل کرلیا جائے، تو ماحولیاتی کثافت پر کنٹرول ہوسکتا ہے۔ اور دنیا پھر قدرتی آب و ہوا میں سانس لینے کی قابل بن سکتی ہے۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here