ویسٹ یا انویسٹ

0
42

محمد یاسین جہازی
واٹس ایپ: 9871552408
وقت سونے سے زیادہ قیمتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں نیند مراد نہیں ہے، کیوں کہ سونا خریدا جاسکتا ہیجب کہ وقت بکاؤ نہیں ہوتا؛ زندگی کا جولمحہ نکل گیا،آپ اس کو کبھی واپس نہیں لاسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کی قدرو قیمت پر جب بھی ہم لیکچر دیتے ہیں یا سنتے ہیں، تو اس قول زریں کا اعادہ ضرور کرتے یا سنتے ہیں۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ وقت انمول ہے۔ 
اپنی زندگی کو وقت پر تقسیم کریں، تو اس کے تین اہم حصے ہوتے ہیں:
(۱) بچپن: اس کے لمحات میں ہم خود نہیں؛ بلکہ ہمارے بڑے ہمارے لیے ایکٹیو کردار ادا کرتے ہیں، اور اس توقع سے کرتے ہیں کہ یہ بچے ہی ہمارے پیسیو لائف ، یعنی بڑھاپے کے سہارے ہیں۔ بذات خود ہمارے لیے نہ تو ایکٹیو لائف ہوتی ہے اور نہ ہی پیسیو لائف۔
(۲) جوانی: اس میں ہم اپنے لیے بھی، اپنے متعلقین کے لیے بھی اور مستقبل کے لیے بھی زندگی بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ دراصل ہماری زندگی کا یہی حصہ سب سے محبوب ترین حصہ ہوتا ہے اورحسین مستقبل کے لیے پیش خیمہ بھی یہی موقع ہوتا ہے۔کیوں کہ اسی میں حال و مستقبل کی زندگی کے لیے ایکٹیو اور پیسیو دونوں کردار ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ 
ہر ایک شخص کے لیے زندگی اور اس کی لوازمات کے لیے دو کردار ہوتے ہیں: ایک کو ایکٹیو کہا جاتا ہے اور دوسرے کو پے سیو۔ ایکٹیو کا مطلب ہوتا ہے کہ جو وہ خود کر رہا ہے ، یا جس سے خود گزر رہا ہے۔ جب کہ پے سیو کا مفہوم یہ ہے کہ بذات خود آپ نہ کر رہے ہوں، البتہ اس کا فائدہ آپ کو ملتا رہے۔ مثال کے طور پر آپ کسی جگہ ملازمت کر رہے ہیں، تو یہ آپ کا ایکٹیو ورک ہے۔ اس کی تنخواہ آپ کو اسی وقت تک ملتی رہے گی، جب تک آپ ملازمت کرتے رہیں گے۔ ملازمت ختم ہوتے ہی آپ کی تنخواہ بھی بند ہوجائے گی۔ لیکن آپ بزنس شروع کرتے ہیں، اور آپ کے ماتحت بہت سارے اسٹاف کام کرتے ہیں، تو آپ بذات خود کام کریں یا نہ کریں، اس کا فائدہ آپ کو ملتا رہے گا ، اسے پے سیو ارننگ (جاری کمائی) کہا جاتا ہے۔ 
یہ جو جوانی کا وقت ہے ، یہ ایکٹیو اور پے سیو دونوں کردار کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ہے؛ اگرآپ جوانی کو ان دونوں کردار کے لیے انویسٹ (سرمایہ کاری) کرتے ہیں، تو بالیقین ہمارے سنہری مستقبل کی ضمانت کا اشاریہ ہوگا، لیکن اس کے بجائے ہم جوانی کو ویسٹ( ضائع) کردیں گے، تو زندگی کے تیسرے اور آخری مرحلہ (بوڑھاپے) میں پریشان رہنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ 
(۳) بوڑھاپا: زندگی کا یہ حصہ دراصل اپنے کرموں کا پھل پانے،یا بھگتنے کا دور ہوتا ہے۔ اس دور میں طاقت کم اور ضروریات بڑھ جاتی ہیں، اس لیے ہمارے لیے درس عبرت یہی ہے کہ ہم اپنی سابقہ زندگی میں ایکٹیو اور پے سیو دونوں معاشی نظام سے جڑ کر انویسٹ کا کردار ادا کریں۔ بصورت ویسٹ جرم ضعیفی کی سزامحرومی، مجبوری اورمرگ مفاجات ہی ہوگی۔ 
ایک دوسری حیثیت سے غور کیجیے، تو ہماری تخلیق سے آخری منزل تک بھی تین مراحل ہیں: عالم دنیا، عالم برزخ اور عالم آخرت۔ پہلی منزل میں اگر ہم اپنی زندگی کے لمحات کو نیک کاموں میں انویسٹ کریں گے اور خلاق عالم کی مرضیات کو پانے کے لیے ایکٹیو و پے سیو دونوں کردار ادا کریں گے،تو بالیقین دوسری زندگی میں سکون و راحت ملے گی اور آخرت میں جنت ہمارا مقدر ہوگا۔ لیکن اگر ہم اس کے برخلاف زندگی گذاریں گے، تو ہم دوسرے اور تیسرے مرحلے میں بڑے خسارے میں رہیں گے؛ کیوں کہ یہی فلسفہ حیات کی آفاقی سچائی ہے۔ بقول شاعر 
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت سے نہ نوری ہے نہ ناری ہے
درج بالا حقیقتوں کی روشنی میں خود کا جائزہ لیتے ہوئے بتائیے کہ آپ کو خود انویسٹ کر رہے ہیں ؟ ۔۔۔ یاویسٹ۔۔۔؟۔ 

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here