اِمام الہندمولاناابوالکلام آزاد کے 61 ویں یوم وِفات پرمزارِآزادگلہائے عقیدت

0
65

نئی دہلی،22فروری(محمدارسلان خان): اِمام الہندحضر ت مولاناابوالکلام آزادعلیہ الرحمہ کے 61ویںیوم وِفات پر مزارِآزاد پر آئی سی سی آر کی جانب سے ایک مجلس کااِنعقاد کیاگیا۔مجلس میں شریک تمام ہی معززشخصیات نے مزارِآزاد پر گلہائے عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے اپنے خیالات کا اِظہار کیا۔مجلس میں مولاناابوالکلام آزاد کے ذریعہ وضع کی گئی حکمت عملیوں اور حیاتِ آزاد کے تعلق سے اُن کی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی گئی۔ اِس بات کا اِعتراف کیاگیا کہ مولانا ابوالکلام آزاد جدید ہندوستان کے اُن عبقری رہنماؤں میں سے تھے جنھوں نے ہندوستان کی اپنے خونِ جگر سے آبیاری کی۔مجلس میں اِس بات پر زور دیاگیا کہ مولاناابوالکلام آزاد کی حکمت عملیوں کی جس قدر پذیرائی ہونی چاہیے تھی، نہیں ہوئی اور اُن کے تئیں لاپرواہی کا مظاہرہ کیاجارہا ہے۔اس موقع پر منی پور کی گورنرڈاکٹر نجمہ اے ہپت اللہ صاحبہ نے اپنے خیالات کااِظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ مولاناہی تھے جنھوں نے تاحیات گنگاجمنی تہذیب کی نہ صرف آبیاری بلکہ اُسکی ہم نوائی بھی کی۔اُنھوں نے جدیدہندوستان میں ثقافتی ہم اہنگی کے مدنظربہت سے اِداروں مثلاًساہتیہ اکادمی،ڈرامااکادمی اورآئی سی سی آر کی بنیادرکھی۔مولاناابوالکلام آزادکی فکر کافی وسیع اورگہری تھی۔وہ آنے والی نسلوں کے سامنے پیداہونے مسائل کا شعور بھی رکھتے تھے نتیجتاًاُنھوں نے ایسے اِداروں کی بھرپورپذیرائی کی۔مولاناکا ہمیشہ سے یہی اِرادہ رہاتھاکہ ہندوستان میں ایک ایسی تہذیب ولسان کے فروغ کو یقینی بنایاجائے جس میں ثقافتی بالادستی جیسے عناصرکو خارج کرتے ہوئے ایک ایسے تہذیب کا فروغ ہوجس میں تمام ہندوستان کی آئینہ داری ممکن ہو۔ مولاناابوالکلام آزاد ایک جواں مردشخصیت کے حامل تھے۔اُنھوں نے کبھی بھی حالات کی ہم نوائی نہیں کہ بلکہ اُنھوں نے اپنے لیے آپ ہی راہ نکالی۔حالات کو اُنھوں نے اپنے حق میں کرلیا۔یہ ہمارے ہندوستان کی ستم ظریفی ہے کہ اُن کی آنکھ بندہوتے ہی اُنھیں کلی طورپرفراموش کردیا۔تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم نے اپنے آباواجداد کی کارکردگیوں کوفراموش کردیا،تاریخ نے اُسے فراموش کردیا۔سماجی و فلاحی تنظیم فرینڈزفارایجوکیشن کے قومی صدراور مولانا آزادؒ کے پوتے فیروز بخت احمد صاحب نے بتایا کہ آج مولاناابوالکلام آزاد کے تئیں یکسرسردمہری کا مظاہرہ کیاجارہاہے۔مولاناکوسال میں دومرتبہ یاد کرلینااورزبانی جمع خرچ کردینا کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔اگرہم اُن سے سچی عقیدت رکھتے ہیں اوراُن کے ذریعہ پیش کردہ خدمات کوتہہ دل سے تسلیم کرتے ہیں تو اُن کے تئیں فعالیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔آنے والی نسلوں کو مولاناکے نظریات سے باخبرکرانا ہوگا کہ وہ آئندہ کے درپیش مسائل کے لیے حیاتِ آزاد اورحکمت عملیوں کو مشعل راہ بناسکیں۔ مولاناابوالکلام آزاد نے جدید ہندوستانی تعلیم کو ایک بنیاد فراہم کی۔اُنھوں نے بلاتفریق مذہب وملت،ذات پات اورجنس سب کے لیے اُنھوں نے ایک ایسی کارگرحکمت عملی وضع کی تھی کہ اگر اُن پر عمل پیراہواجاتاتو آج ہندوستان میدان تعلیم میں خودکفیل ہوچکاہوتا۔ تمام تفریقات کی بیخ کنی ہوچکی ہوتی۔یہ ہمارے ملک کی بدنصیبی ہے کہ اُن کے نظریات کو یکسرنظرانداز کردیاگیالہٰذا، آج بھی میں مختلف طرح کے مسائل سے دوچارہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ مولاناکی حکمت عملیوں پر عمل پیراہواجائے۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here