یادیں ان کی، ان کی باتیں

0
215

مولانا محمد اسرارالحق قاسمی

یادیں ان کی، ان کی باتیں

محمد یاسین قاسمی جہازی
’’میں نے اب تک ۔۔۔ لاکھ ۔۔۔ہزار ۔۔۔ سو گاوں کا دورہ کیا ہے‘‘۔ یہ پہلا جملہ تھا، جومیں نے مولانا مرحوم کے شیریں خطاب سے دارالعلوم دیوبند کے قدیم دارالحدیث میں سجاد لائبریری کے سالانہ اجلاس میں سنا تھا۔ حضرت مرحوم کو اس سے پہلے کبھی دیکھنے کا شرف حاصل نہیں ہوا تھا، اس کے باوجود ان کی شہرت و عظمت سے کسی قدر ضرور واقف تھا۔ اس تجربات حیات سے مترشح خطاب سننے کے بعد ان سے عقیدت سی ہوگئی، حالاں کہ یہ میرے صغر سنی کا دور تھا۔
درسی تسلسل کی تکمیل کے بعد خدمت و معیشت کے فرائض ادا کرنے کے لیے دہلی نے اپنا دامن پھیلایا تو بیت العلوم جعفرآباد سے وابستہ ہوگیا ۔ اسی دوران حضرت مولانا افتخار احمد قاسمی نائب صدر آل انڈیا ملی و فاونڈیشن نے اپنے مکان کی افتتاحی تقریب کی دعوت رکھی، جس میں ناچیز بھی مدعو تھا۔ یہ دوسرا موقع تھا، جہاں حضرت کا دیدار بھی ہوا اور کچھ گفتگو کا بھی شرف ملا۔
بعد ازاں ۲۰۰۹ء میں ملی خدمات کے شوق کی وجہ سے جمعیۃ علماء ہند نے قبول کیا،تو جمعیۃ کی تاریخ و خدمات کا مطالعہ کرنا ناچیز کی ترجیحات میں شامل ہوگیا، اس بہانے سے مولانا کی کافی تحریریں اور کتابچے پڑھنے کا اتفاق ہوا، اور وقتا فوقتا غیر رسمی ملاقاتیں بھی رہیں۔
۲۰۱۶ء میں جمعیۃ علماء ہند نے عید ملن کا پروگرام کیا، جس میں حضرت مولانا مرحوم نور اللہ مرقدہ نے بھی شرکت فرمائی۔ یہ زندگی کا پہلا موقع تھا، جب ناچیز کو حضرت سے دل کھول کر گفتگو کرنے کا موقع ملا۔حضرت کے ملی کارنامے سے حوصلہ پاکر اپنے علاقے(گڈا، بانکا، بھاگلپور) کی تعلیمی، اقتصادی، سیاسی اور دینی پس روی کا تذکرہ کیا، تو حضرت نے میری تائید کرتے ہوئے مجھ سے زیادہ گہری جان کاری پیش کی اور ناچیز سے کہا کہ میں اس علاقے میں کام کرنا چاہتا ہوں، مجھے وہاں کے کچھ ذمہ دار علمائے کرام اور کام کرنے والے افراد و مقام کی تفصیلات دو۔ چنانچہ حضرت کی اس پیشکش کی وجہ سے میری خوشی کی انتہا نہ رہی، ساتھ ہی یہ بھی احساس ہوا کہ مولانا مرحوم امت کے حالات پر کس قدر گہرائی اور سنجیدگی سے سوچتے ہیں اور زمینی سطح پر کام کرنے کے لیے کس درجہ فکر مند ہیں۔ اسی ملاقات میں حضرت نے یہ بھی فرمایا کہ ’آپ بڑی جگہ پر ہیں، مجھ جیسے چھوٹوں سے بھی ملا کرو‘۔ حضرت کا یہ جملہ تواضع و انکساری کاوہ اعلیٰ پیمانہ پیش کرتا ہے، جس کے سامنے لفظ تواضع خود کو ہیچ سمجھنے پر مجبور ہے۔ حضرت مرحوم اس وقت سیٹنگ ایم پی تھے، جن سے ملنے کے لیے لوگ تاریخیں تلاش کرتے ہیں، لیکن بمشکل ہی مل پاتی ہیں، لیکن حضرت مرحوم کا انداز ان سب ایم پیوں سے مختلف تھا، وہ چھوٹوں کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتے تھے، جتنا ایک بڑا اپنے آپ میں اہمیت رکھتا ہے۔
حضرت مرحوم گرچہ جمعیۃ علماء ہند سے استعفیٰ دے کر گئے تھے، لیکن دلی طور پر وہ ہمیشہ جمعیتی تھے اور رہے ۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ مغرب آپ نے یہاں ادا کی اور اسٹاف سے خصوصی ملاقات کے لیے دفتر استقبالیہ کے پاس کھڑے ہوگئے۔ کچھ اسٹاف وہاں موجود تھے، میں تھوڑی دیر بعد آیا تو ایک صاحب نے میرا بھی تعارف کرایا، حالاں کہ حضرت مجھ سے واقف تھے،اس میں قابل ذکر جملہ یہ تھا کہ یہ اسی کمرہ میں رہتا ہے، جو کبھی آپ کا ہوا کرتا تھا۔ حضرت نے یہ جملہ سن کر تبسم فرمایا اور کہا کہ میرا ماضی اور حقیقت وہی ہے ۔ ہم لوگوں نے تشریف رکھنے کی گذارش کی، لیکن افسوس کہ قلت وقت نے جانے پر مجبور کیا ۔ اور پھر وہ سلام و مصافحہ کرتے ہوئے چلے گئے۔ لیکن ہمیں کیا پتہ تھا کہ ان کا یہ دیدار جمعیۃ کا آخری دیدار تھا اور ہماری یہ ملاقات دراصل دائمی جدائی کا اشاریہ تھا۔
مورخہ ۷؍ دسمبر بروز جمعہ۲۰۱۸ء بعد نماز فجر ڈیٹا آن کیا ، تو خبر وفات کے میسجز کا طوفان تھا، جو یکے بعد دیگرے ریسیو ہوتا جارہا تھا۔ سوشل میڈیا چوں کہ افواہوں کی سب سے بڑی منڈی ہے، اس لیے پہلے یقین نہیں آیا، لیکن تسلسل چوں کہ تواتر میں بدل چکا تھا، اس لیے یقین کرنا پڑا، پھر بھی تسلی کے لیے ان کے ایک رشتہ دار کو فون کیا ، تو بے ساختہ زبان سے یہی نکلا کہ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اب آپ بھی یہی پڑھیے ، کیوں کہ فرمان نبوی علیہ السلام کے مطابق اسی میں میرے لیے، آپ کے لیے؛ ہم سب کے لیے صبرو سکون ہے۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here