کیوں کہ ۔۔۔سماج ابھی بھی زیر تعمیر ہے

0
114

ملازمین کی تن خواہوں میں اضافے کیے بغیر اصلاح معاشرہ ممکن نہیں ہے

محمد یاسین قاسمی جہازی
9871552408

ماہر سماجیات انسان کو ایک سوشل جانور کہتے ہیں؛ کیوں کہ سماج اور اجتماعیت سے کٹ کر رہنا اس کی فطرت کے خلاف ہے۔ انسان کو سماج سے الگ تھلگ کرنا سزا سے کم نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ مجرموں کو ’قید تنہائی‘ کی سزا دی جاتی ہے۔
انسان اپنے اسی سماجی ذہن کی وجہ سے معاشرہ کی تعمیر و تشکیل اور اسے خوب سے خوب تر بنانے میں روز اول ہی سے کوشاں ہے، جس کا سفر تاہنوز جاری ہے۔ آج ہم جسے مثالی سماج کہتے ہیں ، یہاں تک پہنچنے میں صدیاں زمانے سے محو سفر ہیں۔ صاحب’’ فلسفہ اسلام ‘‘لکھتے ہیں کہ
’’انسانوں کی سماجی ذہن اور معاشرتی زندگی رفتہ رفتہ ترقی کے مراحل طے کرتے ہوئے آگے بڑھتی ہے۔ آج دنیا تہذیب وتمدن کے اعتبار سے جہاں تک پہنچی ہے، وہاں تک پہنچنے میں صدیوں کے تجربات اور انسان کی تعمیری کھوج شامل ہے۔ گھوڑے گدھے کی سواری سے ہوائی جہازکے سفر تک اچانک یا یک بارگی نہیں پہنچا گیا ہے؛ بلکہ دونوں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے۔ ؂
کس کا خیال کونسی منزل نظر میں ہے
صدیاں گذر گئیں کہ زمانہ سفر میں ہے
(اقتباس ازعنوان : اشیائے کائنات سے نفع اندوزی کا فطری نظام)
سماجیات کی شروعات بدوی زندگی سے ہوئی ، جو اس کی ابتدائی تصویر تھی جو رفتہ رفتہ شہری معاشرت میں تبدیل ہوئی۔ اس تبدیلی نے تنظیم و ترتیب کا سلیقہ سکھایا تو حکومت کا شعور پیدا ہوا اور پھر عالمی وحدت کی کھوج نے خلافت کبریٰ تک پہنچایا۔
سماج کی تعمیرو ترقی میں جہاں خوبیاں پروان چڑھتی ہیں، وہیں ایسے عوامل و عناصر بھی پنپتے رہتے ہیں جو ایک اچھے سماج کے لیے زہر قاتل ثابت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان سماجی حیوان ہونے کے باوجوداسے اصلاحی تحریکیں چلانی پڑتی ہیں،جو ان برائیوں کو ختم کرکے مثالی سماج بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ چنانچہ آپ نے ایسا اشتہار ضرور دیکھا ہوگاجس کا عنوان ’جلسہ اصلاح معاشرہ‘ وغیرہ ہوتا ہے۔
موجودہ دور میں تعلیمی اور سماجی مجبوری کے تحت جولوگ اپنے معاشرے اور سماج سے دور رہتے ہیں ،ان میں دو قسم کی برائیاں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ تعلیمی مجبوری کے تحت نوجوان لڑکے لڑکیاں اپنے سماج سے دور کسی بڑے شہر کی بڑی یونی ورسٹی میں رہتے ہیں ، جہاں کی چکاچوند اور رنگین زندگیوں سے مرعوب ہوکر اپنی زندگی کو بھی فلمی بنانا چاہتے ہیں اور انسانی سماج کو جانوروں کے سماج تک پہنچانے والی تحریکوں سے متاثر ہوکر جانور بننے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے اور اس طرح سے ’لیونگ ریلیشن شپ ‘ کی زندگی اختیار کرلیتے ہیں ، جو طوائف کی زندگی اور اس زندگی میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا؛ بلکہ یہ کہنا خلاف واقعہ حکایت نہیں ہوگی کہ جس طرح جانور کوئی سماج نہیں بناتا، وہ صرف (companion) بناتا ہے، اسی طرح اس رشتہ میں اس کے علاوہ اور کیا ہوتا ہے؟۔اورجس طرح جانوروں میں کوئی ماں باپ، حسب نسل اور بھائی بہن نہیں ہوتا، اسی طرح اس رشتہ سے پرورش پانے والی مستقبل کی نسل کا کیا یہی نقشہ نہیں ہوگا؟!!۔ میری گذارش یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نیہم کو انسان بنایا ہے، جس میں ماں کی عظمت، والد کا احترام، بہنوں کا تحفظ، بھائیوں کا بازو اور شریک حیاتبیوی جیسی نعمت بخشی ہے، تو ان رشتوں کے تقدس کو پامال کرنا بالیقین انسان کی انسانیت کے لیے ایک چیلنج اور ایسا معاشرہ ایک صالح معاشرہ کے لیے بدنما دھبہ ہے۔
اسی طرح جو لوگ معاشی مجبوریوں کی وجہ سے اپنی فیملی اور معاشرے سے دور رہتے ہیں ، ان کے اندر محرومی و مایوسی اور جنسی جرائم کے جذبات پنپتے لگتے ہیں۔ وہ جہاں کام کرتے ہیں، وہاں انھیں اتنی تن خواہ نہیں ملتی کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں کو ساتھ رکھ سکیں، اور نہ ہی اتنی چھٹی ملتی ہے کہ وہ بار بار اپنی فیملی کے پاس جاسکے، پھر ہوتا یہ ہے کہ جوب ملنے کے بعد فورا شادی ہوجاتی ہے اور جوب ملنے کی وجہ سے فورا ادارہ جوائن کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث نئی نویلی دولہن کو وقت نہیں دے پاتا اور اسے چھوڑ کر کمپنی یا جائے معیشت پر جانا پڑتاہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ یہاں کے معاشرے کو برباد کرتا ہے اور بیوی وہاں کے معاشرے کو بدنام کرتی ہے۔
صرف دنیا کمانے والی کمپنیاں اور ادارے اگر ایسا کریں، تو ہمیں کوئی شکوہ نہیں ، کیوں کہ ایسے ادارے اخلاقیات و سماجیات کے کسی اصول کے پابند نہیں ہوتے، یہ ادارے حصول دولت کے لیے قریبی رشتوں کا خونتک کردیتے ہیں اور انھیں کوئی افسوس نہیں ہوتا کیوں کہ ان کے سامنے صرف اور صرف دولت کی جمع بندی کی ہوس ہوتی ہے اور اس میں کامیاب ہونے کے لیے وہ کسی حد تک گرسکتے ہیں؛ لیکن ہم اس وقت شکوہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جب ہم اسلام کی واضح اور روشن تعلیمات سے منور ذہن و فکر کے ساتھ اسلامی ادارے چلاتے ہیں ، جہاں دن رات خدائی قانون اور نبی اکرم ﷺ کی سیرت مقدسہ و مطہرہ کی تعلیم دیتے ہیں اور اپنے مخاطب کو یہ سکھاتے ہیں کہ مزدوروں کو ان کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اجرت دے دو، جہاں ہم ملنے والے معاوضہ کو سیلری کے بجائے ’’ تنخواہ‘‘ کہتے ہیں، یعنی جتنابدن اور ضروریات زندگی کی طلب ہے، وہ دیتے ہیں، ایسے اداروں میں نوجوان اور پرجوش افراد کو نوکری پر رکھتے ہیں ۔ اور جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ نوکری ملتے ہی شادی ہوجاتی ہے ، لیکن نوکری میں ملنے والی رقم اتنی ناکافی ہوتی ہے کہ اس سے بیوی بچے توکیا اپنا ذاتی خرچہ بھی پورا نہیں ہوتا، جس کے باعث وہ اپنی بیوی کو ساتھ نہیں رکھ پاتا ہے۔ اسی طرح ہم انھیں اتنی چھٹی نہیں دیتے کہ وہ بار باربوقت ضرورت بیوی بچوں سے مل سکے، تو نتیجہ ظاہر ہے کہ معاشرے کاکیا ہوگا اور اس میں چلائی جانے والی اصلاحی تحریکیں کتنی کارگر ہوں گی!!!!۔
شاید انھیں حالات کو دیکھتے ہوئے بھارتی مسلمانوں کے دینی مرکز دارالعلوم دیوبند نے ۱۵؍ اکتوبر کو منعقد مجلس شوریٰ کے اجلاس میں اساتذہ و دیگر اسٹاف کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کی تجویز منظور کی۔ اور پھر صحیح معنی میں منسلک کچھ مدارس نے اس کی تقلید کرتے ہوئے اپنے استاذوں کے محنتانہ میں اضافہ کیا۔ اس اقدام اور اس کی تقلید کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، کیوں کہ وقت کے شدید تقاضے کے بنیاد پر یہ فیصلہ لیاجانا بہت ضروری تھا۔اور ہر مدرسے اور کسی بھی قسم کے ادارے چلانے والے مسلم حضرات کو اس کی تقلید کرنی چاہیے۔
دارالعلوم دیوبند اور دیگر اسلامی ادارے نے یہ فیصلہ کیا تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں، کیوں کہ یہ عین اسلامی ہدایت پر عمل ہے، لیکن ہمارے سامنے کچھ ایسے لوگوں کی بھی نادر مثال موجود ہے، جو خالص تاجر پیشہ ہے، اس کے باوجود اپنے ملازمین کی قیمت کو سمجھتے ہیں اور ان کی محنت سے زیادہ ان کو عطا کرتے ہیں۔ چنانچہ گجرات کے ہری کرشنا ایکسپورٹ کے مالک ہیرا تاجر ساؤ جی ڈھولکیا ۲۳؍ اکتوبر ۲۰۱۴ء سے تقریبا ہرسال دیوالی کے موقع پراپنے یہاں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کو کبھی گھر، کبھی گاڑی ، کبھی زیورات اور دیگر مہنگے مہنگے قیمتی تحفے دیتے رہتے ہیں۔ جذبہ بخش کے حوالے سے این ڈی ٹی وی کے مشہور اینکر رویش کمار کے ایک سوال کے جوابمیں کہا کہ میں جو کچھ بھی ہوں ، انھیں اسٹاف کی بدولت ہوں، اس لیے میں سبھی منافع کو نہیں رکھ سکتا ہوں ، اس میں میرے اسٹاف کا بھی حق ہے۔
آپ نام سے ہی سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ ایسا شخص ہے، جس کے اعمال کا بدلہ دنیاوی زندگی تک ہی محدود ہے، آخرت میں اس کا کچھ صلہ ملنے والا نہیں ہے، اس کے باوجود اپنے اسٹاف کے ساتھ وہی معاملہ کیا ہے، جو سراسر اسلامی تعلیمات پر مبنی ہے، تو کیا ہم مسلمان۔ خواہ کسی بھی ادارے، فیکٹری، دکان وغیرہ کے مالک ہیں، جس میں ہمارے ماتحت کام کرنے والے ملازمین ہیں۔ اس اسلامی سبق کو عملی جامہ پہنانے کے زیادہ حق دار نہیں ہیں؟کیا ہم حالات و ضروریات کے تقاضے کو دیکھتے ہوئے اپنے اسٹاف کے دکھ درد اور غم میں شریک نہیں ہوسکتے؟
مثالی معاشرے کی تعمیرو ترقی کے لیے ضروری ہے کہ جن چھوٹے چھوٹے پہلووں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے، اس پر خصوصی توجہ دیں اور ایک مثالی معاشرے کی تشکیل میں درج بالا مثالوں کی طرح ، یا پھر اس سے اعلیٰ درجہ کا اپنا قابل تقلید کردار ادا کریں، کیوں کہ۔۔۔ سماج کی تعمیر ابھی بھی جاری ہے۔۔۔۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here