انتظامیہ کی لاپروائی کے چلتے پرانی دہلی کے مسلم نوجوان حقہ کی لت میں مبتلا ، والدین پریشان

0
67

نئی دہلی ،23فروری ( محمدارسلان خان)
پرانی دہلی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں آج کل شیشے والے حقے اور کیمیکل سے تیار تمباکو کا چلن مسلم نوجوانوں میں عام ہوتاجا رہاہے ۔ فیصل بند شہر کے لال کنواں پر واقع سبز مسجد کے برابر میں حقے کی ایک دکان ہے جہاں سے ایک بڑی تعداد میں حقے کی خریداری ہوتی ہے ، مذکورہ دکان کے فرسٹ فلور پر اکیمیکل والے تمباکو کی کا بڑا اسٹاک ہے ۔اسکے علاوہ رابعہ گرلز اسکول ، کھاری باؤلی میں بھی حقے کی دکا ن ہے یہاں سے بھی ایک بڑی تعداد میں تمباکو فروخت ہوتے ہیں ۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہیکہ پرانی دہلی کے مسلم نوجوان کس حد تک حقے کی لت میں مبتلا ہیں ۔سبز مسجد کے برابر میں واقع حقے کے دکان سے سیکڑوں شیشے کے حقے اور تقریباً 80قسم کے کیمیکل سے تیار تمباکو کے فلیورس مسلم نوجوانوں کو فروخت کرکے اُنکی صحت کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے ۔افسوس اس بات کا ہیکہ مذکورہ دکان کے مالک مسلمان ہیں اور وہی لوگ مسلم نوجوانوں کی صحت سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ سبزمسجد کے برابر میں واقع حقہ کی اس دکان کے تھوڑے سے فاصلے پر ایک دو نہیں بلکہ کئی اسکول ہیں ۔ ان میں ایک برائٹ اسٹار نرسریاینڈ پرائمری اسکول ہے،جو کوچہ پنڈت کے سامنے واقع ہے ۔کوچہ پنڈت میں ایم سی ڈی کا پرائمری اسکول ہے اور ذراسی آگے لمبی گلی میں لڑکیوں کا اسکول ہے سبزمسجد سے آگے زینت محل اسکول اور آگے فتحپوری سینئر سیکنڈری اسکول ہیں ۔ ان اسکولوں کے طلبا بھی حقے کی لت پکڑ رہے ہیں ۔کھلے عام شیشے والے حقے اور فلیورس فروخت ہونے کے سبب علاقے کے معزز افراد اوروالدین فکرمندی میں مبتلا ہیں ۔علاقے کے لوگوں کا کہنا ہیکہ حکومت کو اس معاملے سنجیدہ اقدام کرنا چاہئے تاکہ مسلم نوجوانوں کی صحت پر کوئی برا اثر نہ پڑے ۔حقے میں استعمال ہونے والے کوئلے سے کاربن مونوآکسائڈ گیس نکلتی ہے ۔جو انسانی صحت کیلے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔2003شیلادیکشت حکومت نے سگریٹ اینڈتمباکو پروڈکٹس ایکٹ بنایا تھا۔اس ایکٹ کاْ مقصد تمباکو کے کاروبا رکو قابو میں کرنا تھا لیکن اس ایکٹ کے نفاذ کیلئے کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی ۔بتادیں کہ راجستھان اور ہماچل پردیش میں تمباکو کے خلاف تمباکو ایکٹ بنایا گیااور اس کی پالیسی بھی عمل میں لائی گئی ۔ایک سروے میں حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا گیا ہیکہ ملک میں سگریٹ پینے والے گیارہ فیصد ہیں جبکہ نواسی فیصدافراددوسرے طریقوں سے تمباکو کااستعمال کرتے ہیں ۔2016میں دہلی حکومت تمباکو ، گٹکے پرپابندی عائد کی تھی لیکن افسوس اس پر سنجیدگی سے عمل نہیں کیا گیا ۔دہلی حکومت تمباکو بالخصو ص حقے پر پابندی عائد کرے تاکہ نوجوانوں کی صحت برقرار رہے ۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here