مدرسہ رشیدیہ معرا ج العلوم قریش نگر میں’ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کی حیات و خدما ت ‘ پر سمینارمنعقد

0
21

ئی دہلی، 7اپریل(محمدارسلان خان):
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال علیہ الرحمہ کی81ویں برسی کے موقع پر منعقد ایک سمینار میں معروف اُدبا ودانشوروں نے علامہ اقبال ؒ کو خراج تحسین پیش کیا اورواضح کہاکہ محمد اقبالؒ نے اپنے کلام کے ذریعہ نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اجا گر کیا۔ مدرسہ رشیدیہ معرا ج العلوم بڑی مسجدقریش نگر میں’ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی حیات و خدما ت ‘ کے عنوان پر یک روزہ سمینار میں شریک ممتاز شخصیات نے علامہ اقبالؒ کی حیات مبارکہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ایک عظیم شاعر اورمفکر کے طور پر قوم ہمیشہ آپ کی احسان مند رہے گی۔معروف عالم دین مفتی شمیم احمد قاسمی کی صدارت میں منعقد سمینار کاآغاز محمد حمزہ بن محمد صابر کی تلاوت کلام الہی اور حمزہ بن سلیم کی نعت شریف سے ہوا۔اس موقع پر محمد ارحم بن ساجد،محمد سہیل بن عقیل ،محمد مصیب بن ریحان،محمد ارسلان خان ودیگر بچوں نے ڈاکٹر اقبال علیہ الرحمہ کے موضوع پر تقریر اور متعدد اشعار ودعائیں پیش کیں۔مہما ن خصو صی کی حیثیت سے شریک جمعیۃ علماء دہلی کے جنرل سیکریٹری مفتی عبد الرازق مظاہری نے اپنی گفتگو میں کہاکہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ حسا س دل و دماغ کے مالک تھے، آپ کی شاعری زندہ شاعری ہے،آپ نے اپنے کلام کے ذریعہ امت کو اتحاد،تعلیم سے واقفیت ،امن وآشتی ،قرآن و سنت سے وابستگی کاپیغام دیا،جوہمیشہ مسلمانو ں کیلئے مشعل راہ بنی رہے گی، یہی وجہ ہے کہ کلام اقبال ؒ دنیا کے ہر حصہ میں پڑھا جاتا ہے۔ مہمان ذی وقاردرگاہ حضور سید محمد نظام الدین اولیا ءؒ کے سجادہ نشین صوفی اجمل نظامی نے بتایا کہ علامہ اقبال 1905میں خوا جہ محبوب الہیؒ کی بارگاہ میں حاضری دیتی تھی اور خواجہ حسن ثانی نظامیؒ کی رہائشگاہ پر قیام فرمایااورسر علامہ اقبالؒ نے حضور خواجہ نظام الدین اولیا کی شان اقدس میں اشعار جو پیش کئے تھے وہ آج بھی درگاہ شریف کے احاطہ میں ایک دیوارپر تحریر فرما ہے۔اجمل نظامی نے مزید کہا کہ اقبال کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے اردو فارسی دونوں زبانوں میں مدح رسول اکرمؐ کو ایک نئے اسلوب اور نئے آہنگ کے ساتھ اختیار کیا،ڈاکٹر اقبالؒ کی طبیعت میں سوز و گداز اور حُب رسولؐ اس قدر تھا کہ جب بھی ذکر رسول ؐہوتا تو آپ بیتاب ہو جاتے اور دیر تک روتے رہتے تھے۔مفتی شمیم قاسمی نے اپنے خطاب میں ترانہ ہند کے خالق سر محمد اقبا ل کی زندگی کے متعدد گوشوں پر روشنی ڈالی اور کہاکہ علامہ اقبال ؒ وکالت کے ساتھ ساتھ آپ شعر و شعری بھی کرتے رہے اور سیاسی تحریکوں میں بھر پور انداز میں حصہ لیا، آپ آزادی وطن کے علمبردار تھے اور باقائدہ سیاسی تحریکوں میں حصہ لیا کرتے تھے اور ہمیشہ مسلم سماج کی تعلیم اور پسماندگی پر بہت فکر مند رہا کرتے تھے ،نیزآپکی شاعری میں جذبہ حریت کے ساتھ حب الوطنی،کچھ کر گزرنے کاجذبہ ،زبردست ولولہ وجوش ملتا ہے۔دہلی اقلیتی کمیشن کے رُکن اسرار قریشی کا کہناتھا کہ شاعر مشرق محمد اقبال ؒ کو سچا خراج عقیدت یہ ہو گا کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر یں اورنوجوان نسل کو تعلیم سے آراستہ کریں۔ آخر میں پروگرام کے کنوینر مولوی انتظار حسین مظاہری نے ملک وملت کی فلاح وبہبودگی اور بالخصوص علامہ اقبالؒ کے درجات کی مزید بلندی کی دعا فرمائے جبکہ حافظ غفران نقشبندی نے اظہار تشکر کے فرائض انجام دئے۔

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here