مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ

0
198
مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ
یوم تاسیس: ۲۲؍ دسمبر ۱۹۴۹ء کے موقع پر ایک تاریخی تحریر
محمد یاسین جہازی
ناچیز کا مکتبِ بسم اللہ گاوں کا مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ ہے ۔ آج مورخہ ۲۲؍ دسمبر ۲۰۱۸ء ، اس مدرسہ کو ۶۹؍ سال مکمل ہورہا ہے، آئیے تاریخ سے معلوم کرتے ہیں کہ اس طویل سفر میں اس نے کیا نشیب و فراز دیکھے۔
لوکیشن، جغرافیہ اور تاریخ
یہ مدرسہ ریاست جھارکھنڈ کے شمال مشرقی ضلع گڈا ، بلاک بسنترائے کے ایک گاوں : جہاز قطعہ میں ہے۔ جو 24.83 176 N 87.22 176 E پر واقع ہے۔اس کی اوسط شرح بلندی ۷۷؍ میٹر (۲۵۲ فٹ) ہے۔قدیم تاریخ میں اس پورے علاقہ کو سنتھال پرگنہ کہاجاتا تھا۔ اس سے بھی قدیم تاریخ:مہابھارت کے زمانے میں سنتھال پرگنہ ’’انگا مہاجن پد‘‘ کا حصہ تھا، جس کا راجا، دُریودھن نے ’’کرن ‘‘ کو بنایا تھا۔ بودھ کے قدیم ادب میں اس علاقہ کو ’’کجنگالا‘‘ کہا گیا ہے۔( مختصرا از : تاریخ جمعیۃ علماء سنتھال پرگنہ، ص؍۸)
تعلیمی و مذہبی حالات
پورے جھارکھنڈ میں ضلع گڈامسلم آبادی کے اعتبار سے اول مقام رکھتا ہے، شاید یہی وجہ تھی کہ یہ علاقہ روزاول سے تا ہنوز سرکاری نظر کرم سے محروم ہے۔علاوہ ازیں آزادی سے قبل بھی سرکاری اسکول تو بالکل ندارد تھے، مدارس کا وجود بھی آٹے میں نمک کے برابر تھا۔ آس پڑوس کے انتہائی قدیم مدارس میں صرف مدرسے تھے: ایک مدرسہ شمسیہ گورگاواں، گڈا (سن قیام ۱۹۰۱) اوردوسرا مدرسہ سلیمانیہ سنہولا ہاٹ بھاگلپور (سن قیام: ۱۹۲۹ء) تھا۔اس سے آپ خود اندازہ لگاسکتے ہیں کہ دو ادارے پورے علاقے کی جہالت دور کرنے میں کتنا کردار ادا کرسکتے ہیں،اس لیے یہاں کے باشندگان دینی اور دنیوی دونوں تعلیم سے نابلد تھے۔علاقے کی اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے مولانا محمد منیر الدین جہازی نور اللہ مرقدہ (۴؍مئی ۱۹۱۹۔ جون ۱۹۷۶ء)نے ( جو اس وقت دارالعلوم دیوبند میں تقرری کے لیے کوشاں تھے اور تقرری ہوئی ہی چاہتی تھی کہ جہاز قطعہ والوں کی طرف سے علاقے میں تعلیمی خدمت کے لیے دعوتی خط ملا، جس کی وجہ سے دارالعلوم دیوبند کو چھوڑ کر ) اپنے گاوں میں ایک مدرسہ کی بنیاد ڈالی۔
مدرسہ کی تاسیس کے حوالے سے مولانا محمد اسلام ساجد مظاہری ؒ (( جون ۱۹۴۳ء۔ ۱۹؍ اپریل ۱۹۷۲ء ؁ بروز بدھ)) استاذ مدرسہ ہذا لکھتے ہیں کہ
دیگر اکابرین کو خصوصی دعوت دی گئی ۔اور اس دعوت کے ساتھ مدرسہ کی تاسیس خود روداد ۱۳۶۹ ھ (مطابق ۲۱؍ دسمبر ۱۹۴۹ء بروز بدھ) مدرسہ اسلامیہ جہاز قطعہ کی زبان سے سنیے!
’’یکم ربیع الاول (۱۳۶۹ ھ مطابق ۲۲؍ دسمبر ۱۹۴۹ء بروز جمعرات)کو مدرسہ کی بنیاد قائم کرنے کے لیے علاقہ کے سربرآوردہ لوگوں کو دعوت دی گئی۔ داعی کی آواز پر عمائدین علاقہ نے گرم جوشی کے ساتھ شرکت فرمائی۔ حضرت مولانا انور علی صاحب نیموہاوی کی صدارت میں مغرب کے بعد جلسہ ہوا۔ دینی تعلیم کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ۔ سبھوں نے اس ضرورت کو سراہا۔ اور مدرسہ کے قائم کرنے پر زور دیا۔ عشا کے بعد عمائدین کا مولانا موصوف کی صدارت میں دوسرا اجلاس ہوا۔ حضرت مولانا محمد اعزاز علی صاحب مدظلہ العالی شیخ الادب دارالعلوم دیوبند کی سرپرستی، مولانا محمد انور علی صاحب نیموہاوی کی صدارت اور شیخ الفت حسین صاحب پردھان کی نظامت میں مدرسہ اسلامیہ جہاز قطعہ کے نام سے دوسری ہی تاریخ سے تجویز پاس ہوئی اور محمد منیر الدین مدرس بحال ہوئے۔ دوسری تاریخ سے مدرسہ کا کام باقاعدہ جاری ہوا (روداد مدرسہ اسلامیہ جہاز قطعہ ۱۳۶۹ھ ، مطابق۱۹۴۹ )‘‘۔
مدرسہ کی تعلیمی کام شروع ہوا۔ دوسرے لوگوں نے اقتصادی ضروریات کے لیے حتیٰ الامکان کوششیں کیں اور پوری کوشش کی۔ طلبا بھی مدرسہ کے اندر رہنے لگے۔ باہر سے طلبہ آئے اور مطبخ کی ضرورت پڑگئی۔ اب تک طلبا کی تعلیم زیر آسمان ہورہی تھی ، با خانۂ خدا میں ، لیکن ارباب ہمت اور اراکین نے صرف چار ماہ میں دو کمرہ اور ایک درس گاہ کی دیوار پختہ تیار کرادیا ، اس سے اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے کہ اینٹ تیار کراکے پکانا ، پھر دیوار کھڑا کرنا کتنا وقت لیتا ہے اور اہل دل لوگوں نے صرف چار ماہ میں تیار کرادیا اور چھت کے لیے تیسری کمیٹی میں رائے پاس ہوگئی۔
فی الجملہ مدرسہ ترقی کے عروج پر تھا ۔ خدا کی مرضی اور لوگوں کی کوششیں’’دن دگنی رات چوگنی‘‘ کے مصداق ہورہی تھیں۔
تھوڑے ہی دنوں میں مدرسہ میں وہ ترقی ہوئی کہ دور دور تک اس کی شہرت ہوگئی۔
( جہاز قطعہ کی تاریخ،ص؍۳۵ غیر مطبوعہ)
مدرسہ کی زود ترقی کا اندازہ اس سے لگاسکتے ہیں کہ محض چار سال کے اندر درجہ سوم کی تعلیم کا نظم ہوچکا تھا اور علاقے کے طلبہ کی بڑھتی تعداد انتظامات کی تنگ دامانی کے لیے شکوہ سنج تھی۔
بانی مدرسہ کا استعفیٰ
از روز قیام ( ۲۲؍ دسمبر ۱۹۴۹) تا ۲۶؍ اگست ۱۹۵۴ ، یعنی تقریبا ساڑھے پانچ سال تک مدرسہ کسی اختلاف کے بغیر چلتا رہا ۔ لیکن اس کے بعد مدرسہ پر ایک بھیانک حادثہ گزرا ،اور وہ بھیانک حادثہ تھا حضرت مولانا محمد منیر الدین نور اللہ مرقدہ کا استعفیٰ ۔ کچھ لوگوں نے ہم عصری چشمک کی بنیاد پر مولانا کی ذات پر انگلی اٹھائی، جس سے دل برداشتہ ہوکر آپ نے استعفیٰ پیش کردیا اور اپنے ہی مدرسہ کے انتظام سے علاحدگی اختیار کرلی اور گوشہ نشیں ہوگئے۔ لیکن غیور جہازیوں نے آپ کو دوسرا ادارہ قائم کرنے پر مجبور کیا ۔ چنانچہ آپ نے اپنے بھائی جناب عبدالرحمان صاحبؒ کے دروازے پر ایک مدرسہ کی نیو رکھی۔ اور اس کا نام مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ رکھا گیا۔ مولانا کی پرکشش ذات کی کرامت تھی کہ قدیم مدرسہ روز بروز زوال پذیر ہوتا رہا حتیٰ کہ جو اقامتی مدرسہ تھا، وہ ایک ایک طالب علم کے لیے ترسنے لگا۔ اور ادھر مولانا کا مدرسہ جو ایک شخص کے دروازے پر تھا، جگہ ک

ی قلت کا شکوہ کرنے لگا۔ بالآخر گاوں والوں نے اتری حصے میں زمین فراہم کی اور پھر مدرسہ کی تعمیر جدید شروع کردی گئی۔ دوسری طرف قدیم مدرسہ کی بے بسی کو دیکھتے ہوئے کچھ اہل دانش و بینش نے اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کی،جس کے لیے انھوں نے ۲۶؍ دسمبر ۱۹۵۴ کو ایک مفاہمت کمیٹی تشکیل دی۔یہ کمیٹی مفاہمت و مصالحت کے لیے مکمل کوشش کرتی رہی، اور بالآخر ۱۵؍ سال کی جدوجہد کے بعد فروری ۱۹۶۹ء کو کامیابی ملی اور دونوں فریقوں نے مولانا محمد منیر الدین ؒ کو دوبارہ ذمہ داری سونپی اور اس طرح سے دونوں مدرسے ایک ہوگئے۔
مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ ۱۹۶۹ء کے بعد
دونوں مدرسوں کو ضم کردینے کے بعد مدرسہ کا وقار مزید بلند ہوگیا۔ طالب علوم نبویہ کے رجوع میں اضافہ ہوگیا ؛ حتیٰ کہ مدرسہ کی تعلیم سوم سے بڑھ کر مشکوۃ شریف تک پہنچ گئی۔ مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ قرب و جوار کاسب سے بڑا ادارہ بن گیا۔
ضم کرنے کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا کہ طالب علموں کی اقامت قدیم عمارت میں رہے گی، جب کہ تعلیم جدید عمارت میں دی جائے گی۔ چنانچہ کچھ دنوں تک یہی سلسلہ رہا، لیکن ایک میٹنگ میں مکھیا عبدالقادر بخش ؒ نے یہ تجویز رکھی کہ چھوٹے بچوں کو اس محلہ سے اس محلہ میں جانے میں دشواری ہوتی ہے اور بالخصوص برسات کے دنوں میں بچے غیر حاضر ی بہت زیادہ کردیتے ہیں، اس لیے طے یہ پایا کہ حفظ اور ناظرہ کے تعلیم اس محلہ میں بھی ہوا کرے گی اور بقیہ عربی درجات جدید عمارت میں ہ
ی رہیں گ
ے۔ چنانچہ قدیم عمارت میں حفظ و ناظرہ کا سلسلہ شروع ہوگیا اور مولانا محمد اسلام مظاہریؒ کو یہاں کا ذمہ دار بنایا گیا۔
یہ مدرسہ ۱۹۷۶ء تک حضرت مولانا محمد منیر الدین نور اللہ مرقدہ کے زیر اہتمام و انتظام ترقی کے منازل طے کرتا ہوا آگے بڑھتا رہا اور پورے علاقے میں نور اسلام پھیلاتا رہا ۔ اور اس کی شہرت دور دور پھیل گئی۔ جون ۱۹۷۶ء میں حضرت نور اللہ مرقدہ کا انتقال ہوگیا، جس کے فورا بعد مولانا کے ایک ہونہار شاگرد مولانا غلام رسول صاحب اسناہاں سکریٹری بنے اور مدرسہ کو حضرت نور اللہ مرقدہ کے مطابق چلانے کا عہد لیا۔بتایا جاتا ہے کہ مولانا نور اللہ مرقدہ نے اپنی حیات (۱۹۷۴ء)میں ہی مدرسہ کی مکمل ذمہ داری مولانا غلام رسول صاحب کو دے دی تھی۔ اس لیے وفات کے علی الفور وہی سکریٹری منتخب ہوئے اور ماہ نومبر ۱۹۷۶ء تک بحسن و خوبی اپنے فرائض ادا کیے۔ پھر ذاتی وجوہات کی بنا پر انھوں نے استعفیٰ دے دیا اور پھر قاری قطب الدین صاحب جہازی سکریٹری منتخب ہوئے۔ قاری صاحب تقریبا تین سال اس عہدے پر رہے اور ۱۹۷۹ء میں مستعفی ہوگئے۔ ان کے استعفیٰ سے اہل بستی سکتے میں آگئے اور ہنگامی میٹنگ طلب کی جس میں مولوی شمس الحق صاحب جہازی کو سکریٹری بنادیا گیا۔ انھوں نے ۱۹۸۰ء سے ۱۹۸۸ء تک مدرسہ کو چلایا؛ لیکن پیرانہ سالی کی وجہ سے معذرت پیش کی اور ذمہ داری کو کسی فعال شخص کو حوالے کرنے کا مشورہ دیا، چنانچہ حسب مشورہ مولانا محمد عرفان صاحب مظاہری جہازی کو سکریٹری کا عہدہ دیا گیا۔ انھوں نے اپنی صلاحیت و صالحیت سے مدرسہ کو کافی ترقی دی۔ پھر ۱۳؍ جنوری ۱۹۹۳ء میں ایک میٹنگ ہوئی ، جس میں جناب نصیرالدین صاحب (موجودہ مکھیا) سکریٹری بنے۔ ۲۲؍۔۔۔ ۱۹۹۷ء میں ہوئی ، جس میں مولانا علیم الدین صاحب قاسمی کو سکریٹری چنا گیا۔ ۶؍ دسمبر ۲۰۰۴ء کی میٹنگ میں سکریٹری کا عہدہ دوبارہ جناب نصیر الدین صاحب کے حوالے کردیا گیا ۔ ۱۷؍ مئی ۲۰۱۰ء کو عمومی میٹنگ ہوئی اس میں بھی عہدہ سکریٹری کو سابقہ شخص کے پاس برقرار رکھا گیا اور بدستور جناب نصیر الدین صاحب سکریٹری بنے رہے۔ کچھ ناگہانی حالات کے پیش نظر ۱۳؍ نومبر ۲۰۱۱ء کو ایک میٹنگ ہوئی ، جس میں نصیر الدین صاحب نے استعفی پیش کردیا اور ان کی جگہ نائب سکریٹری جناب نسیم الدین صاحب کو سکریٹری طے کردیا گیا ۔ ۸؍ ستمبر ۲۰۱۷ء کو ایک میٹنگ بلائی گئی، جس میں ڈاکٹر نسیم صاحب کپیٹا نے اپنا استعفیٰ پیش کیا، جسے اراکین مجلس نے قبول کرتے ہوئے یہ فیصلہ لیا کہ مدرسہ کو سکریٹری کے ذریعے نہیں؛ بلکہ اہتمام کے سسٹم پر چلایا جائے۔ چنانچہ مدرسہ کی خستہ حالی اور تعلیمی انحطاط میں ترقی کے متمنی حضرات نے اس رائے کو بلا تردد قبول کیا اور اسی مجلس میں مفتی نظام الدین ابن جناب شریف صاحب کو مکمل اختیارات کے ساتھ مہتمم بنادیا۔ لیکن انھوں نے مفتاح العلوم جلال آباد یوپی میں تدریسی وابستگی اور دوران سال تدریس چھوڑنے سے معذرت کا اظہار کرتے ہوئے شعبان تک کا وقت طلب کیا، جو انھیں دے دیا گیا ۔ تاہم اس بیچ مدرسے کے امور کو سمجھنے کے لیے پانچ رکنی ورکنگ کمیٹی بنائی گئی، جو ان کے لیے معاون و مشاورت کا کام کرتی رہی۔ بعد ازاں اس کی ضرورت نہ سمجھتے ہوئے اسے کالعدم کردیا اور فی الحال مکمل اختیارات کے ساتھ مفتی صاحب مدرسے کے مہتمم ہیں۔ (جہاز قطعہ کی تاریخ، ۳۵، غیر مطبوعہ)
پچھلے دنوں سکریٹری نظام میں مدرسہ بستر مرگ پر آخری سانس لے رہا تھا، حتیٰ کہ جہاں کئی سو کی تعداد میں اقامتی طلبہ رہتے تھے، وہاں دس پانچ ناظرہ کے طلبہ ہی کل اثاثہ رہ گئے تھے؛ لیکن سال رواں (۲۰۱۸)میں، جب اہتمام کے نظام کے تحت نئی شروعات کی ، تو الحمد للہ شروعاتی سال سے ہی ۳۵؍ اقامتی اور ۱۷۰؍ غیر اقامتی طلبہ کی تعلیم و تربیت کے فرائض انجام دے رہا ہے جس کے لیے سات عملہ پیہم کر رہے ہیں۔
مفتی نظام الدین قاسمی صاحب نئی نسل کے پرجوش جواں عالم دین ہیں، جو وقت کی نزاکت کے پیش نظر تعلیمی منصوبہ بندی کی فکر کو قبول کرنے اور اسے فروغ دینے کے لیے شناخت رکھتے ہیں، جس سے قوی امید ہے کہ یہ مدرسہ ان کی قیادت میں ترقی کی نئی منزلیں طے کرے گا ، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ آپ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس مدرسہ کی حفاظت فرمائے اور اسے دن دوگنی رات چوگنی ترقیات سے نوازے ، آمین۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here