سرکار دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری پانچ دن 

0
160

سرکار دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری پانچ دن

بارہ وفات نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک خصوصی تحریر

محمد یاسین قاسمی جہازی

9871552408
آج قلم کی روح بے چین و مضطرب ہے، کاغذ کا دل گریہ کناں و ماتم آسا ہے ، فکر کی لہریں درماندہ و افسردہ ہیں اور خامہ فرسانمدیدہ و دل گرفتہ ہے، اس کے آئینہ و فکر و خیال میں ماضی کے کچھ نقوش ابھرتے ہیں اور پھر غائب ہوجاتے ہیں ،عشق محو حیرت ہے کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے اور کیوں کر ہے؟ قلم کی روح کیا اس لیے بے چین ہے کہ وہ افسانۂ ہجرو وفراق کی خامہ فرسائی کر رہا ہے ، دل قرطاس کیا اس لیے ماتم زار ہے کہ حکایت برق و خرمن کے کرب و کسک سے بے چین ہو اٹھا ہے؟یا پھر تاریخ کے سینے میں محفوظ کچھ قیمتی جاں گسل یادیں اسے گریہ و بکا پر مجبور کر رہی ہیں؟ جی ہاں اس کی وجہ وہی تاریخ کی قیمتی یادیں ہیں، جو ہر صاحب خردو ذی شعور اور مدعی حب آں حضور کو بلک بلک کر رونے پر مجبور کر رہی ہیں۔
راجح تاریخ کے مطابق سرکار دو جہاں نبی اکرم ﷺ کی تاریخ پیدائش ۹؍ ربیع الاول ہے ، جب کہ رحلت نبوی علیہ السلام کی تاریخ ۱۲ ؍ ربیع الاول ہے ۔خود امام اہل سنت فاضل بریلوی اعلیٰ حضرت نور اللہ مرقدہ نے نطق الہلال بارخ ولادۃ الحبیب والوصال میں صفحہ نمبر ۴ پر دلائل کے ساتھ تاریخ پیدائش ۸؍ ربیع الاول اور یوم وفات ۱۲؍ ربیع الاول تحریر فرمایا ہے۔ اور ہمارے یہاں ۱۲؍ تاریخ ، بارہ وفات سے ہی مشہور و معروف ہے۔ آئیے تاریخ سے معلوم کرتے ہیں کہ اس ۱۲؍ تاریخ کو اس کائنات رنگ و بو میں کونسا دلدوز حادثہ پیش آیا تھا کہ اس کی کسک و اضطراب سے دنیا آج بھی آہ فغا کر رہی ہے۔
جب سورہ فتح نازل ہوئی تو سرکار دوجہاں ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی مرضی کو پالیا کہ اب رحلت قریب آگئی ہے۔اس کا اشارہ خود سرکار نے حجۃ الوداع میں کئی مرتبہ دیا ،چنانچہ میدان عرفات کے خطبہ حج میں حمد و صلاۃ کے بعد پہلا درد انگیز یہی جملہ ارشادفرمایا کہ ائے لوگو! میں خیال کرتا ہوں کہ آج کے بعد میں اور تم اس اجتماع میں دوبارہ کبھی جمع نہیں ہوں گے۔ حج سے واپسی کے بعد خداوند متعال کے دیدار کے شوق میں روز بروزاضافہ اور صبح و شام تسبیح و تحمید اور ذکرو اذکار میں انہماک بڑھتا گیا ۔ ایک دن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں تو ان سے ارشاد فرمایا کہ بیٹی ! اب میری رحلت کا وقت قریب معلوم ہوتا ہے۔ایک دن شہدائے احد کی مردانہ وارقربانیوں کا خیال آیا تو گنج شہیداں تشریف لے گئے اور ان کے لیے بڑے درد و گداز سے دعائیں کیں اور انھیں اس طر ح الوداع کہا جس طرح کہ آخری ملاقات پر الوداع کہاجاتا ہے۔ان ایام میں خیال زیادہ تر گزرے ہوئے نیازمندوں کی طرف مائل رہتا تھا ،چنانچہ ایک رات آسودگان بقیع کا خیال آگیا ،تو آدھی رات کو اٹھ کر وہاں تشریف لے گئے اور ارشاد فرمایا کہ انا بکم سلاحقون کہ اب جلد تمھارے ساتھ شامل ہورہا ہوں۔
بیماری کی ابتدا
۲۹؍ صفر بروز سوموار ایک جنازے سے تشریف لا رہے تھے کہ راستے میں ہی سر کے درد سے بیماری کا آغاز ہوگیا ۔ حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ سر مبارک پر رومال باندھا ہوا تھا وہ اس قدر جل رہا رتھا کہ ہاتھ کو برداشت نہ ہوتی تھی۔ مرض بڑھتا گیا اس واسطے ازواج مطہرات نے مرضی سرکار کے مطابق آپ کا مستقل قیام حجرہ عائشہ میں کردیا ۔ ضعف اس قدر طاری تھا کہ حجرہ عائشہ تک خود قدموں سے چل کر نہ جاسکے ۔ حضرت علی اور حضرت فضل ابن عباسؓ نے آپ کے دونوں بازو تھام کر بڑی مشکل سے حجرہ عائشہ تک پہنچایا۔حضرت عائشہؓ نے دعا پڑھ کر جسم اطہر پر ہاتھ پھیرنے کا ارادہ کیا تو حضور اقدس ﷺ نے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
اللھم اغفرلی والحقنی بالرفیق الاعلی
ائے اللہ معافی اور اپنی رفاقت عطا فرما۔
وفات سے پانچ رو ز پہلے
وفات اقدس کے پانچ روز قبل بروز بدھ پتھر کے ایک ٹب میں بیٹھ گئے اور سر اقدس پر پانی کی سات مشکیں ڈالوائیں ۔ جس سے مزاج اقدس میں تھوڑی خنکی اور تسکین ہوئی تو مسجد نبوی تشریف لے گئے اور ایک مختصر تقریر فرمائی جس میں آپ نے یہود و نصاریٰ کی طرح انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنانے سے منع فرمایا ۔ پھر ارشاد فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے ایک بندے کو اختیار دیا کہ وہ دنیا و ما فیہا کو قبول کرے یا آخرت کو ترجیح دے، مگر اس نے آخرت کو قبول کیا۔ یہ سن کر رمز شناس نبوت حضرت ابو بکر صدیق ؓ زاروقطار رونے لگے، جس پر حاضرین نے انھیں تعجب سے دیکھتے ہوئے کہا کہ سرکار ایک شخص کا واقعہ بیان کر رہے ہیں، اس میں رونے کی کیا بات ہے۔ حضرت ابوبکرؓ کی یہ حالت دیکھ کرخیال اشرف سے ارشاد ہوا کہ میں سب سے زیادہ جس شخص کی دولت اور رفاقت کا مشکور ہوں وہ ابوبکر ہیں۔اگر میں کسی شخص کو اپنی دوستی کے لیے منتخب کرتا تو وہ ابوبکر ہوتے، لیکن اب رشتہ اسلام میرے لیے کافی ہے۔ اس کے بعد مسجد کے رخ پر سوائے دریچہ ابوبکر کے سب کو بند کرنے کا حکم دیا۔علالت نبوی پر انصار کو روتے ہوئے دیکھا تو انصار کے ساتھ خیرخواہی کا معاملہ کرنے کی وصیت فرمائی۔پھر حضرت اسامہ بن زید کو شام پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا کہ حلال وحرام کے تعین کو میری طرف منسوب نہ کرنا، میں نے وہی چیز حلال یا حرام کیا ہے جسے قرآن اور خدا نے حلال یا حرام قرار دیا ہے۔پھر اپنے اہل بیت کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ائے رسول کی بیٹی فاطمہ اور ائے پیغمبر خدا کی پھوپھی صفیہ ! خدا کے ہاں کے لیے کچھ کرلو میں تمھیں خدا کی گرفت سے نہیں بچا سکتا ۔
وفات سے چار روز
بروز جمعرات حضرت عائشہؓ سے ارشاد فرمایا کہ اپنے والد ابوبکر اور بھائی عبدالرحمان کو بلا لیجیے اور دوات کاغذ لے آئیے میں ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہوں گے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے سرور کائنات کی شدت مرض کو دیکھ کر یہ رائے ظاہر کی کہ ایسی حالت میں تکلیف دینا مناسب نہیں ہے ،اب تکمیل دین کا کوئی ایسا نکتہ باقی نہیں رہا جس میں قرآن کافی نہ ہو۔ بعض دوسرے صحابہ نے اس رائے سے اتفاق نہ کیا اور شور شرابہ ہونے لگا جس پرحضور نے فرمایا کہ مجھے چھوڑ دو ، میں جس مقام میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف مجھے بلا رہے ہو۔پھر تین وصیتیں فرمائیں کہ کوئی مشرک عرب میں نہ رہے،سفیروں اور وفود کی بدستور عزت و مہمانی کی جائے اور تیسری قرآن کے بارے میں کچھ تھا جو راوی کو یاد نہ رہا۔
وفات سے تین روز پہلے
جمعہ کے دن مغرب کی نماز پڑھائی ۔ پھر غنودگی طاری ہوگئی ۔ عشا کے وقت آنکھ کھلی تو دریافت فرمایا کہ کیا نماز ہوچکی؟صحابہ نے عرض کیا کہ سب لوگ حضور ﷺ کے منتظر ہیں۔ لگن میں پانی بھرواکر غسل فرمایا اور ہمت کرکے اٹھے مگر غش آگیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر آنکھ کھلی تو ارشاد فرمایا کہ کیا نماز ہوچکی ہے ؟ صحابہ نے وہی جواب دیا کہ لوگ سرور کونین کی امامت کے منتظر ہیں۔اس مرتبہ اٹھنے کی کوشش کی مگر بے ہوش ہوگئے۔ جب تیسری مرتبہ جسم مبارک پر پانی ڈالا گیا اور اٹھنے پر غشی آگئی ، تو افاقہ ہونے پر ارشاد فرمایا کہ ابوبکر نماز پڑھادیں۔حضرت ابوبکر بہت رقیق القلب تھے، اس لیے انھوں نے حضرت عمرؓ کو آگے بڑھادیا ۔ مگر حضور نے تین مرتبہ منع فرمایا اور فرمایا کہ نماز ابوبکر ہی پڑھائیں۔حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حیات نبوی میں سترہ نمازیں پڑھائیں۔
وفات سے دو روز پہلے
بروز سنیچر حضرت صدیقؓ ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ سرور کائنات حضرات علی وعباسؓ کے سہارے مسجد تشریف لائے ۔ نمازی نہایت بے قراری سے حضور ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت صدیق بھی مصلیٰ سے پیچھے ہٹے ، مگر حضور نے دست اقدس سے اشارہ کیا کہ پیچھے مت ہٹو، پھر حضور ، حضرت صدیق کے برابر بیٹھ گئے ، اب حضرت صدیق سرکار کی اقتدا کررہے تھے اور مسلمان صدیق اکبر کی اقتدا میں تھے۔ یہ پاک نماز اسی طرح مکمل ہوئی ۔ بعد ازاں حضور حجرہ حضرت عائشہ میں تشریف لے آئے۔
وفات سے ایک روز پہلے
اتوار کے دن صبح بیدار ہوئے تو پہلا کام یہ کیا کہ سب غلاموں کو آزاد کردیا جو ۴۰ کی تعداد میں تھے۔ پھر اثاث البیت کا جائزہ لیا تو صرف سات دینار تھے، جنھیں غریبوں میں تقسیم کرادیایہاں تک کہ آخری رات کو کاشانہ نبوی میں چراغ جلانے کے لیے تیل تک موجود نہیں تھا۔ گھر میں کچھ ہتھیار تھے ، انھیں مسلمانوں کو ہبہ کردیا گیا ۔کمزوری لمحہ لمحہ بڑھ رہی تھی، حتی کہ غشی آگئی جس پر دردمندوں نے آپ کو دوا پلادی، افاقہ کے بعد جب احساس ہوا تو فرمایا اب یہی دوا ان پلانے والوں کو پلائی جائے، کیوں کہ دیدار خداوندی کا اشتیاق اس قدر بڑھ چکا تھا کہ اب اس میں نہ دعا کی گنجائش تھی اور نہ ہی دوا کی۔
یوم رحلت
۱۲؍ ربیع الاول بروز سوموار مطابق مئی یا جون ۶۲۳ ء مزاج اقدس میں کسی قدر سکون تھا نماز فجر ادا کی جارہی تھی کہ سرکار نے مسجد اور کمرہ کا درمیانی پردہ سرکادیا، چشم اقدس نے دیکھا کہ لوگ رکوع و سجود میں مصروف ہیں، اس پاک منظر کو دیکھ کر جوش مسرت سے لب مبارک پر پیاری مسکراہٹ پھیل گئی۔ لوگوں کو خیال ہوا کہ آں حضور مسجد میں تشریف لارہے ہیں ، نمازی بے اختیار ہونے لگے اور نمازیں ٹوٹنے لگیں۔ حضرت صدیق امامت کررہے تھے وہ پیچھے ہٹنے لگے، مگر حضور نے اشارہ اقدس سے سب کو تسکین دی اور چہرہ انور کی ایک جھلک دکھلاکر پھر کمرے کا پردہ ڈال دیا۔ طبیعت کا حال یہ تھا کہ غشی کے ایک بادل آتے تھے اور جاتے تھے ۔ ان تکلیفوں کو دیکھ حضرت فاطمہ رونے لگیں ۔ بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ بیٹی مت رو۔میں دنیا سے رخصت ہوجاوں تو انا للہ و انا الیہ راجعون کہنا ۔ پھر آپ نے ان کے کان میں کہا کہ بیٹی! میں اس دنیا کو چھوڑ کر جارہا ہوں ، جس پر حضرت فاطمہ بے اختیار رونے لگیں۔ پھر فرمایا کہ فاطمہ!میرے اہل بیت میں تم سب سے پہلے مجھ سے ملوگی، جس پر فاطمہؓ بے اختیار ہنس پڑیں۔حضرت حسن و حسین بہت غمگین ہورہے تھے انھیں پاس بلایا ، دونوں کو چوما اور ان کے احترام کی وصیت فرمائی۔ پھر ازواج مطہرات کو طلب فرمایا اور انھیں بھی نصیحتیں کیں۔ پھر حضرت علی کو بلوایا اور انھیں بھی نصیحت فرمائی اور فرمایا کہ الصلاۃ الصلاۃ و ما ملکت ایمانکم، نماز، نماز اور غلام باندی۔رفتہ رفتہ حالت نازک ہوتی جارہی تھی کہ زبان اقدس سے ارشاد ہوا کہ لاالٰہ الا اللہ ان للموت سکرات۔کبھی ارشاد ہو تا کہ اللھم بالرفیق الاعلیٰ۔ آپ کبھی چادر اقدس چہرے پر ڈالتے تھے اور کبھی ہٹا دیتے تھے کہ دفعۃ آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہودو نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، ان لوگوں نے اپنے انبیاء اور ولیوں کی قبروں کو سجد گاہ بنالیا ۔ اسی دوران حضرت عبدالرحمان بن ابوبکر ایک تازہ مسواک لے کر آئے ، جسے دیکھ کر حضور نے مسواک پر نظر جمادی ، جس سے حضرت صدیقہ نے اشارہ سمجھ لیا اور دانتوں میں نرم کرکے مسواک پیش کی ۔ آپ نے بالکل تندرست کی طرح مسواک فرمایا ۔ پھریک لخت ہاتھ اونچا کیا، گویا کہیں تشریف لے جائیں گے اور زبان اقدس سے نکلا کہ بل الرفیق الاعلیٰ ۔ اب اور کوئی نہیں صرف اسی کی رفاقت منظور ہے۔ بل الرفیق الاعلیٰ۔ بل الرفیق الاعلیٰ ۔ تیسری آواز پر ہاتھ لٹک آئے ، پتلی اوپر کو اٹھ گئی اور روح شریف عالم قدس کو ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔یہ ربیع الاول کی ۱۲ کی تاریخ سوموار کا دن اور چاشت کا وقت تھا، عمر مبارک قمری تاریخ کے اعتبار سے ۶۳؍ سال ہوئی ۔
تجہیز و تکفین
منگل کو تجہیز و تکفین کا کام شروع ہوا، فضل بن عباس اور اسامہ بن زید پردہ تان کر کھڑے ہوئے۔ اوس بن خولی انصاریؓ پانی کا گھڑا بھر کر لائے ۔ حضرت عباسؓ اور ان کے صاحبزدے جسم مبارک کی کروٹیں بدلتے تھے اورحضرت اسامہ اوپر سے پانی ڈالتے تھے اور حضرت علیؓ غسل دے رہے تھے۔تین سوتی کپڑوں کا کفن دیا گیا ۔ حضرت صدیق اکبرؓ کی رائے کے مطابق حجرہ عائشہ میں قبر کھودی گئی۔ حضرت طلحہؓ نے لحدی قبر کھودی ۔ زمین میں نمی تھی اس لیے بستر نبوی کو قبر میں بچھا دیا گیا ۔ جب جنازہ تیار ہوگیا تو اہل ایمان نماز کے لیے ٹوٹ پڑے اور سب نے الگ الگ نماز پڑھی۔ جنازہ چوں کہ کمرے میں تھا اس لیے نماز کا سلسلہ تقریبا ۳۲؍ گھنٹہ جاری رہا۔ اس لیے تدفین بروز بدھ رات کو عمل میں آئی ۔ جسم اطہر کو حضرات علی، فضل بن عباس، اسامہ بن زید اور حضرت عبدالرحمان بن عوف رضوان اللہ علیہم اجمعین نے قبر میں اتارا اور اس باعث کون و مکاں ہستی کو ہمیشہ کے لیے اہل دنیا کی نگاہ سے اوجھل کردیا گیا ۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here