تھنک ٹینک۔۔۔یا۔۔۔ فش ٹینک

0
53

محمد یاسین قاسمی جہازی
9871552408
میڈی ڈیوڈ (Mady David)کو جب استقرار حمل ہوا، تبھی سے وہ اپنی ذہنی تربیت اور جسمانی صحت کا خیال رکھنے لگی، اس کے لیے وہ روز صبح تین گھنٹے ریاض کرتی اور بادام، دودھ اور دیگر مغزیات استعمال کرتی تھی۔ ذہنی سکون کے لیے میوزک سنتی اور پریشاں کن خیالات سے بچتی تھی۔ اس کے شوہر کا رویہ بھی بالکل مثبت رہتا اور کوئی ایسی بات نہیں کہتا، جس سے ڈپریشن یا معمولی جھگڑے کی نوبت آئے۔ بالآخر ۱۷؍ جنوری ۱۹۹۰ء کو ۸؍ پونڈ وزنی ایک بچہ پیدا ہوا، جس کانام جوسف (Joseph) رکھا گیا۔ روز اول سے ہی بہترین غذا اور اعلیٰ درجہ کی نگہداشت میں اس کی پرورش و پرداخت کی گئی۔ جب اس نے عمر کے تیسرے سال میں قدم رکھا تو نشانہ بازی، تیراندازی اور دوڑ کی جسمانی ٹریننگ دی جانے لگی۔ ذہنی تربیت کا بھی خاص خیال رکھا گیا، حتیٰ کہ اس کے سامنے کوئی اونچی آواز سے بات تک نہیں کرتا تھا۔ حفظان صحت کا بھی پورا خیال رکھاجاتا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک دن بھارتی مہمان اس کے گھر میں آیااور سگریٹ پینے لگا، تو اس کے میزبان باپ نے معذرت کرتے ہوئے سگریٹ پینے سے منع کردیا۔ جوسیف کو چاکلیٹ، چپس اور کول ڈرنک کے بجائے کھجور، پستہ اور بادام دیا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ زندگی میں پہلی اور وہی آخری بار اس نے بارہ سال کی عمر میں جنک فوڈ چکھا تھا، حالاں کہ ان چیزوں کی مصنوعات میں اسرائیل کی اسی پرسینٹ کی شراکت ہے۔
جوسیف جب چھٹی کلاس میں پہنچا تو اسکول کی طرف سے ۳؍ ہزار ڈالر تجارت کے لیے دے کر دس ہزار ڈالر کمانے کا ٹارگیٹ دیا، لیکن وہ سات ہزار ہی کماپایا۔ اس ناکامی کو دیکھتے ہوئے اسے کاروباری ریاضی کی خارجی کلاسیں دی گئیں اور پھر ۵؍ ہزار ڈالر دے کر بزنس کرنے کے لیے کہاگیا، چنانچہ اس نے اس سے ۱۶؍ ہزار ڈالر کمائے۔ آگے چل کر اس نے فزکس سے تعلیم مکمل کی اور پھر یہودیوں کی نیویارک میں واقع بلاسود قرض فراہم کرنے والی تنظیم سے قرضہ لے کر ہتھیار بنانے کا کام شروع کیا۔ اور آج کی رپورٹ یہ ہے کہ پوری دنیا ہتھیار کی مارکیٹنگ میں اسرائیل سے لین دین کرنے پر مجبور ہے۔
۱۸۹۶ء ؁ میں سوئزر لینڈ کے شہر باسیل (Basel) میں ایک صہیونی رہنما تھیوڈور ہزژل کی صدارت میں ایک خفیہ کانفرنس منعقد ہوئی ، جس میں مخلتف شعبہ ہائے زندگی کے ۳۰۰ صہیونی رہنماؤں اور ۳۰ خفیہ اور عوامی یہودی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس میں پوری دنیا پر اپنی بالادستی مسلط کرنے کے لائحہ عمل پر غور کیا، جس کے لیے Zionist sages protocols کے نام سے ۲۴؍ نکاتی تجاویز منظور کیں۔ اور پھر لونگ ٹرم پالیسی کے تحت نسل در نسل اسے عملی جامہ پہنانے کا سلسلہ شروع کیا، جو تاہنوز جاری ہے۔ یہودی بچوں کی بنیادی تربیت میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اپنی پیش رو نسل کے منصوبہ کو لے کر آگے بڑھتی ہے اور آبا و اجداد کی حکمت عملی سے کبھی اختلاف نہیں کرتے۔
اسرائیل سے جڑے ان دو واقعوں کو تحریر کرنے کا مقصد اس راز سے پردہ اٹھانا ہے کہ بالآخر یہودی جو عالمی آبادی کے تناظر میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے، اس کے باوجود آج پوری دنیا کے ہر بڑے پلیٹ فارم پر اسی کا قبضہ کیوں ہے؟ آپ بہ خوبی واقف ہیں کہ کسی بھی ملک ، تنظیم یا تحریک کو چلانے کے لیے جتنی منظم حکمت عملی ہوگی، وہ اتنی ہی ترقی کے منازل طے کرتا ہے۔اور حکمت عملی و پالیسی ساز جماعت کو تھنک ٹینک کہاجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ترقی یافتہ ممالک کے پاس سب سے زیادہ تھنک ٹینک ہیں، جو تمام شعبہ ہائے حیات کے ماہرین پر مشتمل ہوتے ہیں اور اپنے ملک کی تعمیرو ترقی کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔ عالمی شماریات پر نظر ڈالی جائے ،تو آج سب سے زیادہ تھنک ٹینک یونائٹیڈ اسٹیٹ کے پاس ہے جس کی تعداد ایک ہزار آٹھ سو بہتر ہے۔ اس کے بعد علیٰ الترتیب چین اوریوکے کے پاس ہے۔ انڈیا کے پاس سردست دو سو تیرانوے تھنک ٹینک ہیں۔ جو گلوبل کی شماریات کے تناظر میں محض پانچ تھنک ٹینک ہی موثر کردار ادا کر پارہے ہیں۔
آج اسلامیان ہند کے مفکرین، دانشوران، روشن خیال اور علما؛ بلکہ عام مسلمان بھی اس بات کا رونا رہے ہیں کہ ہمارے ادارے ۔ خواہ وہ تحریک کی شکل میں ہو یا اداروں کی شکل میں۔یا پھر قیادتیں؛اپنے مقصد میں ناکام ہوچکی ہیں، ان کے پاس نہ تو حال کے لیے کوئی ایکشن پلان ہے اور نہ ہی مستقبل کے لیے کوئی لائحہ عمل، جس کا نتیجہ یہ سامنے آرہا ہے کہ ہر کوشش بے سمت ہوچکی ہے ۔ مکاتب سے یہ شکوہ ہے کہ معیار کی تعلیم نہیں ہوتی، مدارس سے گلہ یہ ہے کہ اس کے نصاب عصریات سے اٹیچ نہیں ہیں، اسکول اور کالج ایمان سے ہاتھ دھونے کی فکٹریاں بنتی جارہی ہیں، تحریکوں اور تنظیموں سے بد ظنی یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی گول سیٹ اپ نہیں ہے۔ قیادتوں کے بارے میں تبصرہ کیا جاتا ہے کہ ان کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔ ہر ایک شخص ایک دوسرے گروہ سے نالاں اور کردار سے غیر مطمئن ہے۔
حالات کا یہ منظر نامہ ہمیں غورو فکر کی دعوت دیتا ہے ، ہمیں سوچنا ہی ہوگا کہ بالآخر ہر چیز میں ناکامی ہی ہماری مقدر کیوں بن چکی ہے اور کیا ہم اس تقدیر کونہیں بدل سکتے ہیں۔۔۔؟
راقم کا خیال ہے کہ ہماری ناکامیوں کے کئی اسباب میں سے ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ ہمارے پاس کوئی تھنک ٹینک نہیں ہے۔ مثال کے طور زید ایک مدرسہ کی بنیاد ڈالتا ہے، جس کا مقصد دینی تعلیم کی اشاعت ہوتا ہے، اس کے لیے وہ ایک شوریٰ بناتا ہے، جو مدرسہ کے ہر فیصلے کے لیے کلی اختیار کا مالک ہے ، لیکن شوریٰ کے ممبران میں ایک ممبر بھی ایسا نہیں ہوتا، جو ماہر تعلیم ہو۔ اس کا ممبر وہی بن سکتا ہے، جو رشتہ دار ہو اور جن سے یہ خطرہ نہ ہو کہ کل کہیں مدرسہ پر قبضہ نہ کرلے اور جو زیادہ سے زیادہ مالی تعاون پیش کرسکے۔ جب ایسے افراد پر مشتمل شوریٰ (جو مدرسہ کا تھنک ٹینک ہے) ہو، تو بھلا وہ مدرسہ اپنے مقصد میں کتنا کامیاب ہوگا، آپ خود اندازہ لگاسکتے ہیں۔ آج ہمارے اکثر اداروں کا یہی حال ہے، ان کے شوریٰ کی فہرست دیکھ لیجیے، اس میں اقربا پروری یا تحفظات فراہم کرنے والے ناموں کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔ اسی طرح مسجد کمیٹی کے ممبران کو دیکھ لیجیے ایک بھی ایسا ممبر نہیں ہوگا، جو امام و موذن کی فضیلت و عظمت سے واقف ہو، حتیٰ کہ متولی بھی ایسے شخص کو بنایا جاتا ہے، جو اپنی بیوی کی لڑائی کا غصہ موذن و امام پر نکالنے یا پھر ان میں کیڑے تلاش کرنے کی زیادہ مہارت رکھتا ہے، جب معاملہ ایسا ہے تو امت کی تعمیر وترقی کا کیا حال ہوگا، وہ جگ ظاہر ہے۔
اس لیے اگر آپ چاہتے ہیں کہ امت کے اچھے دن لوٹ کر آئیں، تو اپنی مجلس شوریٰ کو تھنک ٹینک بنائیے۔ آج ہم نے جو بنا رکھا ہے، وہ تھنک ٹینک نہیں؛ بلکہ فش ٹینک ہے ، جس میں چند رنگ برنگی مچھلیاں اس لیے قید کردی جاتی ہیں، تاکہ لوگوں کا دل بہل جائے۔ یاد رکھیے جب تک ہمارا تھنک ٹینک فش ٹینک بنارہے گا، اس سے ہماری تفریح طبع تو ہوسکتی ہے، لیکن۔۔۔لیکن ملت مسلمہ میں نہ تو تعلیمی انقلاب آسکتا ہے، نہ اقتصادی حالات سدھر سکتے ہیں اور نہ ہی قیادتیں ابھر سکتی ہیں!!!!۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here