مشاعروں اور شاعروں کو نقصان پہنچانے والے شاعر ہی ہیں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے معروف شاعرہ شائستہ ثناءکا اظہار خیال

0
28

مشاعروں اور شاعروں کو نقصان پہنچانے والے شاعر ہی ہیں
اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے معروف شاعرہ شائستہ ثناءکا اظہار خیال
دیوبند،سمیر چودھری
معروف شاعرہ شائستہ ثنا ءنے کہاکہ شاعروں اورمشاعروں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے کے ذمہ دار خود شاعر ہیںجنہوںنے مشاعروں کوپیسہ کمانے کاذریعہ بنا لیاہے اور ایسے لوگوںکومشاعروں کی زینت بنانے لگے ہیں جن کا تلفظ تلک درست نہیں ہوتا ہے ایسے لوگ کیسے مشاعروں کی ترقی اور اردو زبان و ادب کی ترقی کا ذریعہ بن سکتے ہیں؟۔ محترمہ شائستہ ثنا ءآج یہاں جامعہ زینب للبنات دیوبند میں منعقد اسلامک کوئز مقابلہ میں شرکت کرنے کی غرض سے دیوبند پہنچی تھی ،جس کے بعدانہوں اخبار نویسوں سے خصوصی گفتگو کی۔ شائستہ ثناءنے کہاکہ ہمارے خاندان کی خانوادہ¿ مدنی سے گہری وابستگی ہے، ہماری ترقی میں خانودہ¿ مدنی کا اہم رول ہے اسلئے یہاںحاضری ہمارے لئے بڑی خوشی کی بات ہے۔ دوران گفتگو حالانکہ حالات حاضرہ سے متعلق کئی اہم سوالات کے جواب دینے سے شائستہ ثنا بچتی نظر آئی لیکن انہوںنے ملک کے موجودہ حالات پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ حالات کامقابلہ صرف پیار و محبت سے کیاجاسکتاہے اور ان حالات میں شعراءبہترکردار ادا کرسکتے ہیں، آج ضرورت اسی کی ہے کہ شاعر ملک میں امن وامان قائم رکھنے اور فرقہ پرستی کا خاتمہ کرنے کے لئے پیار و محبت اور بھائی چارے کے پیغام کو عام کریں۔ شائستہ ثنا ءکانپوری نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ یقینی طورپر ہندوستان میں تیزی کے ساتھ مشاعروں کا معیار گھٹ رہاہے، شاعروں اور مشاعروں سے باذوق سامعین دور ہورہے ہیں جس کے لئے بنیادی طورپر منتظم اور ایسے شعراءذمہ دار ہیں جو مشاعروں کے انعقاد میں پیش پیش رہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مسلسل مشاعروں کے معیار میں کمی آرہی ہے اور ’گیو اینڈٹیک‘ کی پالیسی کے تحت مشاعروں میں شعراءکی فہرست ترتیب دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سماج کے تئیں شعراءکی بڑی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن اب شعراءاپنی ذمہ داریوں سے بچنے لگے ہیں ،جس کے سبب ایسے لوگ پہلی صف میں آگئیں ہیں جنہیں مشاعروں اور اردو ادب سے ذرہ برابر محبت اور تعلق نہیں ہے بلکہ مشاعروں کے ذریعہ ان کامقصد پیسہ کمانا ہے۔ انہوںنے کہاکہ منتظمین مشاعروں کے ساتھ ساتھ سامعین اور عوام بھی ان حالات کے لئے ذمہ دارہےں،آج سامعین ایسی ہی شاعری کو پسند کررہے ہیں جس کے سبب اچھے شاعر پیچھے جارہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ یقینی طورپر ہم سب ان حالات کے لئے ذمہ دار ہیں ،مگر ان حالات کو تبدیل کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ یقینا مشاعروں اور شاعری کوزیادہ نقصان شاعروںنے ہی پہنچایا ہے اسلئے میری نئی نسل سے اپیل کی ہے ہمیشہ معیاری شاعری اور معیاری شعراءکو پڑھیں تاکہ شاعری کو بہتر طریقہ سے سمجھ سکیں۔ اس دوران انہوںنے شاعری کے مختلف پہلوو¿ں پر روشنی ڈالتے ہوئے معیاری مشاعروں اور معیاری شاعروں کے بارے میں بھی بتایا ۔ اس موقع پر مفتی طیب قاسمی، مولانا تحسین فائز اور عارف عثمانی وغیرہ موجودرہے۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here